Monday - 2018 Oct. 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190621
Published : 26/11/2017 19:8

شہادت امام حسن عسکری(ع)

آپ(ع) کی شہادت اس دور کے مسلمانوں کے لئے ایک عظیم مصیت تھی، وہ اپنی مصلحتوں کی رعایت کرنے والے اپنے قائد،مربی اور مصلح سے محروم ہوگئی۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! یوں تو عباسیوں نے آل محمد(ع) پر بنی امیہ سے بھی زیادہ مصیبتیں ڈھائیں،چنانچہ امام علی نقی اور امام عسکری(ع) کی پوری زندگی حکومت عباسی کے زیر نظر گذری یہاں تک کے آپ کو اپنے چاہنے والوں سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں تھی یوں تو بنی عباس کے خلفاء میں سے ہر ایک ہی ظلم و بربریت میں اپنی مثال آپ تھا لیکن امام عسکری(ع) کے دور کا آخری خلیفہ معتمد تھا،جس نے پچیس کی عمر میں خلافت سنبھالی،وہ اپنے ماں باپ کا نافرمان بیٹا اور لہو لعب میںمشغول رہتا تھا۔اس نے رعایا کے امور انجام دینے سے چشم پوشی کر لی تھی اسی وجہ سے قبائل اس کو بری نظر سے دیکھنے لگے تھے۔
اس کے عہد حکومت میں امام حسن عسکری(ع) کو بہت ہی زحمت و مشقت اور سختیوں کا  سامنا کرناپڑا،اُس نے امام کو نظر بند کرنے کا حکم دے دیا اور دروغہ زندان سے کہا کہ وہ امام کے متعلق تمام اخبار و واقعات اور ان کی گفتگو کی خبریں اُن تک پہنچایا کرے، دروغہ زندان نے معتمد کو خبر دی کہ امام (ع) نے عباسی سیاست کے خلاف کوئی بھی عمل انجام نہیں دیا، انھوں نے تو دنیا کو خیر باد کہہ دیا ہے ،وہ دن میں روزہ رکھتے ہیں اور رات عبادت میں بسر کرتے ہیں ، اُس (معتمد )نے دوسری مرتبہ پھر داروغہ  زندان سے امام(ع) کے سلسلہ میں معلومات حاصل کیں تو اس نے پہلے کی طرح خبر دی تو معتمد نے امام(ع)کو قید سے آزاد کرنے اور ان سے عذر خواہی کا حکم دیا،داروغہ زندان نے امام(ع) کو قید سے آزاد ہونے کی خبر دینے میں جلدی سے پہنچا تو اس نے دیکھا کہ آپ ؑ وہاں سے نکلنے کے لئے اپنا لباس اور نعلین وغیرہ پہن کر آمادہ ہو گئے ہیں ،داروغہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اس نے امام(ع) کی خدمت میں معتمد کا خط پیش کیا، قید خانہ میں آپ(ع) کے ہمراہ آپ کا جعفر نام کا بھائی تھا۔ امام (ع) اس وقت تک قید خانہ سے باہر نہیں آئے جب تک آپ(ع) نے اپنے بھائی جعفر کو قید خانہ سے آزاد نہیں کروالیا۔
بہر حال امام(ع) نے اس سرکش کے دور میں بہت سخت حالات کا سامنا کیا،آپ کو بہت سی فوجیں گھیرے رہتی تھیں جس میں آپ کو سانس لینا دو بھر ہو گیا تھا اور آپ کے شیعہ آپ کی ملاقات سے دور ہو گئے۔
امام عسکری علیہ السلام پر قاتلانہ حملہ
عباسی سرکشوں پر امام عسکری علیہ السلام کا وجود مبارک بہت گراں گذرنے لگے حا لانکہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ آپ تقدس و تعظیم میں تمام علویوں اور عباسیوں سے افضل تھے اور سب کے نظر یہ کے مطابق اس نے امام(ع)کی اہانت کی اور ان پر قاتلا نہ حملہ کیا آپ(ع)کو زہر ہلاہل دیا گیا۔جب آپ نے تناول کیا تو آپ کا سارا بدن شریف مسموم ہو گیا اور آپ(ع) بستر مر گ پر لیٹ گئے اور زہر کی شدت سے مضطر ب ہونے لگے،آپ(ع) صابر تھے لہٰذا آپ نے اپنے عام امور اللہ کی پناہ میں دے دئے۔
معتمد نے اپنے پانچ معتبر اور مؤثق نوکروں کو امام کے بیت الشر ف سے خبریں لانے کے لئے معین کر دیا اسی طر ح اس نے صبح و شام امام(ع) کی دیکھ بھال کرنے کے لئے حکیموں کی ایک جماعت معین کی اور ان سے یہ عہدلیاکہ وہ بالکل امام کے بیت الشرف سے جدا نہیں ہوںگے۔اور یہ سب امام کے مصلح اعظم فرزند کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے تھاجس کی نبی اکرم(ص)نے بشارت دی تھی۔
امام کی حالت بگڑتی گئی اورحکیموں نے جواب دے دیا،موت آپ(ع) کے نزدیک آتی گئی،امام اللہ کا ذکر اور قرآنی آیات کی تلاوت کرنے لگے،یہاں تک کہ آپ ۸ ربیع الاول سن ۲۶۰ ہجری کو  آپ کی عظیم روح خدا کی بارگاہ کی طرف پروازکرگئی،جس کوملائکۂ رحمن نے اپنے احاطہ میں لے لیا اوراللہ کے انبیاء(ع)اور رسولوں(ع) نے اس کااستقبال کیا۔
آپ(ع) کی وفات اس دور کے مسلمانوں کے لئے ایک عظیم مصیت تھی، وہ اپنی مصلحتوں  کی رعایت کرنے والے اپنے قائد،مربی اور مصلح سے محروم ہوگئی۔
تجہیز و تکفین
امام (ع)کے جسد مبارک کو غسل دیاگیا،حنوط کیاگیا اور کفن پہنایاگیا،نماز جنازہ پڑھی گئی آپ کی نماز جنازہ آپ(ع)کے فرزند ارجمند زمین پراللہ کی حجت امام منتظرنے ادا فرمائی،ابوعیسیٰ بن متوکل نے امام حسن عسکری(ع)کے چہرے سے ردا ہٹائی اور اس کوعلویوں میں سے بنی ہاشم،عباسیوں لشکر کے سپہ سالار،حکومت کے نامہ نگار اداروں کے رئیس اور قاضیوں وغیرہ کودکھاکر کہا:یہ حسن بن محمدبن رضا(ع)ہیں جنھوں نے اپنے گھر میں وفات پائی، وہاں پر امیرالمومنین(یعنی خلیفہ) کے فلاں فلاں خدام فلاں فلاں حکیم اور فلاں فلاں قاضی موجود تھے، اس کے بعد آپ کا چہرۂ مبارک کو ڈھک دیا گیا،امام حسن عسکری(ع) کو معتمدکے ذریعہ شہید کئے جانے کی خبر جوچاروں طرف پھیل گئی تھی یہ سارا پروپیگنڈہ اس کا انکار کرنے کے لئے کیاگیاتھا۔
تشییع جنازہ
سامراء کے ہر طبقہ کے لوگوں نے امام حسن عسکری(ع)کے جنازہ میں شرکت کی۔ حکومتی ادارے، تجارت گاہیں اورتمام بازاربندکردیئے گئے، سامرا میں قیامت کامنظردکھائی دے رہاتھا۔ اس وقت تک کسی کی ایسی تشیع جنازہ نہیں ہوئی تھی ،وہ سب امام(ع)کے فضائل بیان کر رہے تھے اورکچھ افراد امام(ع)کے انتقال پر ملال پر مسلمانوں کے لئے عظیم خسارہ پرحزن وغم کا اظہار کر رہے تھے۔
آخری قیام گاہ
امام عسکری(ع)کاجسم اطہر تکبیراورتعظیم کے سایہ میں آخری قیام گاہ تک لایا گیااو رآپ(ع) ہی کے بیت الشرف میں آپ کے پدربزرگوارکی قبر کے پہلو میں آپ کودفن کردیاگیا۔آپ کے ساتھ حلم،علم اورتقویٰ اس دنیا سے رخصت ہوگیا اورجگرگوشۂ رسول اعظم(ص) کوزمین میں چھپادیا گیا۔

 
 کتاب:حیاۃ الامام حسن العسکری


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 15