Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190966
Published : 18/12/2017 16:35

مولانا حبیب حیدر کنتوری

مولانا سید حبیب حیدر صاحب کنتوری نے تقریباً پچاس برس کی عمر پائی اور محمد حسین قبلہ نوگانوی کے بقول سن ۱۳۰۳ ہجری میں وفات پائی،آپ نے اپنے زمانہ کے کئی نامور شاگردوں کی تربیت کرکے انھیں مذہب حقہ اہلبیت(ع) کی تبلیغ و ترویج کا کام سونپا۔

ولایت پورٹل:مولانا الحاج حبیب حیدر بن حبیب اللہ موسوی نیشاپوری،کنتوری، مفتی محمد قلی صاحب قبلہ کے خاندان سے تعلق تھا۔سن ۱۲۵۵ ہجری میں ولادت ہوئی،خداداد ذہانت اور الہی توفیق کی بدولت علوم و فنون میں عجیب طرح سے مہارت پائی،مرزامحمد  مہدی صاحب تکملۃ النجوم میں رقمطراز ہیں کہ مولانا نے کبھی کسی کے سامنے زانوئے تلمذتہہ نہیں کیا،مگر فلسفہ و منطق یہاں تک کہ رسائل و قوانین و ضوابط و شرح کبیر و شرح لمعہ بڑے تبحر کے ساتھ پڑھاتے تھے اور طلبہ بصد شوق حلق درس میں شرکت کرتے تھے۔
حبیب حیدر صاحب ادب و ریاست و سیاست سے بھی دلچسپی رکھتے تھے ان کے حلقہ احباب میں علماء اور رؤسا کے ساتھ ساتھ انگریز بھی شامل تھے۔
مولانا حبیب حیدر صاحب کنتور کے متمول زمیں دار تھے اپنے زمانہ میں لکھنؤ کے عالم عالی مقام اور مدرس بے مثال مانے جاتے تھے لہذا اس وقت کے بڑے اچھے طلباء آپ کے درس میں حاضر ہوئے۔
تعلیم علوم دین کے ساتھ سرکاری ملازمت بھی کرتے تھے اور سب رجسٹرار کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے،موصوف نے روضہ خوان اور مرثیہ گو حضرات کو صحیح روایتیں نقل کرنے کی طرف متوجہ کیا۔
وفات
مولانا سید حبیب حیدر صاحب کنتوری نے تقریباً پچاس برس کی عمر پائی اور محمد حسین قبلہ نوگانوی کے بقول سن ۱۳۰۳ ہجری میں وفات پائی،آپ نے اپنے زمانہ کے کئی نامور شاگردوں کی تربیت کرکے انھیں مذہب حقہ اہلبیت(ع) کی تبلیغ و ترویج کا کام سونپا۔

قلمی آثار
۱۔القدریہ
۲۔تحقیق دربارہ شہادت حضرت علی اکبر(ع)
۳۔شرح زیارت ناحیہ کبریٰ
۴۔رسالہ عطش
۵۔بنیان الایمان
۶۔معانی و احتمالات نحویۃ فی لا الہ الا اللہ
۷۔نجوم السماء

منبع:مطلع انوار



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21