Wed - 2018 Oct. 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190726
Published : 4/12/2017 17:6

خواتین اور رسول رحمت(ص)

یہ صرف ہمارا دعویٰ نہیں ہے بلکہ اکثر مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سرکار نے کبھی اپنی گھریلو زندگی میں اپنی کسی بیوی کو بلکہ گھر کی خادمہ تک کو دکھ نہیں پہونچایا بلکہ الٹا آپ کی بعض زوجات خود آپ ہی کے لئے مشکلات اور سردردی ایجاد کرتی تھیں۔


ولایت پورٹل:سرکار ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفیٰ (ص) نے اپنے ظاہری تبلیغ کے دور سے ہی خواتین کی مشکلات کی طرف خصوصی توجہ فرمائی،اگرچہ خواتین کے وجود میں ایک طرح کا ضعف پایا جاتا ہے لیکن یہ کوئی قبیح اور باعث فضیحت صعف اور کمزوری نہیں ہے لہذا ان کا یہ ضعف منفی نہیں ہے،البتہ خواتین کے اس ضعف کو تحسین آمیز نگاہوں سے دیکھنا چاہیئے چونکہ خواتین اپنے جسم اور قوت بدنی کے اعتبار سے کمزور ہوتی ہیں عقل و فکر کے اعتبار سے نہیں۔
اگرچہ خواتین کا یہ ضعف اور ان کی جسم کی ساخت سبب ہوتی ہے کہ وہ معاشرہ کے بہت سے کام نہیں کرپاتیں،لیکن وہ بہت سے ایسے ہنر پارے خلق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں کہ مرد لاکھ کوشش کرکے بھی انھیں معرض وجود میں نہیں لاسکتا،لہذا اس ضعف جسمی کے اعتبار سے کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ خواتین کی سرزنش کرے،اور یہ بلکل مسلم حقیقت ہے کہ تخلیقی طور پر مرد اور عورت کے درمیان کچھ اختلاف اور امتیازات پائے جاتے ہیں لہذا اس اختلاف و امتیاز کو تحسین کی نظروں سے دیکھنا چاہیئے۔
جیسا کہ خواتین حساس اور لطیف طبیعت کی مالک ہوتی ہیں اور ان برجستہ صفات کا وجود ان کے لئے ایک امتیاز ہے۔
چنانچہ رسول اکرم(ص) خواتین کی اس خصوصیت کی طرف متوجہ تھے لہذا آپ خواتین کی ہرطرح حمایت فرماتے تھے اور مردوں کو انھیں آزار و اذیت پہونچانے سےمنع کرتے تھے چنانچہ خواتین کے متعلق حضرت کے فرامین خود اس امر پر واضح دلیل ہیں۔
پیغمبر اکرم(ص) ہمیشہ مردوں کو خواتین کی نسبت حسن اخلاق کی تاکید فرماتے تھے اور ہمیشہ اپنے اصحاب کے درمیان یہ جملہ ارشاد فرماتے تھے:«استوصوا بالنساء خیرا»۔ اپنی خواتین کے ساتھ نیک سلوک اور برتاؤ روا رکھو! لہذا آپ نے حجۃ الوداع کے دوران بھی اس حکم کی تکرار فرمائی، اس وقت کے جب پورے عالم اسلام کے ہر قبیلہ کے لوگ وہاں موجود تھے تو حضرت نے حکم فرمایا کہ وہ اپنے سماج کی خواتین کی نسبت عدالت کی رعایت کریں، لہذا آپ نے بارہا خواتین کے حقوق کی بازیابی اور ادائیگی کو اپنے ماننے والوں کے درمیان بہم پہونچایا۔
چنانچہ جب حضرت نے یہ جملہ ارشاد فرمایا:«استوصوا بالنساء خیرا فانما هن عوان عندکم».
خواتین کے ساتھ نیک برتاؤ کرو،چونکہ وہ تمہاری دست نگر اور زیر سرپرستی ہیں۔
اگرچہ اسلام نے سرپرستی اور طلاق کا حق مرد کو دیا ہے لیکن اس امر کی جانب بھی توجہ رہے کہ مردوں کے لئے یہ باعث امتیاز اور خواتین کے لئے نقص شمار نہیں ہوگا،بلکہ سرپرستی ایک ذمہ داری کا نام ہے نہ کہ برتری کا۔
نیز آپ نے ارشاد فرمایا:«خیرکم خیرکم لاهله و انا خیرکم لأهلی».
تمہارے درمیان سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ نیک برتاؤ کرے اور میں سب سے زیادہ اپنے اہل و عیال کے کے لئے بہتر و برتر ہوں۔
حضرت کے اس جملہ سے قطعی طور پر واضح ہے کہ آپ خواتین کو برابر سمجھتے ہیں اور انھیں ناقص قرار نہیں دیتے اسی وجہ سے ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں:«إن النساء شقاق الرجل». بتحقیق! خواتین مردوں کے برابر ہیں۔
لہذا اس حدیث کی تشریح اور وضاحت کرتے ہوئے ابن اثیر کہتے ہیں کہ شقائق الرجال یعنی یعنی خواتین،مردوں کی شبیہ اور ان کے مثل ہیں۔
اور اسی طرح پیغمبر اکرم(ص) مسلمانوں کو اپنی بیویوں کے ساتھ سختی اور تندی کرنے سے خبردار کرتے ہوئے انھیں ان کے ساتھ حسن اخلاق کی رعایت کرنے کی تاکید فرماتے ہیں اگرچہ ان کی کوئی عادت مردوں پسند بھی نہ آئے لہذا یہ ان کے لئے یہ بہانا نہ بن جائے کہ وہ خواتین کے ساتھ زیادتی اور بدسلوکی پر اتر آئیں،چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:«لا یفرک مؤمن مؤمنة إن کره منها خلقا رضی منها آخر».
ایک مؤمن شوہر اپنی زوجہ کو کسی ایسے ضعف کی بنا پر آزار کرنے کا مجاز نہیں ہے کہ جو اس میں پایا جائے بلکہ اسے یہ سوچنا چاہیے کہ اگر اس کی بیوی میں ایک چھوٹی سے کمی پائی جاتی ہے تو یقیناً اس میں بہت سی خوبیاں بھی تو پائی جاتی ہیں۔
یہ وہ پیغامات تھے کہ جو حضرت نے خواتین کے متعلق ارشاد فرمائے اور اگر دقت نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود سرکار کا اپنی زوجات کے ساتھ حسن سلوک ملاحظہ فرمائیں تو شاید حیرت ہوگی اور ہمیں یہ معلوم ہوسکے گا کہ حضرت کے یہ جملات اور فرامین فقط خواتین کی تسلی و تسکین کے لئے نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہیں کہ جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش  باقی نہیں ہے۔
چونکہ ایسے خوبصورت کلمات جملات اور حسن اخلاق و نیک رفتاری ہر دن و ہر آن رسول خدا(ص) سے بیت نبوت و رسالت میں ظہور پذیر ہوتے تھے۔اور یہ صرف ہمارا دعویٰ نہیں ہے بلکہ اکثر مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سرکار نے کبھی اپنی گھریلو زندگی میں اپنی کسی بیوی کو بلکہ گھر کی خادمہ تک کو دکھ نہیں پہونچایا بلکہ الٹا آپ کی بعض زوجات خود آپ ہی کے لئے مشکلات اور سردردی ایجاد کرتی تھیں۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 17