Monday - 2018 Dec 10
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190570
Published : 23/11/2017 17:25

محبان اہلبیت(ع) اجلاس کے شرکاء کی رہبر انقلاب سے ملاقات:

سامراجی طاقتوں سے مقابلے کے واسطے؛جہاں بھی ہماری ضرورت ہوگی ہم مدد کریں گے:رہبر انقلاب

مسلسل ۴۰ برس سے اسلامی جمہوریہ ایران پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی گئیں لیکن اللہ کے فضل سے اس مقدس نظام نے ہر میدان میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یہ پوری طاقت کے ساتھ استعمار و صہیونیزم کے مقابل،سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑا ہے اور ہم بہ بانگ دہل یہ اعلان کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہر اس ملک کے ساتھ ہے کہ جہاں کفر و استعمار سے مقابلہ کے لئے مدد کی ضرورت ہو۔


ولایت پورٹل:رپورٹ کے مطابق آج صبح «محبان اهل بیت(ع) و مسئله تکفیریت» کے عالمی اجلاس میں،پوری دنیا سے آئے ہوئے کثیر تعداد میں علماء،اسکالرس اور دانشوروں نے رہبر انقلاب سے ملاقات کی۔
رہبر انقلاب حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای دام ظلہ نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر امت اسلامی کے اتحاد  و اتفاق کو سب سے بڑا واجب امر قرار دیتے ہوئے فرمایا:اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمشیہ مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کو اپنا منشور قرار دیا ہے اور اس میدان میں اسے عالمی استعمار اور صہیونیزم کی طرف سے شدید مقابلہ کرنا پڑا ہے اور ہم آئندہ بھی امت اسلامی کے اتحاد کی خاطر ہر استعماری چٹان سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور اللہ تعالی کی مدد سے ہم ہر میدان میں کامیاب ہونگے جیسا کہ عراق و شام میں شجر ملعونہ داعش کی جڑوں کو اس نے اپنے فضل سے کاٹ دیا ہے۔
رہبر انقلاب نے اپنے بیان میں اس امر کی بھی تاکید فرمائی:اگرچہ داعشی بساط عراق و شام میں سمٹ چکی ہے لیکن امت اسلامی کو دشمن کے فریب و چالوں سے غافل نہیں ہونا چاہیئے چونکہ امریکہ و صہیونسٹ اور ان کے بہی خواہ اسلام دشمنی سے باز نہیں آنے والے ہوسکتا ہے وہ داعش کا دوسرا ورجن کسی اور ملک میں لانچ کردیں۔
حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے بیداری اسلامی کے تقاضوں کو سمجھاتے ہوئے فرمایا:اسلامی بیداری
کا تقاضہ یہ ہے کہ تمام امت اسلامی آپس میں محبت بھائی چارگی اور اتحاد کے ساتھ رہیں اور اسلام کے دشمنوں کے مقابل سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔
رہبر انقلاب نے محبت اہل بیت(ع) کو تمام اسلامی امت کے درمیان وحدت و اتحاد کا ایک مناسب موضوع قرار دیتے ہوئے فرمایا:محبان اہل بیت(ع) کی مختلف ممالک میں ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دیگر مسلمانوں کو دنیائے اسلام کے حالات سے واقف کریں،ان میں بیداری کا جذبہ موجزن کریں اور آپسی اختلاف سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے دشمن کی مکر وفریب سے تحفظ کی راہیں دریافت کریں۔
حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کو دیگر اسلامی ممالک کے لئے بہترین آئیڈیل قرار دیتے ہوئے فرمایا:مسلسل ۴۰ برس سے اسلامی جمہوریہ ایران پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی گئیں لیکن اللہ کے فضل سے اس مقدس نظام نے ہر میدان میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یہ پوری طاقت کے ساتھ استعمار و صہیونیزم کے مقابل،سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑا ہے اور ہم بہ بانگ دہل  یہ اعلان کرتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہر اس ملک کے ساتھ ہے  کہ جہاں کفر و استعمار سے مقابلہ کے لئے مدد کی ضرورت ہو
اور ہم اس مسئلہ میں کسی مصلحت پسندی کا مظاہرہ بھی نہیں کریں گے۔
اسی طرح رہبر انقلاب نے فلسطین کو دنیائے اسلام کا اولین موضوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ:دشمنان اسلام پر فتح کی کنجی فلسطین کی مکمل آزادی ہے چونکہ کفر،استعمار اور صہیونیزم نے اس اسلامی ملک کو غصب کرکے اس سرزمین کو ،اسلام مخالف چھاونی میں تبدیل کردیا ہے لہذا اس کینسر کے پھوڑے کو اکھاڑ پھینکے بغیر عالم اسلام کو سکون میسر نہیں آئے گا۔
حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے امت اسلامی کے درمیان اختلاف فرقہ واریت کے فروغ کے پیجھے،استعماری سازش کو برملا کرتے ہوئے فرمایا کہ:انشاء اللہ وہ دن دور نہیں کہ جب فلسطین کے مظلوم و بے گھر لوگوں کے ہاتھ میں  ان کے اصل وطن کی تقدیر ہوگی اور وہی دن عالم اسلام کےلئے سب سے بڑی  و حقیقی عید ہوگی۔
نیز رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے بیان میں یہ بھی تاکید فرمائی کہ:جس دن فلسطین کی مقدس سرزمین فلسطینوں کو واپش ملے گی وہ دن در حقیقت استعمار کی کمر ٹوٹنے کا دن ہوگا اور ہم اس دن کے لئے مسلسل کوشش کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات آج صبح 11 بجے حسینہ جماران میں شروع ہوئی جو نماز ظہر تک چلی۔ رہبر انقلاب کے خطاب سے پہلے بیداری اسلامی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے اس اجلاس کی تشکیل کا اجمالاً تعارف کروایا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 10