Tuesday - 2018 August 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190596
Published : 25/11/2017 16:21

امام حسن عسکری علیہ السلام کا علی ابن بابویہ کے نام خط؛اور علماء کی ذمہ داریاں

میرے قابل احترام ،قابل اعتماد اور فقیہ ابو الحسن علی بن الحسین علی بن بابویہ قمی خدا تم کو اپنی مرضی کے مطابق کامیاب و کامران فرمائے ،اپنی رحمت اور تقویٰ کے ذریعہ تمہارے صلب میں نیک اولاد قرار دے۔نماز قائم کرو ،زکات ادا کرو ،اپنے گناہوں سے استغفار کرو ،غصہ کو پی جاؤ ،صلہ رحم کرو ،اپنے بھائیوں کے ساتھ مو اسات کرو۔


ولایت پورٹل:حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے نے فقیہ ،عالم جلیل ابو الحسن علی بن الحسین بن موسیٰ بن بابویہ قمی شیعوں کے عظیم الشان عالم ، علم حدیث ،علم فقہ اور دوسرے تمام اسلامی علوم میں متبحر شخصیت کو ایک خط تحریر فر مایا جس میں بسم اللہ کے بعد یوں تحریرہے :
تما م تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو عالمین کا رب ہے ،عاقبت متقین کے لئے ہے جنت موحدین کے لئے ہے ،ظالمین کے علاوہ کو ئی دشمن نہیں ہے ،احسن الخالقین اللہ کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور درود وسلام ہو سب سے افضل مخلوق محمد(ص) اور آپ کی طیبہ و طاہرہ عترت پر۔
اما بعد:
میں تمہیں وصیت کرتاہوں،اے میرے قابل احترام ،قابل اعتماد اور فقیہ ابو الحسن علی بن الحسین علی بن بابویہ قمی خدا تم کو اپنی مرضی کے مطابق کامیاب و کامران فرمائے ،اپنی رحمت اور تقویٰ کے ذریعہ تمہارے صلب میں نیک اولاد قرار دے۔نماز قائم کرو ،زکات ادا کرو ،اپنے گناہوں سے استغفار کرو ،غصہ کو پی جاؤ ،صلہ  رحم کرو ،اپنے  بھائیوں کے ساتھ مو اسات کرو اور ان کی پریشانیوں میں حاجتیں پوری کرنے کی کو شش کرو ،ان کی جہالت و نادانی کے مو قع پر بردبار بنو،دین میں تدبر کرو،اپنے امور میں ثابت قدم رہو ،قرآن کے لئے ان سے معاہدہ کرو ،حُسنِ خُلق سے پیش آؤ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو ،اللہ عزّ و جلّ فرماتا ہے:{لاَخَیْرَ فِی کَثِیرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلاَّ مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلاَحٍ بَیْنَ النَّاس}.{سورہ نساء:۱۱۴}
ترجمہ:ان لوگوں کی اکثر راز کی باتوں میں کوئی خیر نہیں ہے مگر وہ شخص جو کسی صدقہ، کار خیر یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے۔
تمام برائیوں سے اجتناب کرو ،تم پر نماز شب پڑھنا واجب ہے کیوں کہ رسول خدا(ص)نے حضرت علی(ع)کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا ہے:اے علی(ع) تم پر نماز شب پڑھنا واجب ہے (اس جملہ کی آپ(ص)نے تین مرتبہ تکرار فرمائی)اور نماز شب کو سبک شمار کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے ،میری وصیت پر عمل کرو، میرے شیعوں کو اس کا حکم دو یہاں تک کہ وہ اس پر عمل کرنے لگیں ،تم پر صبر اور انتظار فرج کرنا واجب ہے ،کیوں کہ رسول اللہ(ص) کا فرمان ہے:میری امت کا سب سے افضل عمل انتظار فرج ہے شیعہ ہمیشہ  حزن و الم میں رہیں گے یہاں تک کہ میرا وہ فرزند ظہور کرے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی، اے میرے قابل احترام فقیہ علی بن بابویہ قمی! صبر کرو اور شیعوں کو صبر کرنے کامیرا حکم پہنچاؤ چونکہ خداوند عالم کا فرمان ہے:{إِنَّ الْأَرْضَ لِلّٰهِ یُورِثُهَا مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ }۔{سورہ اعراف:۱۲۸}
ترجمہ:زمین خدا کے لئے ہے وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے وارث بناتاہے اور انجام کار بہر حال صاحبانِ تقویٰ کے لئے ہے۔
اس خط سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں:
۱۔امام حسن عسکری علیہ السلام نے فقیہ معظم علی بن الحسین کے بلند مقام کی طرف اشارہ فرمایاکہ امام نے اُن کو اُن کریم صفات سے متصف فرمایا ہے جو امام(ع) کے نزدیک ان کی عظیم شان و منزلت پر دلالت کر تی ہیں، علماء رجال اور مؤرخین سے روایت ہے کہ آپ بزرگ فقہاء میں سے تھے ،آل محمد(ص) کی جانب رہنمائی کرنے والوں میں سے تھے ،امور دین کے سلسلہ میں بہت ہی غیور ،ملحدین کی بنیادوں کو نیست و نابود کردینے والے، ارکانِ شریعت میں سے تھے ،آپ اتنے مؤثق اور بلند مقام و منزلت کے حامل تھے کہ فقہائے امامیہ آپ سے فتاویٰ اخذ کرتے اور جب نصوص و روایات میں اختلاف ہوتا تھا آپ ہی پر اعتماد کرتے تھے جیسا کہ اسی مطلب کا شہید اول نے اپنی کتاب«الذکریٰ»میں اشارہ کیا ہے۔
۲۔امام(ع) نے اس خط میں علی بن بابویہ قمی کے لئے نیک و صالح اولاد کے لئے دعا فرمائی ہے،خدا نے آپ کی دعا مستجاب فرمائی اور آپ کو ابو جعفر محمد فرزند عطا کیا جس کا لقب صدوق رکھا گیا جو امت میں فضل کے اعتبار سے علماء مسلمین کی ایک عظیم میراث ہے،آپ نے شریعت کو زندہ کیا ،ائمہ طاہرین(ع) کے آثار مرقوم کئے تین سو سے زیادہ کتابیں تالیف فرمائیں، جن میں آپ(ع) کی کتاب«من لا یحضرہ الفقیه»سر فہرست ہے جوبہت ہی بڑی کتاب ہے اور امامیہ فقہاء کے نزدیک معتمد و معتبر کتاب ہے۔
۳۔بے شک یہ خط امام (ع) کی با ارزش وصیتیں،مکارم اخلاق ،محاسن صفات ،صلۂ رحم برادران میں مواسات و برابری ،لوگوں کی حاجت روائی ،امور دین میں غور و فکر اوردیگر امور میں تلاش و جستجو کرنے کی رغبت دلاتاہے۔
۴۔امام حسن عسکری علیہ السلام نے شیعوں کو فرج اور ظہور قائم آل محمد(ص) کے انتظار کا حکم دیا جو مستضعفین اور محرومین کی آرزو ہیں،جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے ،اپنی حکومت کے دوران کلمۃ اللہ کو بلند کریں گے اور اپنے جد امجد رسول اللہ(ص) کی حکومت کو جا ری رکھیں گے ...
۵۔حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا یہ خط اگرچہ اس زمانہ کے معروف عالم دین کے نام تحریر کیا گیا ہے،لیکن حضرت نے علماء اسلام کی اہم خصوصیات کی طرف رہنمائی فرمائی ہے کہ ایک عالم کو کس طرح اپنے معاشرہ میں دینی اقدار کا تحفظ اور ان کی پابندی کرنی چاہیئے،نیز زمانہ غیبت میں علماء کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے ماحول کو حضرت ولیعصر(عج) کے ظہور مبارک کے لئے تیار کریں۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 August 14