Wed - 2018 Oct. 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190561
Published : 22/11/2017 16:46

دودھ پیتے بچے کو اچھالنا؛مغز کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے

دودھ پینے والا بچے کو گود میں لیکر اچھالا جاتا ہے تو اس میں ظاہری طور پر نشاط و خوشی ظاہرہوتی ہے اور بچے کو خوش اور ہنستا ہوا دیکھ کر والدین کے دل میں یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کا بچہ خوش ہے اور اسے سکون مل رہا ہے،جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔


ولایت پورٹل:اسلامی جمہوریہ ایران کے مغزی امراض کے اسپیشلسٹ سرجن ڈاکٹر علی رضا زالی نے شیر خوار بچوں کو اچھالنے اور کودانے کے متعلق متوجہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ:بعض مائیں اپنے بچوں کو کھلانے اور بہلانے کے لئے اوپر اٹھاکر اچھالتی ہیں یہ عمل بہت خطرناک ہے چونکہ جب دودھ پینے والا بچے کو گود میں لیکر اچھالا جاتا ہے تو اس میں ظاہری طور پر نشاط و خوشی ظاہرہوتی ہے اور بچے کو خوش اور ہنستا ہوا دیکھ کر والدین کے دل میں یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کا بچہ خوش ہے اور اسے سکون مل رہا ہے،جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔
اس مغزی امراض کے ماہرسرجن ڈاکٹر نے ایسے والدین کو نصحیت کی ہے کہ وہ ہرگز اپنے بچوں کو بہلانے کے لئے اوپر کی سمت مت اچھالیں یہ ان کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے،چونکہ دودھ پیتے بچے کا سر اس کے پورے بدن کی نسبت زیادہ بڑاہوتا ہے اور کھوپڑی کا حجم، مغز کی نسبت متفاوت ہوتا ہے،اگر بچے کو اچھالا جائےتو ممکن ہے کہ اس کا مغز اپنی جگہ سے ہل جائے چونکہ ابھی اس کے مغزی تار محکم نہیں ہوئے ہیں لہذا یہ کام خطرناک ہوسکتا ہے،جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ سر انسان کا نہایت حساس حصہ ہے اور آپ نے اکثر ٹریفک حادثات میں دیکھا ہوگا کہ زیادہ ترمرنے والوں کی تعداد انھیں لوگوں کی ہوتی ہے جن کے سر میں کوئی ضربہ لگا ہو۔

تسنیم




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 17