Wed - 2018 August 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190567
Published : 23/11/2017 17:31

فکری انحرفات کے خلاف امام حسن عسکری(ع) کا بصیرتی جہاد

امام حسن عسکری(ع) کی سیرت پر عمل کرنے کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہم پہلے دین کے متعلق کامل آشنائی پیدا کریں پھر اس کے بعد معاشرہ میں اٹھنے والے ہر انحرافی قدم میں زنجیر ڈال دیں،اور یہ بھی فرق نہیں کرتا کہ ہم کس زمانہ میں زندگی گذار رہے ہیں اور خصوصاً وہ افراد جو مدارس دینیہ کے پروردہ ہیں انھیں امام حسن عسکری علیہ السلام کے وجود پر برکت سے الہام لیتے ہوئے معاشرہ میں پیدا ہونے والے بد عقیدتی کے طوفان کا علم و بصیرت کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیئے تبھی امام عسکری(ع) کی سیرت کا احیاء ہوسکتا ہے۔


ولایت پورٹل:انبیاء الہی اور آئمہ معصومین(ع) کی زندگی کا ایک مقصد خالص دینی تفکر کی حفاظت و حراست کرنا تھی اور یہ پروگرام پیغمبر اکرم(ص) کی بعثت اور پہلی دعوت سے ہی شروع ہوچکا تھا،چنانچہ ہمارے تمام آئمہ(ع) نے اپنے زمانہ کے شرائط اور تقاضوں کے پیش نظر اس حساس وظیفہ پر عمل کیا جیسا کہ ہم خود پیغمبر اکرم(ص) کی حیات طیبہ میں دیکھتے ہیں کہ آپ نے بہت سے منحرف گروہ؛مثلاً:دہریہ،زندیق،براھمن وغیرہ اور اسی طرح آئمہ معصومین(ع) نے بہت سے ایسے منحرف افکار والوں سے مقابلہ کیا جو ظاہر میں تو مسلمان تھے،لیکن ان کے افکار و نظریات اصل اسلامی تعلیمات کے خلاف تھے۔
چنانچہ اگر کوئی شخص یا کوئی گروہ اشتباہ اور مغالطہ میں گرفتار ہوجاتا تھا تو یہ حضرات سب سے پہلے اس کی ہدایت کرتے اور اسے صحیح بات سمجھاتے تھے لیکن جیسے ہی یہ احساس کرتے تھے کہ یہ انحرافی افکار کسی مخفی یا آشکار فتنہ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں تو آپ ان کو برملا کردیتے تھے،جیسا کہ امام علی نقی علیہ السلام  کے زمانہ میں خلق قرآن کا فتنہ عالم اسلام میں برپا ہوا اور جس کے بہت سے طرفدار پیدا ہوئے اور کچھ عباسی خلفاء نے مخالف گروہ کو شکنجہ اور آزار و اذیتیں بھی کیں،چنانچہ جس شخص نے اپنے زمانہ میں اس عقیدہ کی خاطر سب سے زیادہ کوڑے کھائے اور کافی عرصہ قید و بند میں گذارا وہ احمد بن حنبل تھے کہ جن کو خلیفہ عباسی  کی طرف سے اپنا عقیدہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔
چنانچہ امام حسن عسکری(ع) کا دور امامت بھی نہایت دشوار اور سخت دور تھا چونکہ متعدد طرح کے منحرف افکار و نظریات کو اسلامی معاشرہ میں رائج کیا جارہا تھا اگرچہ امام عسکری(ع) بڑی دشواری میں زندگی بسر کررہے تھے،لیکن آپ نے ایک لمحہ کے لئے اس امر سے صرف نظر نہیں فرمائی اور متعدد منحرف فکری مکاتب کہ جو ضد اسلامی نظریات کو اسلامی قالب میں ڈھال کر مسلمانوں کے درمیان رائج کررہے تھے آپ نے ان کا مقابلہ کیا مثلاً صوفی،غالی،مفوضہ،واقفیہ وغیرہ،لہذا آپ نے ان سب کے مقابل سخت موقف اپناتے ہوئے ان کے منحرف افکار و اعمال کو بے اثر بنادیا۔
چنانچہ مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانہ امامت میں عراق کے ایک مشہور فلسفی،اسحق کندی نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ قرآن مجید کی آیات کے درمیان تناقض و تضاد پایا جاتا ہے لہذا وہ اپنے گھر میں بیٹھ کر ایک کتاب لکھنے لگا کہ:قرآن مجید کی آیات میں تناقض و تضاد پایا جاتا ہے۔ لہذا ابن شہر آشوب بیان کرتے ہیں کہ ایک دن کندی کے شاگرد امام عکسری کے حضور شرفیاب ہوئے آپ نے اس سے فرمایا:کیا تم لوگوں کے درمیان کوئی ایسا لائق فرد نہیں ہے کہ جو اپنے استاد کی باتوں کی تردید کرکے انھیں اس کام سے روک سکے؟
اس شخص نے جواب دیا:ہم سب تو ان کے شاگرد ہیں بھلا ہم کیسے ان کی باتوں کو رد کرسکتے ہیں؟
آپ نے فرمایا:کیوں نہیں،تم یہ کام آسانی سے کرسکتے ہو۔
چنانچہ امام نے فرمایا:تم سب سے پہلے ان کے پاس جاؤ،ان کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کرو،انھیں جس چیز کی ضرورت ہو اسے مہیا کرو اور جب تم ان سے نزدیک ہوجاؤ تو ان سے کہنا کہ:استاد! میرے ذہن میں ایک سوال ہے؟ظاہر سی بات ہے وہ تم سے کہیں گے کہ بتاؤ؟ تو تم ان سے کہنا:اگر اس قرآن کا لانے والا(پیغمبر اکرم(ص) خود آپ کے پاس آئے اور آپ سے یہ دریافت کرے:کہ تم نے قرآنی آیات سے جو کچھ سمجھا ہے وہ خداوند عالم کا مقصود و مراد ہی نہ ہو؟تو جب تم یہ سوال کرو گے تو وہ اس کا مثبت جواب دیں گے!تو تم فوراً کہنا:شاید خداوندعالم نے قرآن کے بعض الفاظ کو ان کے اصل معنٰی میں استعمال نہ کرتے ہوئے کسی دوسرے معنی میں استعمال کیا ہو اور آپ اس دوسرے استعمال کو نہ جانتے ہو؟
چنانچہ وہ شخص امام عسکری علیہ السلام کی بارگاہ سے رخصت ہوکر اپنے استاد کی خدمت میں پہونچ گیا اور امام عسکری علیہ السلام کے فرمان پر عمل درآمد شروع کردیا لیکن جیسے ہی اس نے اپنے اس سوال کو کندی سے دریافت کیا تو وہ سمجھ گیا اور اس نے اپنے شاگرد سے سوال کیا میں تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں،یہ سوال تمہاری ایجاد نہیں ہوسکتا سچ بتاؤ تمہیں یہ کس نے سمجھایا ہے؟
تو شاگرد نے مجبور ہوکر کہا:یہ حسن عسکری(ع) کا فرمان تھا جو میں نے آپ تک پہونچایا ہے۔
یہ سن کر کندی نے کہا:تم نے سچ کہا:ایسی بات صرف اسی گھرانے سے مخصوص ہے لہذا اس نے جو کچھ لکھا تھا اسے جلادیا۔
غرض! امام حسن عسکری علیہ السلام کی حیات طیبہ میں اس طرح کے بہت سے واقعات ملتے ہیں کہ آپ نے اس زمانہ کے بہت سے انحرافات کا بشدت مقابلہ کیا،چنانچہ  آپ نے غالی اور مفوضہ کے منحرف عقیدوں کی آگ کو بھی ٹھنڈی کیا لہذا آپ نے عالم اسلام کی نہایت عظیم خدمت انجام دی ہے۔ چنانچہ امام حسن عسکری(ع) کی سیرت پر عمل کرنے کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہم پہلے دین کے متعلق کامل آشنائی پیدا کریں پھر اس کے بعد معاشرہ میں اٹھنے والے ہر انحرافی قدم میں زنجیر ڈال دیں،اور یہ بھی فرق نہیں کرتا کہ ہم کس زمانہ میں زندگی گذار رہے ہیں اور خصوصاً وہ افراد جو مدارس دینیہ کے پروردہ ہیں انھیں امام حسن عسکری علیہ السلام کے وجود پر برکت سے الہام لیتے ہوئے معاشرہ میں پیدا ہونے والے بد عقیدتی کے طوفان کا علم و بصیرت کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیئے تبھی امام عسکری(ع) کی سیرت کا احیاء ہوسکتا ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 August 15