Saturday - 2018 August 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190733
Published : 4/12/2017 19:0

امام صادق(ع) اور اسلامی برادری کا فروغ

حضور اکرم(ص) نے برادری کا یہ مفہوم قرار دیا ہے کہ آپ اپنے بھائی کے لئے انھیں چیزوں کو پسند کریں جنھیں اپنے لئے پسند کرتے ہیں،ایسا کرنے سے بھائی بھی آپ سے ویسا ہی سلوک کرے گا اور آپ کا نفس دونوں جہتوں سے مطمئن ہوگا۔ یہی وہ اجتماعی خوش بختی اور معاشرتی اصلاح تھی جس کے پیش نظر امام صادق(ع) نے باہمی اخوت پر زور دیا تھا اور کسی وقت بھی مسلمان کو اپنے بھائی کے حالات سے غافل نہیں ہونے دیا تھا۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام!آئمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے چاہنے والوں اور پیروکاروں سے اسلامی اتحاد و یکجہتی کی بہت تاکید فرمائی ہے اور عملاً خود بھی مسلمانوں کے ساتھ حسن معاشرت اور حسن خلق کی اعلٰی مثالیں قائم کی ہیں لیکن حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی میں تو ہمیں بےشمار مواقع ایسے نظر آتے ہیں کہ جب آپ نے دوسرے فرقوں کے مسلمانوں کے ساتھ وہ فداکارانہ رویہ اپنایا کہ جس کی مثال ہمیں اس پاک خاندان کی سیرت کے علاوہ کہیں نہیں ملے گی اور آپ نے اپنے مختلف بیانات میں اسلامی برادری اور اس کے حقوق پر شدت سے زور دیا ہے کہ اس طرح امت کے دلوں میں محبت و الفت پیدا ہوگی اور محبت تنظیم عالم و آدم کا بہترین ذریعہ ہے۔
چونکہ کراہت و نفرت، باہمی عداوت کا سرچشمہ ہے،نفرت کی آنکھ خوبیوں کو نہیں دیکھ سکتی ہے،اس کی نظر ہمیشہ عیوب پر رہتی ہے اور عیب جوئی ہزار اختلاف کی بنیاد ہوتی ہے،شیرازۂ اسلامی کو منظم رکھنے کے لئے اخوت اور برادری کا لحاظ انتہائی ضروری ہے۔
سرکار دو عالم(ص) نے بھی اپنے اصحاب میں مواخات قائم کی تھی اور قرآن کریم نے بھی اہل ایمان کی برادری کا اعلان کیا ہے۔
حضور اکرم(ص) نے برادری کا یہ مفہوم قرار دیا ہے کہ آپ اپنے بھائی کے لئے انھیں چیزوں کو پسند کریں جنھیں اپنے لئے پسند کرتے ہیں،ایسا کرنے سے بھائی بھی آپ سے ویسا ہی سلوک کرے گا اور آپ کا نفس دونوں جہتوں سے مطمئن ہوگا۔
اس جہت سے بھی کہ آپ نے دوسرے کے لئے خیر ہی چاہا ہے اور اس جہت سے بھی کہ دوسرا آپ کے لئے شر نہیں پسند کرسکتا ہے۔
یہی وہ اجتماعی خوش بختی اور معاشرتی اصلاح تھی جس کے پیش نظر امام صادق(ع) نے باہمی اخوت پر زور دیا تھا اور کسی وقت بھی مسلمان کو اپنے بھائی کے حالات سے غافل نہیں ہونے دیا تھا۔
صفوان جمال راوی ہیں کہ مکہ سے ایک شخص میمون نامی امام صادق(ع) کی خدمت میں آیا اور آپ(ع) سے کرایہ کے ختم ہوجانے کی شکایت کی،آپ نے اس کی حاجت پوری کرنے کا حکم دے دیا،میں اسے اپنے ساتھ لے گیا اور اس کی حاجت پوری کرکے پلٹ کر آیا تو حضرت(ع) نے مجھ سے سوال کیا، میں نے صورت حال کی اطلاع دی تو آپ(ع) نے فرمایا کہ:«ایک مؤمن کی حاجت کا پورا کردینا ہفتہ بھر کے طواف سے بہتر ہے»۔
اس لئے کہ حاجت روائی سے محبت و الفت پیدا ہوتی ہے اور محبت و الفت سے اجتماعی فوائد تشکیل پاتے ہیںاور نفرت، اختلافات کا سرچشمہ ہے۔
محبت چشم پوشی کی دعوت دیتی ہے اور نفرت اظہار عیوب کی،محبت،محبت پیدا کرتی ہے اور نفرت، نفرت۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ:«عدالت محبت کی جانشین ہے۔
سقراطیس کا کہنا تھا کہ دنیا کا کوئی شخص محبت کے بغیر نہیں جی سکتا ہے چاہے ساری دنیا اس کی طرف مائل کیوں نہ ہوجائے,جو شخص محبت کو حقیر سمجھتا ہے وہ خود حقیر و صغیر ہوتا ہے۔
امام صادق(ع) کی یہ تعلیمات زبان ہی کی حد تک محدود نہیں تھیں بلکہ عملی میدان میں بھی آپ نے بڑے بڑے مجاہدات کئے ہیں،اجتماعی محبت و اخوت کی ایجاد کے لئے اپنے ذاتی سرمایہ سے کافی حصہ صرف فرمایا ہے جیسا کہ سعید ابن بیان«رئیس قافلہ حجاج» کا بیان ہے کہ میں اپنے داماد سے ایک میراث کے بارے میں جھگڑا کررہا تھا کہ اتنے میں مفضل بن عمر کا گذر ہوگیا،انھوں نے کچھ دیر توقف کیا،اس کے بعد فرمایا میرے ساتھ چلو،ہم لوگ ان کے ساتھ گئے اور انھوں نے چار سو درہم پر صلح کرادی اور اسے اپنے پاس سے عطا کردیا،ہم لوگوں نے مال لے لیا تو انھوں نے فرمایا کہ یہ میرا مال نہیں ہے بلکہ یہ مجھے امام صادق(ع) نے بطور امانت عطا فرمایا ہے کہ میں اس سے اختلافات کو رفع کراکے صلح کرایا کروں۔(اصول کافی،ج۲،ص۲۹۰ ،دار الکتب الاسلامیہ تہران)۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 August 18