Friday - 2018 Dec 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190581
Published : 23/11/2017 17:7

استعماری طاقتوں کو حزب اللہ کیوں کھٹکتی ہے؛ایک تجزیہ

سعد حریری کو تو وہ کرنا تھا جو آل سعود اسے کہتے،البتہ سعودی عرب کو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ حزب اللہ،سعد حریری نہیں ہے،کہ ان کی مرضی پر چکر لگائے، جب وہ امریکہ اور اسرائیل کی نہیں مانتی تو سعودی شہزادوں کی اس کی نظر میں کیا وقعت؟


ولایت پورٹل:حزب اللہ کے گناہوں کی فہرست بہت طویل ہے،پہلی بات یہ کہ اُس کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے،یہ امر بھی قابلِ معافی ہوتا اگر یہ لبنانی تنظیم اتنی جنگجو (militant) نہ ہوتی،حزب اللہ نے لیکن اپنا لوہا میدانِ حرب میں منوایا ہے،دیگر عرب فوجوں کے برعکس۔ جنہیں ہر معرکہ میں اسرائیل کے ہاتھوں شکست اُٹھانی پڑی۔ حزب اللہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ واحد فوجی طاقت ہے جس نے اسرائیل سے نہ صرف برابر کی لڑائی لڑی بلکہ اُسے پسپائی پہ مجبور بھی کیا، یہ اعزاز کسی اور عرب فوج کو حاصل نہیں۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ حزب اللہ ایران کے قریب ہے،ایران اس کی مدد کرتا ہے،یہ قدر تو دونوں میں مشترک ہے کہ اِن کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے،لیکن اس سے بڑھ کے وجہِ اشتراک ان کی اسرائیل اور امریکہ دشمنی ہے،بیشتر عرب ممالک نہ صرف امریکہ کے قریب ہیں بلکہ امریکہ ان کا گاڈ فادر اور محافظ بھی ہے،بیشتر عرب ممالک کی اسرائیل سے دشمنی الفاظ کی حد تک ہے،عملاً وہ اس سے سمجھوتہ کر چکے ہیں،وہ اسرائیل یا امریکہ کے خلاف کوئی قدم اٹھانا تو دور کی بات، الفاظ کی حد تک بھی کچھ نہیں کہہ سکتے،حزب اللہ اور ایران البتہ کئی لحاظ سے اسرائیل اور امریکہ سے برسر پیکار ہیں۔
ہم نے دیکھا کہ شام میں کیا صورتحال بنی،امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں بشار الاسد کو گرانا چاہتی تھیں،لیکن حزب اللہ بشارالاسد کی مدد کو پہنچی اور اس کے فوجی دستوں نے مملکتِ شام میں جاکے لڑائی میں حصہ لیا اور جانوں کا نذرانہ پیش کیا،یہی کچھ ایران نے کیا، اور روس بھی اپنی فوجی طاقت کے ساتھ بشارالاسد کے ساتھ کھڑا ہوگیا،شام میں مکمل طور پہ امن قائم نہیں ہوا، لیکن جو خانہ جنگی 2011ء سے شروع ہوئی، اس میں اب بشار الاسد کا پلڑا بھاری ہے اور انہیں ہٹانے کی تمام تر تدبیریں ناکام ہو چکیں ہیں۔
اگر روس، ایران اور حزب اللہ ایک طرف تھے تو دوسری طرف امریکہ، سعودی عرب، قطر اور کچھ حد تک ترکی وغیرہ تھے۔ گو ترکی حالات کے جبر کے پیش نظر اپنی پالیسی میں تبدیلی لایا ہے اور صدر طیب اردوغان اب وہ نہیں کہتے جو وہ پہلے کہتے تھے یعنی:بشارالاسد کو جانا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اس تمام صورتحال سے سعودی عرب سخت پریشان ہے۔
شام میں بشارالاسد کی کامیابی کو وہ بجا طور پہ ایران اورحزب اللہ کی کامیابی سمجھتا ہے،عراق میں کئی حوالوں سے ایران کا اثر و رسوخ موجود ہے،آخر ایرانی فوجی دستوں نے داعش کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے،ایران کے جنرل قاسم سلیمانی نے عراق اور شام دونوں میں فوجی
کارروائیوں کی رہنمائی کی ہے،یمن میں دو سال پہلے سعودی عرب نے اپنے چند عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر حملہ اس لئے کیا تھا کہ حوثیوں (Houthi) کا قبضہ ملک کے شمال سے چھڑایا جائے،لیکن جلد نتائج کی بجائے سعودی فوجی مداخلت الٹا کارگر ہی ثابت نہ ہوئی اور سعودی عرب یمن میں تقریباً پھنسا ہوا ہے،بجائے کسی ایک محاذ پہ توجہ دینے کے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کئی محاذ کھول لئے ہیں،یمن میں مداخلت کے وہی روح رواں تھے،پھر اُنہوں نے قطر کو تائب کرنے کی کوشش کی، مصر اور عرب امارات اُن کی اس کاوش میں معاون تھے،قطر سے مخالفت اس بنا پہ کی گئی کہ اس کے تعلقات ایران سے ہیں اور وہ ایسی تنظیموں کی مالی معاونت کرتا ہے جن سے مصر وغیرہ کو شکوہ ہے،یہ بیرونی محاذ ابھی گرم تھے کہ شہزادہ محمد نے ایک اندرونی محاذ بھی کھول ڈالا، جواز کرپشن کو بنایا گیا، حالانکہ عام تاثر یہی ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان اندرونی اقدامات کی بازگشت ابھی سنائی دے رہی تھی کہ پرنس محمد نے ایک اور کارنامہ کر دکھایا،لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری کو ریاض بلایا گیا،اور مبینہ طور پہ دباؤ کے تحت اُن سے استعفیٰ کا اعلان کروایا گیا،فرانسیسی صدر ایمونیل میکرون اُن کی مدد کو آئے اور پھر سعد حریری کو فرانس بھیج دیا گیا،آخر یہ ڈرامہ کیوں رچایا گیا؟ کیونکہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ لبنان میں ایسی سیاسی تبدیلی آئے جس سے حزب اللہ کا اثر کم ہو اور لبنانی حکومت میں حزب اللہ کے نمائندے اپنی وزارتیں چھوڑ دیں،یہ بچگانہ خواہش ہے کیونکہ حزب اللہ لبنان میں نہ صرف ایک حقیقت ہے بلکہ سب سے مؤثر فوجی طاقت بھی اُسی کی ہے،سعد حریری تو بے بس تھا،وہ بیک وقت لبنان اور سعودی عرب کی شہریت رکھتے ہیں،اُن کی تعمیراتی کمپنی «اوجر» (Oger) مالی مشکلات میں پھنسی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں اپنے ملازمین کی تنخواہیں نہیں دے پا رہی۔
سعد حریری کو تو وہ کرنا تھا جو آل سعود اسے کہتے،البتہ سعودی عرب کو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ حزب اللہ،سعد حریری نہیں ہے،کہ ان کی مرضی پر چکر لگائے، جب وہ امریکہ اور اسرائیل کی نہیں مانتی تو سعودی شہزادوں کی اس کی نظر میں کیا وقعت؟
یاد رہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان کے ایک ٹکڑے پہ قابض تھا اور اُس سے دستبردار ہونے والا نہیں تھا،لیکن حزب اللہ نے ایسی مزاحمتی تحریک چلائی کہ اسرائیل وہ علاقہ خالی کرنے پہ مجبور ہو گیا، پھر 2006ء میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان باقاعدہ جنگ ہوئی،مہینہ بھر جنگ رہی اور اسرائیل،جو مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی فوجی طاقت شمار کیا جاتا تھا چنانچہ جو کچھ اُس کے پاس تھا اس نے اس جنگ میں جھونک دیا،بیروت اور دیگر شہروں پہ بے پناہ ہوائی بمباری ہوئی۔ 1200 کے لگ بھگ لبنانی شہری اُس بمباری میں ہلاک ہوئے، لیکن میدان میں حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کو مزہ چکھا دیا۔ جنگ میں تقریباً ڈیڑھ سو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے جو کہ اسرائیل کے لئے بہت بھاری نقصان تھا،جیسا ہمارا ٹینک الخالد ہے، ویسا اسرائیل کا بھاری ٹینک «مرکاوا» ہے۔ ایسے کئی معرکے ہوئے جس میں «مرکاوا» آتے تھے اور حزب اللہ کے مجاہدین نزدیک جا کر ٹینک شکن میزائلوں سے انہیں نشانہ بناتے تھے۔چنانچہ ایک قصہ اسرائیلی اخبار Haaretz میں جنگ کے کچھ دن بعد رپورٹ ہوا۔ ایک اسرائیلی جرنیل نوجوان فوجی افسروں سے مخاطب تھا،اُس نے حزب اللہ کو برا بھلا کہا،نوجوان فوجی افسروں نے کہا: ہم حزب اللہ سے لڑے ہیں اور وہ بہادر سپاہی ہیں،یہ تب کی بات تھی۔ اب سرزمینِ شام میں کامیاب فوجی حکمتِ عملی کے بعد حزب اللہ کی حیثیت کو مزید تقویت ملی ہے۔
ہماری فوج کے افسران بڑے شوق سے امریکہ اور برطانیہ میں کورس کرنے جاتے ہیں،وہ وہاں سے کیا سیکھ کر آئیں گے؟ہمیں تو سبق حزب اللہ کی تاریخ سے سیکھنا چاہیئے، کیسے وہ منظم ہوئی، اُس کی قیادت کا کیا کردار رہا ہے اور وہ اسرائیل اور امریکہ کے سامنے کیسے ڈٹی ہوئی ہے،ہاں! جاتے جاتے ایک بات اور یاد دلانا چاہوں گا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا بیٹا بھی ایک معرکہ میں مارا گیا۔ معرکہ میں اور ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ حسن نصراللہ جب ہلاکتیں دیکھنے گئے تو اپنے بیٹے کا چہرہ اتنی دیر ہی دیکھا جتنا کہ دوسرے مجاہدین کے چہروں کو۔ روئے ہوں گے تو اکیلے میں، سامنے آنسو نہ بہائے۔
چیئرمین ماؤ کا ایک بیٹا کوریا کی جنگ میں مارا گیا،کیونکہ جنگ جاری تھی،یہ خبر چیئرمین ماؤ سے چھپائی رکھی گئی،کچھ عرصہ بعد کوریا میں چینی افواج کا کمانڈر چیئرمین ماؤ سے ملنے آیا اور بغیر سوچے کہہ بیٹھا: مجھے افسوس ہے کہ آپ کے بیٹے کی حفاظت نہ کر سکا۔
اس دن چیئرمین ماؤ کو اپنے بیٹے کی ہلاکت کا پتہ چلا،چہرے کا رنگ اڑ گیا، سکتے میں آئے لیکن جلد ہی اپنے آپ پہ قابو پا لیا اور گفتگو جاری رکھی۔پھر بیٹے کا ذکر تک نہ کیا،ہمیں نصیب ہوئی ہیں اقاموں کی ماری قیادتیں۔
لیکن ہمارے عرب مہربانوں کو بھی دیکھیئے، حیرت میں پڑی ہوئی ہے دنیائے اسلام، لیکن کوئی ڈھنگ اور ہمت کے لوگ اُبھرتے ہیں تو وہ اُنہیں برداشت نہیں کر سکتے۔
سلام ہو حزب اللہ کے جوانوں پر جو صرف اللہ کی خوشی کی خاطر سربکفن رہتے ہیں۔

ایاز میر
دنیا نیوز
   


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Dec 14