Friday - 2018 july 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190974
Published : 18/12/2017 18:28

مستقبل کے تقاضے اور بچوں کی تربیت

جو بچے آج ہمارے ہاتھ میں پل رہے ہیں انہیں اللہ نے آج کے لئے نہیں بلکہ کل یعنی آنے والے زمانہ کے لئے پیدا کیا ہے،چنانچہ حضرت علی(ع) کے اس فرمان کی روشنی میں ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ ہم بچوں کے ساتھ آج کو دیکھ کر ڈیل نہ کریں بلکہ مستقبل کے حالات اور دنیا کو دیکھ کر ڈیل کریں۔ لہٰذا بچوں کی تربیت کا اصول یہی ہونا چاہیئے کہ ہماری نظر اگلے بیس، پچیس سال پر ہونی چاہیئے کہ اس وقت کی دنیا کیسی ہوگی اور پھر ہم اسی کے مطابق بچوں کو تیار کریں۔

ولایت پورٹل:بچوں کی تربیت مشکل ترین اور صبر آزما کاموں میں سے ایک کام ہے،ہمارے ہاں جس طرح ہر شعبہ زندگی تنزلی کا شکار ہے وہیں معاشرتی اقدار بھی تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں،چند سال پہلے تک ہر کام بغیر تربیت محض ڈگری کی بنیاد پر کیا جاتا تھا لیکن اب اس حوالے سے تبدیلی آرہی ہے اور ہر شعبہ میں تربیت اور ٹریننگ کو ضروری سمجھا جارہا ہے،خاص طور پر اساتذہ کی تربیت کرنا نہایت ضروری امر ہے،لیکن آج کا سب سے اہم موضوع،مستقبل کے تقاضوں کے پیش نظر بچوں کی تربیت کرنا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایسا کوئی ادارہ نہیں جہاں شادی سے پہلے نوجوانوں کی تربیت کی جائے اور ان کو سکھایا جائے کہ شادی کے بعد میاں بیوی کا رشتہ کیسے نبھانا ہے اور پھر بچوں کی تربیت میں کن کن اصولوں کا خیال رکھنا ہے؟ چنانچہ بغیر تعلیم اور بغیر تربیت کے شادی ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پہلے دو تین سال خوب لڑائیاں ہوتی ہیں، کچھ کو طلاق ہوجاتی ہے اور کچھ یہ تین سال خیریت سے گزار لیں تو پھران تین سالہ تجربات کی روشنی میں تربیت مکمل ہوجاتی ہے اور لڑائیاں کافی کم ہوجاتی ہیں۔
اگلا مرحلہ بچوں کی تربیت کا شروع ہوتا ہے تو والدین خصوصاً والد کا رویہ بچوں بالخصوص لڑکوں کے ساتھ معاندانہ ہوتا ہے،اسے بچہ نہیں بلکہ اپنا رقیب سمجھ  کر برتاؤ ہوتا ہے،پھر دوسرا بچہ ہوتا ہے، پھر تیسرا ہوتا ہے، اس طرح آٹھ دس سال گزر جاتے ہیں اور مختلف تجربات سے گزرنے کے بعد باپ اور ماں کو صحیح ماں باپ بننا آجاتا ہے،چنانچہ شادی کے دس پندرہ سال بعد جو بچہ پیدا ہوتا ہے یعنی عام طور پر آخری بچہ اس کی ایسی تربیت ہوتی ہے، جیسے واقعاً ہونی چاہیئے۔
یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے اردگرد نظر دوڑا کر دیکھ لیں اکثر لوگوں کا پہلا بچہ بہت خراب اور آخری بچہ بہت بہترین، ذہین، فطین اور عمدہ انسان ہوتا ہے کیونکہ اس کی تربیت ان والدین نے کی ہے جنھیں بچوں کے ساتھ برتاؤ کا پندرہ سالہ تجربہ تھا۔
دوسری نہایت ہی اہم بات جس کی طرف توجہ مبذول کروانا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ حضور اکرم(ص) کا ارشاد گرامی ہے: اکرموا اولادکم۔  یعنی اپنی اولاد کا اکرام کرو۔ اور حضرت علی(ع) کا فرمان ہے: اکرموا اولادکم فانھم خُلقوا لِزمانِ غیرِ زمانِکم یعنی اپنی اولاد کا اکرام کرو، یہ تمہارے زمانے کے لیے نہیں بلکہ اگلے زمانے کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔
یعنی جو بچے آج ہمارے ہاتھ میں پل رہے ہیں انہیں اللہ نے آج کے لئے نہیں بلکہ کل یعنی آنے والے زمانہ کے لئے پیدا کیا ہے،چنانچہ حضرت علی(ع) کے اس فرمان کی روشنی میں ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ ہم بچوں کے ساتھ آج کو دیکھ کر ڈیل نہ کریں بلکہ مستقبل کے حالات اور دنیا کو دیکھ کر ڈیل کریں۔ لہٰذا بچوں کی تربیت کا اصول یہی ہونا چاہیئے کہ ہماری نظر اگلے بیس، پچیس سال پر ہونی چاہیئے کہ اس وقت کی دنیا کیسی ہوگی اور پھر ہم اسی کے مطابق بچوں کو تیار کریں۔
ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم اکثر بچوں کو بیس سال پیچھے اپنے بچپن کے مطابق چلانے کی کوشش کرتے ہیں،ہم کہتے ہیں مجھے سکول جاتے وقت ایک روپیہ بھی قسمت سے ملتا تھا اور تم روز کے بیس روپیہ خرچ کرتے ہو؟ میں نے پہلی کلاس میں تختی لی تھی اور پورے پانچ سال تک اسی پر لکھتا رہا اور تم ہر تیسرے دن کاپی بھر دیتے ہو؟ آج کا استاد کہتا ہے میں نے ماریں کھا کھا کر پڑھا ہے اور مجھے بچوں کو ڈانٹنے سے بھی منع کیا جارہا ہے!
تو یاد رکھئے! اگر آپ ماضی کے بیس سالوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کی تربیت کریں گے تو یہ نسل ضائع ہوجائے گی،اور یہ بچے دو ٹانگوں پر چلنے والے حیوان کے علاوہ کچھ نہیں کہلائیں گے۔بچوں کی تربیت پچھلے بیس سالوں کو مدنظر رکھ کر نہیں بلکہ آنے والے بیس سالوں کو سامنے رکھتے ہوئے کرنی چاہیئے جیسا کہ حضرت علی (ع) کا فرمان بھی ہے۔ بچوں کے ساتھ رویّے کو مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کی دنیا کی کھوج بھی لگائیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اگلے بیس سال بعد دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی؟ آپ نئی نئی کتابیں اٹھائیں، اخبارات کے ٹیکنالوجی صفحات پڑھیں، انٹرنیٹ کو کھنگالیں اور معلوم کریں جب آپ کا بچہ تیس سال کا جوان ہوگا اس وقت دنیا کا نقشہ کیا ہوگا؟ اس وقت کونسی زبان راج کررہی ہوگی؟لوگ سفر کیسے کریں گے؟لوگوں کا کاروبار کیا ہوگا؟ مشکلات کیا کیا ہوں گی؟ کیا کیا تبدیلیاں ہوچکی ہوں گی؟ وغیرہ۔
یہ ساری معلومات اگر آپ کے ذہن میں ہوں گی تو آپ بہترین طریقے سے بچوں کی تعلیم اور تربیت کا سامان کرسکیں گے،اور خاص طور پر علماء کرام کا مستقبل کی دنیا اور اس کے حالات سے واقف ہونا ضروری ہےتاکہ وہ پہلے سے ہی اس کے مطابق اپنی پلاننگ کرسکیں،یاد رکھئے! آپ دنیا کے اس ارتقائی عمل کے آگے رکاوٹ نہیں بن سکتے بلکہ اسے سیکھ، سمجھ کر اپنے حق میں استعمال ضرور کرسکتے ہیں،لہٰذا مستقبل کے بیس، تیس سالوں میں کیا کیا ہونے والا ہے؟ اس کی ایک جھلک بھی ملاحظہ فرمالیں۔
1۔آج ہر کسی کی خواہش ہے میرا بچہ ڈاکٹر بنے لیکن یاد رکھیں اگلے پندرہ بیس سال بعد کلینک چلانے والے ڈاکٹر اور حجام چلانے والے نائی میں صرف پیشے کا فرق ہوگا۔
2۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں 2030ءتک تمام گاڑیاں یہاں تک کہ ٹرک بھی بجلی پر چلیں گے، پٹرول ڈیزل کا زمانہ قصہ پارینہ بن چکا ہوگا اور ہم اپنے پوتوں کو کہانی سنایا کریں گے کہ ہمارے دور میں گاڑیاں پٹرول سے چلتی تھیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے دادا ہمیں اسٹیم انجن والی ریل گاڑی کی کہانی سناتے تھے۔
3۔ اگلے دس سال تک سڑکوں پر ایسی گاڑیوں کی بھر مار ہوگی جن میں سواریاں تو ہوں گی لیکن ڈرائیور کوئی نہیں ہوگا، گاڑی خود چلے اور رکے گی۔
4۔اگلے چند سالوں میں کاپیاں پنسلیں ختم ہوجائیں گی،جن کی جگہ ایک ہی پنسل اور ٹیب ہوگا۔ یہاں تک کہ کتابیں بھی ختم ہوجائیں گی اور ان کی جگہ ورچوئل رئیلٹی ٹیکنالوجی آجائے گی، جس کے ذریعہ نہ صرف پڑھایا جائے گا بلکہ ماضی کی تاریخ کو حقیقت کے مصنوعی روپ میں دکھایا بھی جائے گا۔
5۔ مانیٹر تو ختم ہوچکے ہیں اگلے چند سال بعد ایل سی ڈیز بھی ختم ہوجائیں گی اور ان کی جگہ ہولوگرام ٹیکنالوجی کا راج ہوگا۔
6۔ ہولوگرام ٹیکنالوجی کی بدولت آج کے جدید ترین موبائل فون بھی قصہ پارینہ بن جائیں گے،آج کا جدید ترین موبائل آئی فون ٹین بھی لوگ اپنے پاس رکھتے ہوئے شرمائیں گے کیونکہ ان سمارٹ فون کی جگہ کنگن نما جدید کڑے آجائیں گے جن پر نہ تو کوئی سکرین ہوگی اور نہ بٹن۔ بس ضرورت کے وقت آپ کے ہاتھ پر یا کھلی فضا میں سکرین اور کی بورڈ بن جائے گا جسے آپ یوز کریں گے۔
7۔2025ءتک موجودہ کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ ختم ہوجائیں گے اور ان کی جگہ ایسے کمپیوٹر آجائیں گے جو نہ صرف سوچتے سمجھتے ہوں گے بلکہ جواب بھی دیں گے۔
8۔سب سے بڑی تبدیلی Artificial Intelligence ٹیکنالوجی ہے، جسے مصنوعی ذہانت کہا جاتا ہے۔ اگلے چند سالوں میں جیتے جاگتے، بولتے سمجھتے، ہنستے روتے، اور دکھ درد محسوس کرتے 80فیصدانسان نما روبوٹ ہر جگہ عام ہوں گے۔
9۔ اگلے چند سال بعد دنیا کے چپے چپے پر انٹرنیٹ کے سگنل آرہے ہوں گے اور وہ بھی بالکل مفت!
10۔اگلے پندرہ بیس سال تک مریخ پر دس لاکھ انسانوں کا ایک بڑا شہر آباد ہوگا اور لوگ دلہن لینے بارات لے کر مریخ پر جایا کریں گے۔

daleel


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 july 20