Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190972
Published : 18/12/2017 17:10

فکر قرآنی:

برزخ میں زندگی کی کیفیت

انسان کی روح اس کے جسم خاکی سے جدا ہونے کے بعد ایسے لطیف جسم میں قرار پاتی ہے جو اکثر مادی عوارض سے عاری ہوتا ہے اور کیونکہ ہر اعتبار سے اسی جسم مادی کے مشابہ ہوتا ہے لہذا اسے «قالب مثالی» یا «بدن مثالی» بھی کہتے ہیں۔ یعنی ایسا بدن جو نہ بالکل مجرد ہی ہے اور نہ فقط مادی۔ قرآنی و روائی اعتبار سے برزخی حیات تمام انسانوں کے لئے ہے۔


ولایت پورٹل: آیات و و روایت واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ مرنے کے بعد اور قیامت سے پہلے عالم برزخ نامی ایک مقام ہے جہاں انسان کی روح اس کی موت کے وقت سے قیامت برپا ہونے تک باقی رہے گی۔
وَمِنْ وَّرَاۗىِٕہِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ (سورہ مومنون، ۱۰۰)
ترجمہ: اور ان کے پیچھے ایک عالم برزخ ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہنے والا ہے۔
انسان کی روح اس کے جسم خاکی سے جدا ہونے کے بعد ایسے لطیف جسم میں قرار پاتی ہے جو اکثر مادی عوارض سے عاری ہوتا ہے اور کیونکہ ہر اعتبار سے اسی جسم مادی کے مشابہ ہوتا ہے لہذا اسے «قالب مثالی» یا «بدن مثالی» بھی کہتے ہیں۔ یعنی ایسا بدن جو نہ بالکل مجرد ہی ہے اور نہ فقط مادی۔ (اقتباس از تفسیر نمونہ، ج ۱۴، ص ۳۲۲) قرآنی و روائی اعتبار سے برزخی حیات تمام انسانوں کے لئے ہے۔
روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ برزخ میں انسانوں کو پانچ گروہوں میں بانٹا جا سکتا ہے:
۱۔ وہ افراد کہ جو ایمان و کمال کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں۔ ایسے افراد کی روح مرنے کے بعد منکر و نکیر کے سوالات کے جواب دے کر قالب مثالی میں قرار پاتی ہے اور یہ برزخی جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ قیامت برپا ہونے تک یہ افراد برزخی جنت میں امیر المومنین (ع) کی بارگاہ میں رہتے ہوئے طرح طرح کی الہی نعمتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں۔
۲۔ وہ مؤمن افراد کہ جو کمال کے اعتبار سے گروہ اول کے پایہ تک نہیں پہنچ پاتے؛ قبر کے سوال و جواب کے مرحلہ سے گزرنے کے بعد ان کی قبر میں برزخی جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں ان کی قبر تا حد نظر وسیع ہوکر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بن جاتی ہے۔ یہ افراد اپنی قبروں میں الہی نعمتوں سے مستفید ہوتے ہیں اور ان کی دعا یہ ہوتی ہے کہ پروردگارا! قیامت کو برپا فرما تاکہ حقیقی جنت کی جن نعمتوں کا تونے وعدہ کیا ہے وہ ہمیں حاصل ہو سکیں۔
۳۔ وہ گنہگار مؤمن جو عذاب کے مستحق ہیں؛ یہ افراد اپنی قبر میں منکر و نکیر کے سوالوں کے جواب دینے پر قادر نہیں ہوتے لہذا فرشتے اپنے ہاتھوں میں موجود گرز کو ان کے سر پر مارتے ہیں اور ان کی قبر آگ سے بھر جاتی ہے۔ برزخی جہنم کا ایک دروازہ ان کی قبر میں کھول دیا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں ان کی قبر جہنم کا ایک کنواں بن جاتی ہے اور یہ اسی طرح عذاب میں مبتلا رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے گناہوں کو بخش دیا جائے۔
۴۔ وہ افراد جو کافر محض ہیں؛ یہ بھی قیامت تک گنہگار مؤمن کی طرح عذاب میں مبتلا رہتے ہیں لیکن اس فرق کے ساتھ کہ کافر کا عذاب، عقیدہ و عمل کا عذاب ہے یعنی برزخی عذاب سے ان کےقیامت کے عذاب میں کوئی کمی واقع ہونے والی نہیں ہے۔ لیکن گنہگار مؤمن کا عذاب، عمل کا عذاب ہے لہذا یہ برزخی عذاب اس کی اصلاح اور گناہوں سے پاک ہونے کا سبب بنتا ہے۔ (سیری در جہان پس از مرگ، ص۳۲۸ـ۳۳۰)
۵۔ وہ افراد کہ جو نہ اہل ثواب ہیں کہ مستحق نعمت ہوں اور نہ ہی اہل معصیت کہ مستحق عذاب قرار پائیں؛ ایسے لوگوں کی روح قیامت برپا ہونے تک قالب مثالی میں بیہوشی کے عالم میں باقی رہے گی۔ (فروع کافی، ج۳، ص۳۲۸)
موت کے وقت انسان کی روح مکمل طور پر اس کے جسم سے جدا ہوجاتی ہے۔ قیامت کے وقت خداوند عالم اس کی بوسیدہ اور خاک میں ملی ہوئی ہڈیوں اور بدن کو ایک نئی زندگی عطا کرے گا اور روح کو دوبارہ اس جسم میں پلٹائے گا۔ (پیام قرآن، ج۵، ص ۳۰۸ـ۳۳۴)
جو لوگ خودکشی کی موت مرجاتے ہیں ان کی موت کا وقت وہی ہوتا ہے یہ باقی لوگوں سے الگ نہیں ہیں۔ البتہ خودکشی کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور شدید عذاب کا سبب بنتی ہے۔
قُلْ يَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِيْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ (سورہ سجدہ، ۱۱)
ترجمہ: آپ کہہ دیجئے کہ تم کو وہ ملک الموت زندگی کی آخری منزل تک پہنچائے گا جو تم پر تعینات کیا گیا ہے اس کے بعد تم سب پروردگار کی بارگاہ میں پیش کئے جاؤ گے ۔
اس آیت اور دیگر آیات و روایات سے پتہ چلتا ہے کہ روح کو قبض کرنا فرشتوں کے ہاتھ میں ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہر ایک کی قبض روح ایک خاص حالت میں ہوتی ہے؛ بعض کی اکسیڈنت میں، بعض کی اٹیک میں اور بعض کی خودکشی کی حالت میں۔ ان تمام حالات میں جسم مادی تو کام کرنا چھوڑ دیتا ہے لیکن روح فنا نہیں ہوتی؛ بلکہ روح کو فرشتے موت کے وقت جدا کر لیتے ہیں اور وہ باقی رہتی ہے۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15