Wed - 2018 Oct. 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190653
Published : 29/11/2017 19:3

روضہ رسول(ص)پر نماز پڑھنا اور دعا مانگنا؛وہابی شبہات کا جواب

قبر کے پاس نماز پڑھنا یا دعا مانگنا فی نفسہ کوئی اشکال نہیں رکھتا اور اگر قبر کسی نبی یا ولی خدا کی ہو تو یہاں نماز پڑھنے کا ثواب چند برابر ہوجاتا ہے،چونکہ یہ جگہیں مقدس ہیں لیکن اگر کوئی شخص صاحب قبر کو مستقل مانتے ہوئے اللہ کے لئے نماز نہ پڑھ کر خود اسی کی خاطر کوئی عمل کررہا ہو تو یہ کام سراسر شرک ہے اور خلاف شریعت بھی! لیکن اگر کسی کا یہ عقیدہ نہ ہو بلکہ وہ صرف اس وجہ سے اس قبر کے نزدیک نماز پڑھ رہا ہے کہ صاحب قبر ایک متقی اور پرہیزگار بندہ خدا ہے کہ جس کا اللہ کے یہاں ایک خاص مقام و منزلت ہے چنانچہ اگر وہ اس عقیدہ کے ساتھ نماز پڑھے تو اس کی نماز میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ یہ ایک اچھا اور بافضیلت کام بھی شمار ہوگا۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! یوں تو وہابیت،اسلام کے ماننے والوں کو نہ جانے کتنے کفر و شرک کے طمغوں سے نواز چکی ہے اور اسی وجہ سے جو چیز بھی انکی سمجھ میں نہیں آتی،یا سمجھ میں آسکتی ہے لیکن سمجھنا نہیں چاہتے ان میں سے ایک قبر کے پاس نماز پڑھنے کے متعلق شرک و کفر کا فتوی ہے،چونکہ ان کی نظر میں جو شخص بھی قبر کے پاس دعا کرے یا نماز پڑھے گویا اس نے صاحب قبر کی عبادت کی ہے لہذا وہ اس کام کے سبب مشرک ہوکر دائرہ اسلام سے خارج ہوچکا ہے۔
چنانچہ وہابیوں کے فکری باپ ابن تیمیہ اس بارے میں  یہ کہتے ہیں: جب پیغمبر اکرم(ص) کے صحابہ رسول اللہ(ص) کی قبر پر جایا کرتے تھے فقط سلام کیا کرتے تھے اور کبھی بھی حضرت کی قبر کا رخ کرکے دعا نہیں کرتے تھے اور نہ ہی حضرت(ص) کو پکارتے تھے اور نہ ہی خدا کو یاد کرتے تھے بلکہ وہ قبر سے ہٹ کر قبلہ رخ ہوکر دعا کرتے تھے  اور فقط خدا کو یکارتے تھے اور وہ لوگ کبھی بھی پیغمبر(ص) سے توسل نہیں کرتے تھے اسی وجہ سے سلف صالح میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ قبر کے نزدیک نماز پڑھنا یا دعا مانگنا مسحتب ہے، بلکہ مستحب ہونا تو درکنار قبر کے نزدیک دعا مانگنا اور نماز پڑھنا فضیلت بھی شمار نہیں ہوتا اور علماء اہل سنت کی نظر یہی ہے کہ نماز اور دعا پڑھنا مسجد یا گھر میں زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔(۱)
لہذا ہم اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے یہی کہیں گے کہ وہابیت کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ان کے نزدیک خدا کے علاوہ کسی کو پکارنا بت پرستی  اور شرک ہوجاتا ہے اور وہ اس عمل کو مشرکین مکہ کے شرک جتنا قوی شمار کرتے ہیں،جبکہ ان دونوں اعمال میں زمین و آسمان کا فرق ہے،چونکہ بت پرست لوگ بتوں کے سامنے اس عقیدہ کے ساتھ دعا،عبادت اور نذر وغیرہ کرتے ہیں کہ وہ انھیں مستقل الوجود مانتے ہیں اور درحقیقت انھیں چھوٹا خدا مان کر ان کے سامنے یہ سب اعمال بجا لاتے ہیں۔
لیکن ایک مسلمان کا یہ قطعی عقیدہ نہیں ہے بلکہ سب مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے کہ صرف خداوند عالم کی ذات باکمال ہی مستقل الوجود ہے  اور سب کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے وہی صرف ہر کام کو کرنے کی طاقت و قدر رکھتا ہے اور اگر کوئی مسلمان کسی نبی یا کسی ولی کی قبر پر جاتا ہے تو اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اس صاحب قبر کو اللہ کے نزدیک محترم اور صاحب آبرو و عزت اور مقام رفیع پر فائز بندہ مانتا ہے۔
قبر کے پاس نماز پڑھنے اور دعا مانگے پر دلائل:
۱۔باب نماز کے عمومات اور اطلاقات کا تقاضیہ یہی ہے کہ ہر جگہ اور مکان میں نماز پڑھی جاسکتی اور اور دعا مانگی جاسکتی ہے،لہذا قبرستان میں نماز پڑھنا اور دعا کرنے کو بھی یہ اطلاقات شامل ہیں  اور چونکہ قرآن و سنت میں کہیں منع نہیں کیا گیا ہے لہذا نماز اور دعا کے جائز ہونے میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے۔(۲)
۲۔خود قرآن مجید کی کئی آیات اس کے جواز پر دلیل بین ہیں لیکن ہم اختصار کے پیش نظر صرف ایک آیت کریمہ کو تحریر کرنے پر اکتفاء کررہے ہے ،چنانچہ ارشا خداوند متعال ہوتا ہے:«وَ إِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثابَةً لِلنَّاسِ وَ أَمْناً وَ اتَّخِذُوا مِنْ مَقامِ إِبْراهِيمَ مُصَلًّى وَ عَهِدْنا إِلى‏ إِبْراهِيمَ وَ إِسْماعِيلَ أَنْ طَهِّرا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَ الْعاكِفِينَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُود [بقره/125]
ترجمہ: اور (و ہ وقت یادرکھو) جب ہم نے خانہ (کعبہ)کو مرجع خلائق اور مقام امن قرار دیا اور (حکم دیا کہ) مقام ابراہیم کومصلیٰ بناؤ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل پر یہ ذمہ داری عائد کی کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف، اعتکاف اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔
لہذا اس آیہ کریمہ میں خداوند عالم نے اپنے رسول کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ مکان کہ جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اس جگہ کو اپنے نماز پڑھنے کے لئے مصلیٰ قرار دیجئے اور ظاہر سی بات ہے کہ یہ انتخاب صرف اس وجہ سے ہورہا ہے کہ اس مقام اور جگہ کی اہمیت اللہ تعالٰی کی نظر میں بہت بلند و اعلیٰ ہے اور اس جگہ کو  اتنی اہمیت اور تقدس اس وجہ سے حاصل ہوا ہے چونکہ یہ حضرت ابراہیم سے مخصوص جگہ اور مکان ہے ،لہذا ایک پیغمبر کا کسی ایک جگہ ہونا اس مکان کو باعظمت اور بافضیلت بنا دیتا ہے۔
اب وھابیوں سے ہمارا سوال یہ ہے کہ اللہ کے آخری رسول سرور کائنات (ص) قطعی طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے افضل و اعلٰی ہیں اور ہم اس قبر کے نزدیک نماز پڑھیں جس میں رحمۃ للعالمین آرام فرما ہیں اور چونکہ وہ مکان و جگہ حضرت سے منسوب ہے تو کیا اس کی اتنی بھی اہمیت نہیں ہے کہ ہم اس جگہ نماز ہی پڑھ سکیں؟ کیا ایسا کرنا شرک ہے؟کیا ابراہیم علیہ السلام سے منسوب مقام اللہ کی نظر میں زیادہ اہمیت کا حامل  ہے رسول خدا(ص) کے مقام سے ؟
چنانچہ ابن تیمیہ کا نہایت معتبر شاگر ابن قیم جوزی کہ جسے فرقہ وھابیت کے لوگ ابن تیمیہ کے بعد امام المحدثین مانتے ہیں وہ کہتے ہیں:جناب ہاجرہ اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہما السلام کا صبر آخر کار رنگ لے ہی آیا چونکہ اللہ کی راہ میں انہوں نے جو سختیاں اور مشکلات برادشت کی تھیں تقدیر الہی کا آخر فیصلہ یہ ہوا کہ مناسک حج کی وساطت سے ان کے تمام آثار کو محفوظ کیا جائے،یعنی ان کی ہر ایک یاد کو حج کا ایک رکن قرار دیا گیا اور یہ مکان اور یہ جگہیں قیامت تک کے لئے مقدس ہوگئیں اور ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ  قیامت تک ان کی تکریم و تجلیل کرے۔(۳)
اب ہم وہابیت سے پلٹ کر یہی سوال کریں گے کہ جب حضرت ہاجرہ اور جناب اسماعیل(ع) کے حرکات و سکنات مناسک حج بن کر مقدس بن سکتے ہیں تو کیا رسول خدا(ص) کے وہ آثار کہ جو حضرت کی یاد دلاتے ہیں اور خصوصاً آنحضرت(ص) کی قبر اطہر اتنی بھی اہمیت نہیں رکھتی کہ وہاں جاکر دو رکعت نماز ہی پڑھ لی جائے یا دعا ہی مانگ لی جائے؟
لہذا نقل ہوا ہے حضرت عائشہ رسول خدا(ص) کے وصال کے بعد اسی حجرہ میں رہنے لگیں جس میں آپ کو دفن کیا گیا تھا ،اور وہیں پر نمازیں بھی پڑھتی تھیں لہذا ام المؤمنین کا یہ عمل خود بتلاتا ہے کہ اس جگہ نماز پڑھنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔(۴)
نتیجہ:ہم اس مختصر سی گفتگو کے بعد اس نتیجہ پر پہونچے ہیں کہ قبر کے پاس  نماز پڑھنا یا دعا مانگنا فی نفسہ کوئی اشکال نہیں رکھتا  اور اگر قبر کسی نبی یا ولی خدا کی ہو تو یہاں نماز پڑھنے کا ثواب چند برابر ہوجاتا ہے،چونکہ یہ جگہیں مقدس ہیں لیکن اگر کوئی شخص صاحب قبر کو مستقل مانتے ہوئے اللہ کے لئے نماز نہ پڑھ کر خود اسی کی خاطر کوئی عمل کررہا ہو تو یہ کام سراسر شرک ہے اور خلاف شریعت بھی!  لیکن اگر کسی کا یہ عقیدہ نہ ہو بلکہ وہ صرف اس وجہ سے اس قبر کے نزدیک نماز پڑھ رہا ہے کہ صاحب قبر ایک متقی اور پرہیزگار بندہ خدا ہے کہ جس کا اللہ کے یہاں ایک خاص مقام و منزلت ہے چنانچہ اگر وہ اس عقیدہ کے ساتھ نماز پڑھے تو اس کی نماز میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ یہ ایک اچھا اور بافضیلت کام بھی شمار ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔رساله زیاره القبور، ص 159- 160.
۲۔۳۔۴۔كشف الارتياب فى أتباع محمد بن عبد الوهاب، ص 342.

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 17