Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190709
Published : 3/12/2017 17:15

رہبر انقلاب کا کشمیر دورہ اتحاد اسلامی کا سنگ میل

آیت اللہ خامنہ ای کی اس تقریر کے بعد کشمیر میں شیعوں کا یہ معمول ہوگیا کہ وہ آسانی کے ساتھ اہل سنت کی مساجد میں جاکر نماز پڑھنے لگے اور کبھی انھیں کے امام جماعت کی اقتداء کرلیتے ،اور اسی طرح ادھر سے بھی ایسا ہی ہوا،اہل سنت شیعہ مساجد میں آکر اپنی نماز ادا کرنے لگے،لہذا یہ وادی کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی اس ۱۵ منٹ کی تقریر اور اس پریس کانفرنس کا محصول اور ثمرہ تھا۔


ولایت پورٹل:مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی ان اہم مسائل میں سے ایک ہے کہ جو ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تمام مسلمانوں کی توجہات کا مرکز بنا،لہذا اسی وجہ سے مسئلہ اتحاد؛اسلامی جموریہ ایران کی بنیادی پالیسی کے طور پر تشکیل پایا کہ جس کے ثمرات و اثرات ملموس طریقہ پر تمام عالم اسلامی میں مشاہدہ کئے گئے،چنانچہ اسی کا ایک نمونہ کہ جو انقلاب اسلامی کے ابتدائی دور میں رونما ہوا وہ آیت اللہ خامنہ ای کا دورہ وادی کشمیر تھا۔
مولانا سید قلبی حسین مرحوم کشمیری اپنی یاد داشت ڈائری میں تحریر کرتے ہیں کہ جو بعد میں مرکز اسناد انقلاب اسلامی کی طرف سے کتاب کی صورت شائع ہوئی،چنانچہ مرحوم کشمیر کے اہل سنت اور شیعوں کے درمیان اسلامی اتحاد کی فضا کو ہموار کرنے کے سلسلہ میں  آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے کردار کے متعلق رقمطراز ہیں کہ:انقلاب اسلامی اور امام خمینی(رح) کی تحریک کے متعلق میری حسین یادوں میں سے ایک،رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کا وہ وادی کشمیر کا حسین سفر ہے کہ جو آپ نے تقریباً۱۹۷۹ء یا۱۹۸۰ء  میں اس خطہ کا کیا تھا۔
چنانچہ وہ رقمطراز ہیں کہ حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے دورہ کشمیر سے ایک ہفتہ پہلے میری ملاقات ایران کے ایک انجینئر کہ جن کا نام «جواد سرفراز» تھا کہ جو بعد میں شہید بہشتی کے ہمراہ شہید ہوگئے،وہ کشمیر آئے، اور وہ کشمیر میں مقیم ایرانی اسٹوڈنٹس کی اسلامی انجمن کے رابطہ میں تھے،چنانچہ اس زمانہ میں جو بھی کشمیر آتا تھا تو انجمن اسلامی کے اراکین مجھے،انجینئر غلامعلی گلزار اور سید محمد رضوی صاحب کو باخبر کردیتے تھے لہذا اس طرح ہم انجینئر جواد سرفراز صاحب سےآشنا ہوئے۔
انجمن اسلامی کے دفتر میں ہم نے ان کے ساتھ ایک  میٹنگ رکھی لہذا انھوں نے اسی میٹنگ میں آیت اللہ خامنہ ای کے کشمیر دورہ کے بارے میں ہمیں آگاہ کیا،اس زمانہ میں آیت اللہ خامنہ ای تہران کے امام جمعہ اور شورای دفاع میں امام خمینی(رح) کے نمائندے تھے کہ اور یہ دونوں منصب اسلامی جمہوریہ میں نہایت ہی اہمیت کے حامل تھے، چنانچہ جباب سرفراز صاحب نے ہمارے سامنے آیت اللہ خامنہ ای کی بہت تعریف کی اور ہم نے بھی آپ کے خطبات جمعہ کو سن رکھا تھا لہذا ہمیں بھی ان کی شخصیت سے خاصا لگاؤ اور دلچسپی تھی غرض! اس میٹنگ کے بعد میں نے آیت اللہ خامنہ ای کے کشمیر دورہ پر استقبال کے حوالہ سے ایک ہفتہ تیاریوں کے لئے پروگرامنگ کی۔
ان کا یہ سفر ہندوستان میں واقع کشمیر کا سفر تھا کہ جس میں آپ نے صرف ایک دن اس وادی میںقیام کیا،چنانچہ بروز جمعرات ۴ بجے جہاز کے ذریعہ سرینگر ائیرپورٹ پر پہونچے چونکہ ہم نے ایک ہفتہ تیاریاں کی تھیں لہذا ہمیں پرواز کے بارے میں معلوم تھا،جب آیت اللہ خامنہ ای تشریف لائے استقبال کی تمام تیاریاں ہوچکی تھیں۔
جس رات کی صبح جناب عالی کو سرینگر پہونچنا تھا میں نے نماز مغربین کے بعد ایک ٹیکسی لی اور اس پر مائیک و لاؤڈ اسپیکر لگایا اور پورے سرینگر کے اہم محلوں میں رہبر معظم کے آنے کی خبر دی لہذا رات ۱۲ بجے تک ہم پورے شہر کو آیت اللہ خامنہ ای کی آمد سے مطلع کرچکے تھے چونکہ ہمارا نظریہ یہ تھا کہ ہم زیادہ تر شیعہ نشین علاقوں میں جاکر یہ خبر دیں چونکہ اہل سنت سے  تو ہمیں آنے کی توقع نہیں تھی۔البتہ ان کی خاص شخصیات کو چھوڑ کر۔کہ وہ آیت اللہ خامنہ ای کے استقبال کے لئے آئیں گے۔
چنانچہ جب آیت اللہ خامنہ ای تشریف لائے لوگوں کا جم غفیر ائیرپورٹ پر استقبال کے لئے موجود تھا کہ شاید تاریخ کشمیر میں ایسا بے نظیر استقبال کسی اور کا نہ ہوا ہوگا،شیعہ علماء میں سے تو ایک فرد بھی گھر پر نہیں رہے بلکہ حجۃ الاسلام سید یوسف موسوی مرحوم کے جو ۸۵ برس کے تھے انہوں نے بھی اپنے کو استقبال کے لئے ائیرپورٹ پہونچادیا تھا،چنانچہ جیسے ہی آیت اللہ خامنہ ای تشریف لائے ائیرپورٹ لوگوں سے ٹھاٹے مار رہا تھا،چونکہ تمام شیعہ بس،ٹیکسی،ٹیمپو،ٹرک اور کسی دوسرے ذرائع سے ائیرپورٹ پہونچ چکے تھے،لہذا تاریخ کشمیر کا بے نظیر اور پر ثمر استقبال سرینگر ائیرپورٹ پر انجام پذیر ہوا۔
جب آپ تشریف لائے تو آپ نے بڈگام  کے امام بارگاہ میں تقریر کی اور ایک پریس کانفرنس میں اخباری نمائندوں کے سوالات کے جوابات دیئے،اگلے دن صبح میں کشمیر کے معروف امام بارگاہ «زدی بل» کہ جو سرینگر کا ایک شیعہ نشین علاقہ ہے،آپ نے اس میں تقریر فرمائی اور پھر اسی دن سرینگر میں اہل سنت کی مرکزی نماز جمعہ میں شرکت کی۔چونکہ ہم نے پہلے سے یہ پروگرامنگ کی ہوئی تھی،چنانچہ ابتداء میں اہل سنت کے امام جمعہ میر واعظ مولوی فاروق نے نماز پڑھائی آیت اللہ خامنہ ای نے بھی ان کی اقتداء کی نماز جمعہ ادا کی،نماز ختم ہونے کے بعد رہبر معظم نے تقریباً ۱۵ منٹ گفتگو کی ،اور تقریر کا یہ محدود وقت اس وجہ سے تھا کہ انھیں ٹھیک ۴ بجے ائیرپورٹ پہونچنا تھا۔
آپ نے اپنی تقریری میں قرآن مجید کی اس آئیہ کریمہ:«و اعتصموا بحبل الله جمیعاً ولاتفرقوا» پر روشنی ڈالی اور اسلامی اتحاد کی اہمیت اور شیعہ و اہل سنت کے درمیان یکجہتی پر گفتگو کی۔
اگرچہ رہبر معظم کی یہ تقریر صرف ۱۵ منٹ کی تھی لیکن اس کے اثرات دسیوں کتاب اور مہینوں ہونے والی تقاریر سے کہیں زیادہ تھے،اور ہم نے خود اپنی انکھوں سے ان اثرات و ثمرات کو دیکھا اور اپنے وجود سے محسوس کیا چونکہ تاریخ کشمیر میں پہلی بار کوئی اتنا بڑا شیعہ ،مشہور عالم اور بین الاقوامی شخصیت نہیں آئی تھی اور انھوں نے اہل سنت کی مسجد میں آکر،اہل سنت کے مجمع میں تقریر کی ہو،آپ کے کشمیر آنے سے پہلے شیعہ اور سنیوں کے درمیان اختلاف اور جھگڑے تک رہتے تھے۔
یہاں تک کہ اگر ایک شیعہ اہل سنت کی مسجد میں چلاجاتا تو وہ اپنی مسجد کو پاک کیا کرتے تھے اور عام طور پر یہ کہتے تھے کہ ایک رافضی نے مسجد میں آکر اسے نجس کردیا ہے۔لیکن آیت اللہ خامنہ ای کی اس تقریر کے بعد کشمیر میں شیعوں کا یہ معمول ہوگیا کہ وہ آسانی کے ساتھ اہل سنت کی مساجد میں جاکر نماز پڑھنے لگے اور کبھی انھیں کے امام جماعت کی اقتداء کرلیتے ،اور اسی طرح ادھر سے بھی ایسا ہی ہوا،اہل سنت شیعہ مساجد میں آکر اپنی نماز ادا کرنے لگے،لہذا یہ وادی کشمیر میں آیت اللہ خامنہ ای کی اس ۱۵ منٹ کی تقریر اور اس پریس کانفرنس کا محصول اور ثمرہ تھا۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12