Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190691
Published : 2/12/2017 18:35

اسلامی تعلیمات کے سایہ میں امت کا اتحاد

امت اسلامی کی سعادت کا دار و مدار اتحاد اور اتفاق سے وابستہ ہے اسی وجہ سے دشمن کا سب سے بڑا حربہ بھی مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈال کر اسلامی دنیا پر قبضہ جمانا ہے،لہذا ایسی کربناک حالت میں اسلامی معاشرہ کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے یہاں سے اختلاف و تفرقہ کے اسباب کو ختم کرے اور اتحاد و یکجہتی کی فضا کو فراہم کرے،چنانچہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے والے عناصر میں سے دینی مشترکات پر اعتماد نیز نرمی اور محبت کے ساتھ دوسرے اسلامی مذاہب کے ماننے والوں سے گفتگو کرنا،جیسے عناصر شامل ہیں۔لہذا یہ اتحاد ساز عمل صرف اسلام ہی کے دائرہ میں انجام پاسکتا ہے۔


ولایت پورٹل:دین اسلام میں اتحاد و اتفاق اور مسلمانوں کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینا نہایت عظمت کا حامل مسئلہ ہے،چنانچہ قرآن مجید کی رو سے اسلامی اتحاد ایک اہم واجب کے طور پر پیش کیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: «و اعتصَموا بِحَبل الله جَمیعاً ولاتَفرّقوا»۔تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ ایجاد نہ کرو!
لہذا اس آیہ کریمہ میں خداوندعالم نے مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دی ہے اور اختلاف اور تفرقہ سے منع کیاہے۔
قرآن مجید کی یہ اسٹریٹیجی اور پاکیزہ پالیسی سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی نگاہ میں مسلمانوں کا باہمی اتحاد سعادت مندی اور عزت تک پہونچنے کا ذریعہ ہے اسی وجہ سے ہر مسلمان کا دینی اور اخلاقی فریضہ بنتا ہے کہ وہ اس بارے میں غور کرے اور اسلام کے صحیح نظریہ کو سمجھتے ہوئے اختلاف و تفرقہ سے گریز کرے،چونکہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد نہ ہونا اور ان کے درمیان تفرقہ اور اختلاف ایجاد کرنا کہیں دشمن کے لئے فرصت کے ہاتھ آنے کا موقع نہ بن جائے۔
ہفتہ وحدت
امت اسلامی کی سعادت کا دار و مدار اتحاد اور اتفاق سے وابستہ ہے اسی وجہ سے دشمن کا سب سے بڑا حربہ بھی مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈال کر اسلامی دنیا پر قبضہ جمانا ہے۔
لہذا ایسی کربناک حالت میں اسلامی معاشرہ کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے یہاں سے اختلاف و تفرقہ کے اسباب کو ختم کرے اور اتحاد و یکجہتی کی فضا کو فراہم کرے،چنانچہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے والے عناصر میں سے دینی مشترکات پر اعتماد نیز نرمی اور محبت کے ساتھ دوسرے اسلامی مذاہب کے ماننے والوں سے گفتگو کرنا،جیسے عناصر شامل ہیں۔لہذا یہ اتحاد ساز عمل صرف اسلام ہی کے دائرہ میں انجام پاسکتا ہے۔
لہذا ہمیں ہفتہ وحدت کی مناسبت سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیئے اور خصوصاً ہمارے علماء اور سیاستدان حضرات اور دانشوروں کو اس درمیان بڑا اہم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
امت کے درمیان اتحاد کا معیار
دین اسلام کی نظر میں اسلامی اتحاد کا معیار صرف و صرف اسلامی تعلیمات کی صحیح شناخت اور مسلمانوں کے درمیان حقیقی  اسلامی اقدار کو متعارف کروانے کے ذریعہ ہی ممکن ہوسکتا ہے۔
نیز یہ بھی ضروی ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ مسلمانوں کے درمیان جزئی اور فرعی اختلاف پایا جاتا ہے کہ جو متعدد زمان و مکان میں ظہور پذیر ہوئے ہیں۔
اگرچہ اسلامی مذاہب کے درمیان اکثر چیزیں مشترک ہے اور اختلاف کی مقدار بہت کم ہے لہذا ہمارے یہ جزئی اور فرعی اختلاف ہمارے مشترکہ اور بنیادی اصول پر اتحاد کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیئے۔
دوسری بات یہ کہ تمام اسلامی فرقے مسلمہ اصول پر تو عقیدہ رکھتے ہی ہیں اس کے علاوہ اسلام نے تو ہمیں دوسرے آسمانی ادیان کے ساتھ بھی اتحاد کی دعوت دی ہے،اور  خدا ہمیں تمام اہل کتاب کے ساتھ اتحاد کی دعوت دیتا ہے لہذا خداوند عالم ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ مشترک عقیدہ (توحید) کے سائے میں آگے بڑھیں تاکہ ہمارے لئے زندگی دشواریوں کو برداشت کرنا کسی حد تک آسان بن جائے۔
غرض! ہم گذشتہ بیان کی روشنی میں یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ امت کا حقیقی اتحاد کی طرف لوٹنا اور قرآن کے اصول اتحاد کو اپنانا نہایت ضروری اور لازمی  امر ہے۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13