Tuesday - 2018 Oct. 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190742
Published : 6/12/2017 16:13

ہفتہ وحدت:

مسلمانوں کے ساتھ امام صادق(ع) کا رویہ

چاہے اہل سنت حضرات اہل بیت(ع) کے حق خلافت کو تسلیم نہ کرتے ہوں لیکن علمی مرجعیت کو ہمیشہ سے قبول کرتے رہے ہیں جس کی واضح سی دلیلیں خود خلفاء ثلاثہ اور اس کے بعد کے خلفاء کی زندگی میں کثرت کے ساتھ نظر آتی ہیں،پس جب اہل سنت کے خلفاء اپنے مشکل اور پیچیدہ مسائل میں آئمہ علیہم السلام کی طرف رجوع کرتے تھے تو ان کا اتباع کرتے ہوئے خود ان کے علماء اور دانشور حضرات،اپنی مشکل علمی گتھیوں کو سلجھانے اور سخت ترین علمی مسائل کا جواب پانے کے لئے اہل بیت(ع) کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔چنانچہ علماء اہل سنت کے بارے میں تاریخ کی گواہی موجود ہے کہ انھوں نے بہت سے تفسیری اور احکام دین کے سخت اور مشکل مراحل میں آئمہ کی طرف رجوع کیا ہے۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آئمہ معصومین(ع) کے درمیان امام محمد باقر اور امام جعفر صادق(ع) کا دور تمام دیگر آئمہ(ع) کے زمانے سے مختلف تھا چونکہ اس دور میں بنی امیہ کی حکومت اپنے زوال کی طرف گامزن تھی جبکہ بنی عباس اپنی حکومت کو معرض وجود میں لانے کے لئے سعی پیہم کررہے تھے۔انہیں حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امامین صادقین(ع) نے لوگوں کی علمی ضرورتوں کا پاس کرتے ہوئے مسلمان معاشرہ کی فکری تربیت پر توجہ فرمائی اور تاریخ کے محکم شواہد کی رو سے ۴ ہزار شاگردوں کو اپنے مہد علم و فضل میں پروان چڑھایا،لہذا وہ سب کے سب شاگرد مکتبی طور پر آپ کے مذہب کے پیرو نہیں تھے بلکہ ان میں بہت سے دوسرے اسلامی فرقوں سے تعلق رکھتے تھے چونکہ چاہے اہل سنت حضرات اہل بیت(ع) کے حق خلافت کو تسلیم نہ کرتے ہوں لیکن علمی مرجعیت کو ہمیشہ سے قبول کرتے رہے ہیں جس کی واضح سی دلیلیں خود خلفاء ثلاثہ اور اس کے بعد کے خلفاء کی زندگی میں کثرت کے ساتھ نظر آتی ہیں،پس جب اہل سنت کے خلفاء اپنے مشکل اور پیچیدہ مسائل میں آئمہ علیہم السلام کی طرف رجوع کرتے تھے تو ان کا اتباع کرتے ہوئے خود ان کے علماء اور دانشور حضرات،اپنی مشکل علمی گتھیوں کو سلجھانے اور سخت ترین علمی مسائل کا جواب پانے کے لئے اہل بیت(ع) کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔چنانچہ علماء اہل سنت کے بارے میں تاریخ کی گواہی موجود ہے کہ انھوں نے بہت سے تفسیری اور احکام دین کے سخت اور مشکل مراحل میں آئمہ کی طرف رجوع کیا ہے،مثلاً مسعدہ بن صدقہ ایک اہل سنت قاضی تھے لیکن قضاوت کے مشکل مراحل میں امام صادق(ع) کی طرف رجوع کرتے اور اپنی مشکل کو آسان کروا لیا کرتے تھے۔
آئمہ(ع) بھی ان افراد کے ساتھ بڑا مہربانہ سلوک روا رکھتے تھے،ان کے مریضوں کی عیادت کو جاتے تھے،مالی مشکلات میں ان کا تعاون کرتے تھے یعنی ایسا نہیں تھا کہ جب کوئی اہل سنت امام صادق(ع) کی خدمت میں شرفیاب ہو اور وہ اپنے کو اجنبی محسوس کرے۔ یہاں تک کہ تفسیر فیض کاشانی میں اس آئہ کریمہ: « وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِینَ یَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ فَیَسُبُّواْ اللّهَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ». کی تفسیر کے ذیل میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے کہ ایک شیعہ نے مسجد میں کسی خلیفہ کی توہین کی چنانچہ جب امام صادق(ع) نے یہ سنا تو فرمایا:خدا اس شخص پر لعنت کرے!چونکہ اس نے ایک ایسے شخص کی توہین کی کہ جو اہل سنت کے نزدیک محترم و مقدس ہے۔لہذا یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ آئمہ علیہم السلام کسی کے مقدسات کی توہین کو برداشت نہیں کرتے تھے،غرض! پوری تاریخ میں کوئی ایک موقع بھی نہیں ملتا کہ جس میں آئمہ(ع) نے اہل سنت کے مقدسات کے بارے میں تندی ظاہر کی ہو بلکہ آپ حضرات تند مزاج شیعوں کو بھی دوسروں کی اہانت کرنے سے منع فرماتے تھے۔  
لہذا ہمیں بھی امام صادق علیہ السلام کی سیرت طیبہ کا اتباع کرتے ہوئے اہل سنت بھائیوں کے ساتھ بہتر رابطہ رکھنا چاہیئے چنانچہ اگر ان میں کوئی مریض ہوجائے تو ہمیں عیادت کے لئے جانا چاہیئے، انہیں تحفے تحائف دینا چاہیئے،ان کی تقاریب میں شرکت کرنا چاہیئے ان کے صحیح عقائد کو خود انھیں کی کتابوں میں پڑھنا چاہیئے ،کسی کی سنی سنائی باتوں اور افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہیئے۔
آئمہ علیہم السلام کا عمل اپنے مخالفین سے بھی ویسا ہی تھا جیسا اپنے چاہنے والوں کے ساتھ،چنانچہ ایسے مواقع پر ہمیں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا،اگرچہ مخالفین کی کئی قسمیں ہوتی ہیں:سیاسی مخالفین،اعتقادی و مکتبی مخالفین،فیزیکی مخالفین،فیزیکی مخالف اسے کہتے کہ جو کسی انسان کی جان کا دشمن ہو اور اسے قتل کرنا چاہتا ہو،ظاہر ہے کہ  ایسے مخالف کے مقابل اپنا جان کا دفاع ضروری ہوتا ہے،اور اس کے مقابل اپنا دفاع کرنا  بھی چاہیئے،لیکن سیاسی و اعتقادی مخالفین کے مقابل اہل بیت(ع) کی سیرت اور عمل یہ تھا کہ آپ ہمیشہ عزت و احترام سے پیش آتے تھے اگرچہ وہ کوئی کافر اور غیر مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔
آئمہ معصومین(ع) نے اپنے شیعوں کو اہل سنت حضرات سے حسن سلوک کی مسلسل تلقین فرماتے تھے مثلاً آپ فرماتے تھے کہ ان کے مریضوں کی عیادت کو جائیں،ان کے مردوں کی تشیع جنازہ میں شرکت کریں،اگر انھیں مدد کی ضرورت ہو تو ان کی مدد کی جائے،لہذا آج کے زمانہ میں ہمارے مراجع کرام اور مجتہدین عظام آئمہ علیہم السلام کی سیرت کے پابند ہیں مثلاً جب آیت اللہ حکیم مکہ تشریف لے گئے تو آپ حجاز میں اہل سنت طلباء کو تحفہ دینے کے لئے کچھ رقم اپنے ساتھ لیکرگئے۔اسی طرح انقلاب اسلامی کے رہبر کبیر حضرت امام خمینی(رح) نے جس طرح لبنان کے شیعہ مسلمانوں کے حقوق کی بازیابی کی آواز اٹھائی اسی طرح فلسطین کے مظلوم سنی مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کیا اور بیت المقدس اور فلسطین کی آزادی کی تحریک کو زندہ کیا چنانچہ اہل سنت کے بڑے علماء خود معترف ہیں کہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران فلسطین اور قدس کے لئے آواز نہ اٹھاتا تو آج کسی کو یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ فلسطین بھی کوئی ملک ہے اور وہاں پر غاصب اسرائیل انھیں اپنی بربریت کا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 23