Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190579
Published : 23/11/2017 16:23

دینی بصیرت حقیقی انتظار کی روح

منتظر نہایت سوجھ بوجھ اور بصیرت کا استعمال کرتا ہے، تاکہ جو کچھ دین میں نہیں اسے دین کے نام سے قبول نہ کرلے اور جو دین کا حصہ ہے اسے نظر انداز نہ کردے اور اس راستہ میں علماء ربانی سے مدد حاصل کرتا ہے اور کبھی بھی اہل علم اور بابصیرت دینداروں سے علیٰحدہ نہیں رہتا ہے وہ ہر روز دینی مطالعہ اور مذہبی معلومات کا تشنہ رہتا ہے اور جاہلوں اور کم عقلوں سے بہت دور رہتا ہے مگر یہ کہ ان کا کوئی اثر قبول کئے بغیر ان کو کچھ تعلیم دینے کا قصد ہو۔


ولایت پورٹل:روح انتظار کے ارکان میں سے ایک اہم رکن دینی تعلیم اور حرام و حلال اور فرائض الٰہیہ سے واقفیت بھی ہے،ایک منتظر کو اچھی طرح معلوم ہے کہ دین کی صحیح اور یقینی واقفیت کے بغیر وہ خدا و رسو ل(ص) اور امام زمانہ(عج) سے متعلق اپنے فرائض کو ادا نہیں کر سکتا ہے اس نے امام جعفر صادق(ع) کے اس قول کو اپنے دل میں بسا رکھا ہے:«لا خیر فیمن لا یتفقّہ من اصحابنا»۔(۱)۔ہمارے ساتھیوں میں سے جو کوئی دینی شعور نہ رکھتا ہو اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔
منتظر کو معلوم ہے کہ دینی شعور اور یقینی مذہبی معلومات اور حلال و حرام کو سمجھے بغیر نہ صرف یہ کہ میں خداوند عالم اور امام زمانہ(عج) سے قریب نہیں ہو سکتا بلکہ ان سے اور دور ہوجاؤں گا اور گناہوں کا مزید شکار بنوں گا،جو لوگ ظاہری اعتبار سے مذہبی ہیں اور اپنے اعمال و عبادات کو حکم شریعت کے مطابق انجام دینے میں کوتاہی کرتے ہیں اور اپنے مزاج اور خواہش کے مطابق دین پر عمل کرتے ہیں وہ امام زمانہ(عج) کو خوش کرنے کے بجائے آپ کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور حضرت(عج) کے دل کو مغموم کرتے ہیں،ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ خود حضرت اپنے نادان،جاہل اور بد عمل شیعوں سے کس طرح شکوہ کرتے ہیں:«قد آذانا جھلاء الشیعة و حمقائھم ومن دینه جناح البعوضة ارجح منه»۔(۲)۔شیعوں میں جاہل، کم عقل اور جس کا دین و ایمان مچھر کے پر سے بھی ہلکا ہے یہی وہ لوگ ہیں جن سے ہمیں تکلیف پہنچ رہی ہے۔
افسوس ہے اس کے حال پر جس کا امام اس سے شکایت کرے، خدا کی پناہ کہ کوئی شخص دینداری اور حضرت(عج) کی محبت کا دعویٰ کرے مگر اس کی دینداری اور طرز عمل اور انداز محبت سے امام زمانہ(عج) نیز دوسرے معصومین(ع) کو تکلیف ہوتی ہو اور وہ ان کی محبت و قربت حاصل کرنے کے بجائے ان کو ناراض کرے اور ان کی لعنت یا غضب کا مستحق بن جائے۔
دانش اندوز و ادب ورز کہ در مجلس او       ہر کہ را نیست ادب لایق صحبت نبود۔(۳)
ترجمہ:حاصل کرو اور با ادب بنو اس لئے کہ جو مہذب نہیں ہوتا ہے ان کی محفل میں اس سے بات بھی نہیں کی جاتی ہے۔
اس لئے سچا اور حقیقی منتظر وہ ہوتاہے کہ جس کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ اپنے اخلاق و کردار اور اعمال و عقائد کو احکام دین اور معصومین(ع)کی تعلیمات کے مطابق ڈھال لے۔ وہ اپنے ذوق کے مطابق دیندار نہیں رہتا ہے اور اپنی یا دوسروں کی ہویٰ و ہوس کا تابع نہیں ہے بلکہ ہر کام کرنے سے پہلے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس بارے میں حکم شریعت کیا ہے؟ منتظر کی زندگی رسالۂ عملیہ کے مطابق گذرتی ہے اور وہ من چاہے اور جاہلانہ طرز عمل سے بالکل دور رہتا ہے تاکہ اس کا مولا اس کے اعمال و کردار اور اس کی پوری شخصیت سے خوش ہوجائے اور وہ ان کے سچے اور حقیقی دوستوں میں شامل ہوجائے۔
گر طالب لقای امامی بہ علم کوش     اھل نظر معاملہ با آشنا کنند۔(۴)
ترجمہ:اگر امام(عج) کی ملاقات کے خواہش مند ہو تو علم کے میدان میں محنت کرو کہ اہل نظر ہمیشہ جان پہچان والوں سے معاملات رکھتے ہیں۔
منتظر نہایت سوجھ بوجھ اور بصیرت کا استعمال کرتا ہے، تاکہ جو کچھ دین میں نہیں اسے دین کے نام سے قبول نہ کرلے اور جو دین کا حصہ ہے اسے نظر انداز نہ کردے اور اس راستہ میں علماء ربانی سے مدد حاصل کرتا ہے اور کبھی بھی اہل علم اور بابصیرت دینداروں سے علیٰحدہ نہیں رہتا ہے وہ ہر روز دینی مطالعہ اور مذہبی معلومات کا تشنہ رہتا ہے اور جاہلوں اور کم عقلوں سے بہت دور رہتا ہے مگر یہ کہ ان کا کوئی اثر قبول کئے بغیر ان کو کچھ تعلیم دینے کا قصد ہو۔
امام جعفر صادق(ع) کا ارشاد گرامی ہے:«العالم بزمانه لا تھجم علیه اللوابس»۔(۵)۔اپنے زمانہ کے حالات سے واقفیت رکھنے والے پر شکوک و شبہات حملہ آور نہیں ہوتے ہیں۔
امام جعفر صادق(ع) کے اس قول کے مطابق حقیقی منتظر اپنے زمانہ سے واقف ہوتا ہے، خطرات کو محسوس کرتا ہے، زمانہ کے فتنوں اور فتنہ گری کو اچھی طرح سمجھتا ہے اس کے اور دوسروں کے لئے جو جال بچھائے گئے ہیں ان کی خبر رکھتا ہے اور ایمان، اپنے مولا کی محبت، نیز اپنے مقصد اور ذمہ داریوں سے واقفیت کی وجہ سے فتنوں میں گرفتار ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔اصول کافی، ج۱، ص۳۳۔
۲۔بحار الانوار،ج۲۵، ص۲۶۶۔  
۳۔شوق مہدی،فیض کاشانی، ص۱۲۵۔
۴۔گذشتہ حوالہ، ص۱۲۴۔
۵۔اصول کافی،  ج۱،ص۲۶۔



 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20