Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190735
Published : 4/12/2017 19:3

عالم اسلام کے خلاف بننے والا منحوس مثلث اور مسلمانوں کی ذمہ داری(ایک تحریر)

امریکہ اسرائیل اور سعودی عرب اتحاد مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔


ولایت پورٹل:17ویں صدی میں استعمار اور سامراج نے مسلمان ممالک پر قبضہ جمانے کا سلسلہ شروع کیا اور مسلمانوں کی ثروت اور دولت لوٹی، اس کے بعد وہ خود تو چلے گئے پر اپنی غارت کا سلسلہ جاری رکھا،اسلامی ممالک کے اکثر سربراہ مغرب کے غلام ہیں، صرف اس لیے کہ ان کی مسندیں باقی رہیں، اسلامی دنیا مغربی حکومتوں اور فاسد مسلم حکمرانوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے،بیسویں صدی میں وہ ممالک آزاد ہونے لگے اور انسانی حقوق اور جمہوریت کی باتیں شروع ہونے لگی ایسا لگ رہا تھا کہ اکیسویں صدی تمام مسلم ممالک میں جمہوری حکومت لے کر آئے گی پر مغرب کی حمایت کی وجہ سے تب بھی بادشاہی نظام باقی رہے، اور جہاں جمہوری حکومت آئی بھی، اس کے خلاف بغاوت کر کے پہلے جیسا کر دیا، تاکہ مسلمانوں کی ثروت کو مزید لوٹا جا سکے،اب کچھ دہائیوں سے دشمن مجبور ہو گیا ہے کہ سامنے آئے، کیونکہ اسلامی بیداری اور عوام کا اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے سے اس کو خطرات کا سامنا ہوا اس لیے وہ اب کھل کر اتحاد کر رہے ہیں،ان میں سب سے زیادہ امریکہ اسرائیل اور سعودی عرب  پیش پیش ہیں، سعودیہ نے آغاز سے ہی محمد بن عبدالوہاب سے اتحاد کر لیا تھا، جو انگلینڈ کی پیداوار تھا،اگر مسلمان چاہتے ہیں کہ وہ اس حالت سے باہر نکلیں تو انہیں اس مثلث کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا ہو گا، خاص طور پر آل سعود کے بارے میں کوئی موقف اختیار کرنا ہوگا۔ کیونکہ کسی خاندان نے بھی اسلام کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا ہو گا جتنا آل سعود نے پہنچایا ہے۔ داعش ان کی پیداوار تھی جس نے مسلمانوں کی عزت و ناموس، جان اور مال کو لوٹا۔ داعش کی طرفداری کا یہ سماں تھا کہ اس نے امریکہ اور اسرائیل پر ایک حملہ بھی نہیں کیا،اب مسلمانوں پر عقلی اور شرعی طور پر واجب ہے کہ اس سے لاتعلق نہ رہیں، کیونکہ مسلمانوں کی غلفت کی وجہ سے ہی ایسے افراد ہم پر مسلط ہوتے آرہے ہیں، اب اگر کچھ نہ کیا تو خدا کی بارگاہ میں اپنے اعمال کا جواب دہ ہم خود ہونگے۔
Iuvmpress




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11