Friday - 2018 Dec 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190676
Published : 30/11/2017 20:14

انتظار کے لمحات میں ظہور کی جلوہ فرمائی

مہدویت کے بارے میں ہمیں دقیق نظر کا حامل ہونا چاہیئے تاکہ ہم انتظار کی حقیقت تک پہونچ جائیں،انتظارفقط مستقبل میں زندگی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ائمہ علیہم السلام کی روایات کی روشنی میں انتظار یعنی عصرظہورکے معیاروں کو مدنظررکھ کر موجودہ زندگی بسرکرنے کا نام ہے۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام!غیبت کے دورمیں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ رابطہ کے لئے احادیث اور روایات میں بہت تاکید کی گئی ہے چنانچہ اس رابطہ کی اصل حقیقت مسئلہ انتظار کے حل ہوئے بغیر سمجھ میں نہیں آسکتی۔
مہدویت کے بارے میں ہمیں دقیق نظر کا حامل ہونا چاہیئے تاکہ ہم انتظار کی حقیقت تک پہونچ جائیں،انتظارفقط مستقبل میں زندگی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ائمہ علیہم السلام کی روایات کی روشنی  میں انتظار یعنی عصرظہورکے معیاروں کو مدنظررکھ کر موجودہ زندگی بسرکرنے کا نام ہے۔
لہذا ہم آج عصرظہورکی خصوصیات اورمعیاروں کو اپنے کردار میں اتار کر انتظار کے ان لمحات میں بھی ظہور کے دور کی حسین لذات کو محسوس کرسکتے ہیں،مثال کے طور پر عصر ظہور کی ایک خصوصیت یہ ہوگی کہ ہر جگہ امن و امان کا بول بالا ہوگا لہذا ہم اپنی زندگی میں امن پسندی کا مظاہرہ کرکے اور دوسروں کو اپنی جانب سے محفوظ بناکر معاشرہ میں امن و امان قائم کرسکتے ہیں اب اس کے لئے یہ انتظار بھی ظہور کا منظر پیش کرے گا۔
اسی طرح عصر ظہور کی خصوصیات میں سے ایثار اور عدالت و انصاف کا نفاذ بھی ہے لہذا ہم اپنے معاشرہ کے اندر ان خصوصیات کو نافذ کرکے اپنے سماج کو مہدوی سماج بنا سکتے ہیں اور ہمیں ایسا محسوس ہوگا کہ ہم ظہور امام مہدی(عج) کے پرنور دور میں زندگی بسر کررہے ہیں چنانچہ بعض روایات میں اس مطلب کی تاکید بھی کی گئی ہے کہ اگر تم نے غیبت کے دور میں اپنی ذمہ داریوں پرعمل کیا تو  اپنی زندگی کے خاتمہ اور عصر ظہور کو  درک نہ  کرنے پر پریشان و محزون نہ ہونا۔
البتہ پریشان اور رنجیدہ نہ ہونے سے مراد عصرظہورکے تقدس اور اس کی عظمت اور شرافت کو کم کرنا نہیں ہے بلکہ حقیقت امر تو یہ ہے کہ ہمیں انتظار کے ان لمحات کو ظہور کی یادوں سے آباد کرنا چاہیئے تاکہ ہمارے کردار میں اپنے وقت کے امام کی نصرت اور حمایت کا جذبہ صیقل ہوتا رہے۔
اور ساتھ ہی یہ بھی اذہان عالیہ میں رہے کہ آج تک کسی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ عصرظہور اور عصرغیبت کی اہمیت مساوی ہے۔ہرگزایسا نہیں ہے۔ کیونکہ عصرظہورکی ایک اہم ترین خصوصیت خود امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی جلوہ فرمائی ہے اور آنحضرت علیہ السلام کے زیر سایہ زندگی بسر کرنےکا کسی چیزسے تقابل نہیں کیا جاسکتا ہے۔
آخر میں ایک اہم نکتہ  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ کہنا چاہیں گے کہ ہمیں کم از کم یہ تو معلوم ہی ہونا چاہیئےکہ ہمارے امام(عج) کس لئے تشریف لائیں گے؟ معاشرہ کے لئے امام علیہ السلام کی برکات اورنتائج اور اہداف کیا ہوں گے؟ اگرہم ان مسائل کو اچھی طرح سمجھ لیں تو پھر اپنی انفرادی اور سماجی زندگی میں ان امور پرتوجہ دینے کی کوشش بھی کریں گے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Dec 14