Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190601
Published : 25/11/2017 19:4

امام حسن عسکری(ع) اور مسئلہ غیبت

غیبت کی راہ ہموار کرنے میں امام حسن عسکری(ع) کے اہم اقدامات میں سے خود آپ کا وکالتی سسٹم کو فعال کرنا تھا اگرچہ یہ نظام وکالت امام جعفر صادق(ع) کے دور امامت سے شروع ہوا اور ہر امام نے ضرورت کے پیش نظر اس سسٹم کو مزید قوی بنایا اور جب یہ سسٹم امام حسن عسکری(ع) کے زمانہ تک پہونچا تو یہ منسجم پیغام رسانی کا محکم ذریعہ بن چکا تھا۔


ولایت پورٹل:آئمہ اطہار علیہم السلام پر عباسیوں کی طرف سے آزار و اذیت نیز اسلامی سماج کا امامت مہدی موعود(ع) کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہ ہونے کے سبب،الہی مشیت اس طرح قرار پائی کہ پیغمبر اکرم(ص) کے آخری وصی بر حق غیبت اختیار کرلیں،تاکہ آپ حوادث زمانہ کے مسموم ارادوں سے محفوظ رہ سکیں اور کسی مناسب موقع پر لوگوں کے درمیان تشریف لائیں تاکہ لوگ شعوری طور پر آپ وجود پرنور سے فیضیاب ہوں
چونکہ امام زمانہ(عج) کی غیبت ایک حساس موضوع تھا جس کے لئے خاص تیاریوں کی ضروت تھی تاکہ لوگ دین میں انحراف یا تشویش کا شکار نہ ہوجائیں لہذا امام حسن عسکری علیہ السلام نے امام عصر(عج) کی غیبت کے لئے لوگوں کے اذہان کو آمادہ کرنے کے لئے نہایت اہم اور حکیمانہ اقدام کئے لہذا ہم اس مقالہ میں ان میں سے کچھ کا اجمالاً خاکہ پیش کررہے ہیں:
غیبت امام عصر(عج) کی خبریں
امام زمانہ(عج) کی غیبت کی راہ کو ہموار کرنے کے لئے امام حسن عسکری علیہ السلام کے نہایت ہی اہم اقدام میں سے ۔۔ کہ خود جس کا آغاز زمانہ غیبت سے بھی برسوں پہلے ہوا۔۔ ایک اپنے جانشین برحق کی غیبت کے متعلق اپنے چاہنے والوں کو باخبر کرتے رہنا ہے اور اس طرح آپ نے اپنے زمانے کے لوگوں کو مسئلہ غیبت کو تسلیم کرنے پر آمادہ کیا۔
چنانچہ موسوی بغدادی نقل کرتے ہیں:میں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو بارہا فرماتے ہوئے سنا ہے:گویا میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم میرے بعد میرے جانشین کے بارے میں شش پنج کا شکار ہورہے ہو،آگاہ ہوجاؤ! جو شخص رسول خدا(ص) کے بعد تمام آئمہ(ع) کی امامت و ولایت کا اقرار کرے لیکن میرے بیٹے کی امامت کا منکر ہو،وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جو جملہ انبیاء کرام کی نبوت کا تو اقرار کرتا ہے لیکن خود سرور کونین(ص) کی رسالت کا منکر ہو؛چونکہ ہمارے سب سے آخر والے کی اطاعت،ہمارے سب سے پہلے والے کی اطاعت کے مانند ہے،اور ہمارے آخری کا منکر ہمارے اولین کے انکار کرنے والے کی مانند ہے۔آگاہ ہوجاؤ!میرے بیٹے کے لئے ایک طویل غیبت درپیش ہوگی کہ جس میں معدودے کچھ لوگوں کے علاوہ اکثر لوگ شک و تردید میں مبتلاء ہوجائیں گے۔(۱)
علی ابن ہمام محمد بن عثمان عمری سے اور وہ اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ:میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں اس لئے شرفیاب ہوا تاکہ میں حضرت سے آپ کے آباء کرام سے منسوب اس حدیث کی حقیقت معلوم کرسکوں:یہ زمین قیامت تک حجت الہی سے خالی نہیں رہے گی چنانچہ جو اپنے امام وقت کو پہچانے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرے گا!
حضرت امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا:یہ کلام،اسی طرح حق ہے،جس طرح اس وقت روز روشن کا طلوع ہونا حقیقت رکھتا ہے!
چنانچہ میں نے سوال کیا:اے فرزند رسول خدا(ص)!پس آپ کے بعد ہمارا امام اور اللہ کی حجت کون ہیں؟فرمایا:میرا بیٹا محمد!،میرے بعد تمہارا امام اور تم پر اللہ کی حجت ہے اور جو شخص اس کی معرفت کے بغیر مرجائے وہ جاہل اس دنیا سے جائے گا،آگاہ ہوجاؤ کہ اسے ایک طویل مدت غیبت میں رہنا ہوگاکہ جس میں نادان سرگران و پریشان ہونگے اور جو بھی اس کے ظہور کے لئے کسی وقت کو میعن کرے وہ جھوٹا ہے۔(۲)
امام عسکری(ع)کے لوگوں سے رابطہ کی کیفیت
امام حسن عسکری(ع) کے زمانہ میں لوگوں کے اذہان اور خصوصاً شیعوں کے ذہن امر غیبت کے بارے میں آمادہ نہیں تھے لہذا آپ نے تمام آئمہ اور بالخصوص اپنے والد ماجد امام علی نقی علیہ السلام کی نسبت زیادہ تیاری کے لئے مقدمات فراہم کئے، چنانچہ آپ صرف انھیں دنوں میں گھر سے باہر نکل پاتے تھے کہ جب معتمد چاہتا یا وہ کسی کو اذن ملاقات دیتا یا آپ کسی مصلحت کی بنا پر کسی سے ملاقات کرتے تھے اور بس!(یعنی امام سامرہ میں تھے لیکن اپنے چاہنے والوں کی نظروں سے غائب)اور جسیا کہ مسعودی نقل کرتے ہیں کہ اکثر اوقات امام عسکری اپنے چاہنے والوں کے سامنے بھی نہیں آتے تھے بلکہ پردہ کے پیچھے سے ان سے ہمکلام ہوتے تھے۔(۳)
امام حسن عسکری اور امام ہادی(ع)  کا یہ عمل خود آپ کے شیعوں کے لئے غیبت امام عصر(عج) کی تمہید تھا تاکہ شیعہ غیبت سے عملاً مانوس ہوسکیں اور غیبت کے منکر نہ ہوجائیں،چونکہ اگر امام عصر کی غیبت اتفاقی طور پر پیش آتی تو شیعوں کے لئے اس کو قبول کرنا نہایت دشوار مرحلہ تھا اور ممکن ہے کہ خود امام عسکری(ع) کے خاص اصحاب کے لئے بھی غیبت کو درک کرنا آسان نہ ہوتا،اب عام لوگوں کے بارے میں تو کیا کہا جا سکتا ہے کہ جنہیں کافی عرصہ کے بعد،اپنے امام سے رابطہ کا موقع فراہم ہوتا تھا،بلکہ حالات اتنے سخت تھے کہ خود سرکار ولیعصر(عج) کے اصل وجود کے بارے میں ہی لوگ شک و تردید کا شکار ہوسکتے تھے۔
وکالتی سسٹم کی تشکیل اور مسئلہ غیبت
غیبت کی راہ ہموار کرنے میں امام حسن عسکری(ع) کے اہم اقدامات میں سے خود آپ کا وکالتی سسٹم کو فعال کرنا تھا اگرچہ یہ نظام وکالت امام جعفر صادق(ع) کے دور امامت سے شروع ہوا اور ہر امام نے ضرورت کے پیش نظر اس سسٹم کو مزید قوی بنایا اور جب یہ سسٹم امام حسن عسکری(ع) کے زمانہ تک پہونچا تو یہ منسجم پیغام رسانی کا محکم ذریعہ بن چکا تھا۔
یقیناً آئمہ علیہم السلام کی جانب سے سسٹم وکالت کی تشکیل،شیعوں کو عصر غیبت کی جدید حقیقت سے آشنا اور اسے قبول کرنے کے لئے تیار کرنا تھا،ایک ایسا زمانہ کہ جس میں شیعہ اپنے امام سے صرف وکیل و سفیروں کی وساطت سے رابطہ رکھ سکتے تھے،اور یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے شیعہ عصر غیبت سے نزدیک ہوتے جارہے تھے ان کا امام سے مستقیم اور ڈائریکٹ رابطہ محدود سے محدود ہوتا چلا جارہا تھا۔لہذا ان حالات میں ضروری تھا کہ وکالتی سسٹم کو مزید مضبوط کیا جائے چنانچہ اسی تناظر میں امامین عسکریین(ع) کے دور میں اکثر ان دو بزرگواروں سے شیعوں کے روابط خطوط اور وکلاء و نمائیندوں کی وساطت سے ہی انجام پاتے تھے لہذا ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ امام علی نقی اور امام حسن عسکری(ع) کے زمانہ میں وکالتی سسٹم کو اسی وجہ سے مزید مضبوط کیا گیا کہ شیعہ عصر غیبت میں مشکلات سے دوچار نہ ہوں۔(۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔اکمال الدین و إتمام النعمة،ج2، ص119.
۲۔سابق حوالہ،ص118.
۴۔خورشید سامرا، ص214.، به نقل از اثبات الوصیة.
۴۔ تاریخ عصر غیبت، ص141.





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13