Thursday - 2018 August 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190714
Published : 3/12/2017 19:1

امام صادق(ع) کی اقتصادی زندگی میں مواسات کی اہمیت

درحقیقت یہ امام نے مصادف کو تنبیہ نہیں فرمائی بلکہ آپ کا یہ حکم آپ کے تمام نام لیواؤں کے لئے پیغام ہے کہ کسب معاش میں عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے،لوگوں کی ضروتوں کو ان کی مجبوری سمجھ کر ان سے سوء استفادہ نہ کیا جائے، چنانچہ ہم آج اسی طرح کی کیفیت سے روبرو ہیں کہ جہاں کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا تاجر دوگنی قیمت کے علاوہ کوئی چیز فروخت کرنے پر تیار ہی نہیں ہے تو کیا امام صادق علیہ السلام کے شیعوں کو حضرت کی سیرت طیبہ سے سبق نہیں لینا چاہیئے؟


ولایت پورٹل:آئمہ معصومین(ع) کی سیرت اور زندگی میں ہمارے لئے بہت سے عملی نمونے ہیں لہذا ان حضرات کی زندگی کے مطابق زندگی بسر کرنا حسن عاقبت اور دنیا میں رہتے ہوئے سیر ملکوت کا سبب ہے چونکہ اس پاک و پاکیزہ خاندان کے فرامین پر عمل کئے بغیر ان سے عشق و محبت ہمارے لئے کام نہیں آسکتا۔
ہماری زندگی میں انحطاط اور دنیا طلبی کے اسباب میں سے ایک فاسد اقتصادی نظام ہے لہذا اس مقالہ میں ہماری کوشش یہی ہے کہ ہم امام صادق علیہ کی اقتصادی سیرت کے صرف ایک نمونہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ہم بھی اپنے دیگر بھائیوں کے ساتھ مواسات کو منفعت پر ترجیح دے سکیں۔
چنانچہ شہید مطہری(رح) اپنی کتاب داستان راستان میں ایک کہانی نقل کرتے ہیں لہذا آئیے پہلے خلاصۃ اس کہانی کا مطالعہ کرتے ہیں:
امام صادق(ع) کے گھروالوں کا خرچ زیادہ ہوچکا تھا چنانچہ امام صادق علیہ السلام نے سوچا کیوں نہ تجارت کرکے اپنے مخارج زندگی کو پورا کریں لہذا حضرت نے ایک ہزار دینار مہیا کئے اور اپنے غلام مصادف کو دیکر کہا کہ یہ ہزار دینار لو اور مصر کی طرف تجارت کی غرض سے رخت سفر باندھ لو۔
لہذا مصادف بازار گیا اور وہ سامان کہ جو ان دنوں مصر کے بازار میں یثرب کے لوگ لے کر جاتے تھے خریدا اور مصر کی طرف روانہ ہوگیا،اور جیسے ہی مصادف کا قافلہ مصر کے قریب پہونچا تو ان کی ملاقات ایک دوسرے قافلہ سے ہوئی کہ جو مصر کے بازار میں اپنا سامان فروخت کرکے لوٹ رہا تھا ان سے ملاقات کے دوران بازار کے متعلق گفتگو ہوئی اور پتہ یہ چلا کہ جو سامان مصادف اور اس کے ساتھی مصر لائے ہیں چونکہ وہ بازار میں بہت کمیاب ہوچکا ہے اس کو بہت اچھی قیمتوں میں مصر میں خریدا جارہا ہے یہ حال سن کر قافلہ والوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا چونکہ ان کے پاس وہ سامان تھا کہ جو مصر کے لوگوں کی زیادہ ضرورت کا تھا لہذا مصر کے لوگ اسے ہر قیمت پر خریدنے کے لئے تیار تھے۔
لہذا قافلہ والوں نے آپس میں یہ طئے کیا کہ اس سامان کو دوگنی قیمت کے علاوہ فروخت نہیں کریں گے چنانچہ یہ قافلہ مصر میں داخل ہوا اور انھوں نے وہی منظر دیکھا جو انھیں اس قافلہ والوں نےبتایا تھا۔
غرض!قافلہ والوں نے اپنے ساتھیوں سے کئے وعدہ کے لحاظ سے مصر میں کالا بازاری کی سی کیفت طاری پیدا کردی ،اور انھوں نے اسے دوگنی قیمت کے علاوہ فروخت نہ کیا۔
اب سامان فروخت ہوچکا تھا،مصادف ہزار دینار کے فائدہ کے ساتھ مدینہ لوٹ آیا اور خوشی خوشی امام صادق علیہ السلام کے حضور میں شرفیاب ہوا اور حضرت کے سامنے  دیناروں سے بھری دو تھیلیاں لا رکھیں،امام(ع) نے اس سے پوچھا یہ کیا ہے؟تو اس نے جواب دیا کہ ایک تھیلی میں وہ رقم ہے کہ جو آپ نے مجھے دی تھی اور دوسری میں اس تجارت سے حاصل شدہ نفع کی رقم ہے کہ جو ہزار دینار ہیں۔
امام نے فرمایا:یہ نفع تو بہت زیادہ ہے؟ پہلے تم یہ بتاؤ کہ تمہیں کس طرح اتنا زیادہ نفع
حاصل ہوا ہے؟
لہذا مصادف نے پوری داستان امام کے سامنے دھرادی ۔
امام علیہ السلام نے فرمایا:سبحان اللہ!تم نے یہ کام کیا تبھی تو تمہیں اتنا زیادہ نفع ہاتھ آیا،تم نے کالا بازاری پیدا کرنے کے لئے آپس میں عہد و پیمان کیا؟لہذا اس مال کو لے جاؤ مجھے ایسا فائدہ نہیں چاہیئے۔
چنانچہ امام نے صرف ایک تھیلی اٹھائی اور دوسری کو وہیں چھوڑ دیا اور فرمایا :اے مصادف! حلال رزق کمانا راہ خدا میں تلوار چلانے بھی زیادہ سخت ہے۔
درحقیقت یہ امام نے مصادف کو تنبیہ نہیں فرمائی بلکہ آپ کا یہ حکم آپ کے تمام نام لیواؤں کے لئے پیغام ہے کہ کسب معاش میں عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے،لوگوں کی ضروتوں کو ان کی مجبوری سمجھ کر ان سے سوء استفادہ نہ کیا جائے، چنانچہ ہم آج اسی طرح کی کیفیت سے روبرو ہیں کہ جہاں کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا تاجر دوگنی قیمت کے علاوہ کوئی چیز فروخت کرنے پر تیار ہی نہیں ہے تو کیا امام صادق علیہ السلام کے شیعوں کو حضرت کی سیرت طیبہ سے سبق نہیں لینا چاہیئے؟




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 August 16