Wed - 2018 Oct. 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190746
Published : 5/12/2017 16:58

ہفتہ وحدت:

اختلاف،مسلمانوں کی ساری مشکلات کی جڑ ہے:رہبر انقلاب

آج کے دور میں مسلمانوں کے مختلف درد و غم میں جس کو سبھی درد و آلام کی جڑ کہا جاسکتا ہے،مسلمانوں کے درمیان پایاجانے والا اختلاف ہے،آج ہم مسلمان ، قرآن کے اس حکم{وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعاً وَّلَا تَفَرَّقُوا} یا پیغمبر اسلام(ص) کی اس نصیحت«وَلَا تَکُونُوا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوا وَ اخْتَلَفُوا»پر عمل نہیں کرتے ہیں،عالم اسلام کی کمزوری بھی اسی تفرقہ کے سبب ہے۔آج مسلمانوں کی کمزوری کا دوام بھی اسی جدائی کی وجہ سے ہے،ہر دور میں کوئی نہ کوئی بیماری موجود رہی ہے اور اس زمانے میں اصلی بیماری مسلمانوں کا عدم اتحاد ہے۔


ولایت پورٹل:اسلام زندگی کے سبھی گوشوں پر محیط ہے اورطانسانی زندگی کے سبھی عظیم کاموں کانسخہ حیات، علاج،راہ حل اور راہ گشا ہے،لیکن آج کے دور میں مسلمانوں کے مختلف درد و غم میں جس کو سبھی درد و آلام کی جڑ کہا جاسکتا ہے،مسلمانوں کے درمیان پایاجانے والا اختلاف ہے،آج ہم مسلمان ، قرآن کے اس حکم{وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعاً وَّلَا تَفَرَّقُوا} یا پیغمبر اسلام(ص) کی اس نصیحت«وَلَا تَکُونُوا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوا وَ اخْتَلَفُوا»پر عمل نہیں کرتے ہیں،عالم اسلام کی کمزوری بھی اسی تفرقہ کے سبب ہے۔آج مسلمانوں کی کمزوری کا دوام بھی اسی جدائی کی وجہ سے ہے،ہر دور میں کوئی نہ کوئی بیماری موجود رہی ہے اور اس زمانے میں اصلی بیماری مسلمانوں کا عدم اتحاد ہے،آپ مشاہدہ کررہے ہیں کہ عالمی امپریلزم کا مرکز علی الاعلان اور پوری وضاحت و صراحت کے ساتھ اسلام کے خلاف محاذ آرائی کرتے ہوئے موقف اختیار کرتا ہے،اس کا مد مقابل اسلام ہے۔
وہ لوگ اسلام کے مخالف اور دشمن ہیں کیونکہ وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اسلام کے پاس دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ ہوتے ہوئے جو دنیا کا مخصوص مسلمان خطہ ہے،عظیم ترین دولت و ثروت کے ذخائر اور علمی و معنوی میراث کا مالک ہونے کے ساتھ ہی بالقوّہ(ممکنہ) طور پر اپنے امکانات کو یکجا کرکے آج کے زمانے میں عالمی امپیریلزم کے لئے ایک مقتدر طاقت تشکیل دے سکتا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ عالمی امپیریلزم کے لئے اس طرح کی مقتدر و مستقل طاقت کا وجود قابل برداشت نہیں ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ ان کی دشمنی کی کوئی دلیل اور وجہ نہیں ہوسکتی ہے۔
اگر امت اسلامیہ، اپنے تیل، اپنی انسانی توانائی، اپنی منڈیوں، اپنے علم اور اپنے گوناگوں مادی و معنوی ذخیروں سے بخوبی فائدہ اٹھائے تو دنیا کی بڑی طاقتیں اور تسلط پسند لوگ اس طرح ان پر زور زبردستی نہیں کرسکتے ہیں،آپ ملت فلسطین کے سلسلہ میں مشاہدہ کریں کہ عالمی امپیریلزم کی زور زبردستی کس قدر واضح اور شرمناک ہے،ایک قوم خود اپنی سرزمین میں اس سرزمین کے غاصبوں سے مغلوب ہے وہ بھی اس قدر جرائم کے ساتھ جو ان کے خلاف انجام پاتے ہیں،وہاں حقوق انسانی کی پامالی ہورہی ہے لوگوں کی جانیں جارہی ہیں، اس سرزمین پر لوگوں سے جینے کاحق چھینا جارہا ہے، ان کے گھروں کو تباہ و برباد کیا جارہا ہے کھیتوں کو ویران کیا جارہا ہے ان کی تجارتیں ختم کی جارہی ہیں،ان کی صلاحیتوں کا گلہ دبایا جارہا ہے،انہیں ترقی و پیشرفت کے امکان سے محروم کیا جارہا ہے،ان کی عورتوں، بچوں اور جوانوں کا پیہم قتل عام کیا جارہا ہے اور عالمی امپیریلزم کے کچھ ممالک اس بابت حمایت بھی کررہے ہیں اورکچھ خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں،عالم اسلام بھی تماشہ بین بن کر رہ گیا ہے،یہ ایسا تماشہ بیں ہے جو غیر جانبدار ہے،عالم اسلام کے لئے یہ بہت بڑی مصیبت ہے، اس کی وجہ بھی عالم اسلام کی کمزوری اور اس کے اندر پایا جانے والا اختلاف ہے،ہمیں یہ مان لینا چاہیٔے کہ مسلمانوں کی اس قدر عظیم جماعت میں ہماری طاقت کا دوام عظیم امت اسلامیہ کے دلوں میں ہے،ہمیں یہ بات مان لینی ہوگی کہ وہ ہمیں ایک دوسرے کے خلاف کردیتے ہیں اور مختلف بہانوں کے ذریعہ ہمیں سرگرم رکھتے ہیں، ہمیں ایک دوسرے کے خلاف بدظن کردیتے ہیں، مذہبی جھگڑے کراتے ہیں، علاقائی و قومی تنازعہ وجود میں لاکر ہمیں سرگرم رکھتے ہیں،وہ ہماری جدائی اور تفرقہ سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں،آج کے زمانے میں ہمارے لئے یہ بہت بڑی مصیبت ہے،جس کے لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ بہت بڑی بلا ہے۔

نظام مملکت کے ذمہ دار اراکین سے خطاب۔ (۲۴؍۸؍۱۳۸۳ش)
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 17