Wed - 2018 Sep 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190993
Published : 19/12/2017 17:23

انسانی زندگی پر رشوت کے برے آثار

ہر اس چیز کے لئے رقم خرچ کرنا جو مخالف شریعت ہو، ایک بدترین فعل ہے۔ کیونکہ یہ روپیہ ایسی راہ میں صرف کیا جارہا ہے جس کی طرف رخ کرنے سے بھی اﷲ اور اس کے رسول(ص)نے منع فرمایا ہے اور اس کے سبب ﷲ کے وضع کردہ قانون کی پامالی ہوتی ہے،حق کی فضا زہر آلود ہوکر باطل کو فروغ ملتا ہے اور اس کے مرتکب کا ایمان متزلزل ہوجاتا ہے۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! آپ نے رشوت کا نام تو سنا ہی ہوگا،بلکہ ہم میں سے بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو اپنا کام نکالنے کے لئے اپنے سے مافوق افراد کو کچھ پیسہ یا کوئی چیز بطور رشوت دےکر خوش بھی ہوتے ہیں آیئے آج اس موضوع سے متعلق کچھ معلومات حاصل کرلی جائیں۔
رشوت عربی ڈکشنری کا لفظ ہے جس کے معنیٰ رسی کے ہیں۔
چنانچہ کہتے ہیں:«ارشت الدلو» میں نے ڈول میں رسی باندھی۔ چونکہ رشوت ڈول اور رسی کی طرح ہوتی ہے،جو راشی اور مرتشی کے مابین ایک جوڑ کا کام کرتی ہے۔ جیسے رسی اور ڈول جوڑ کا کام دیتے ہیں۔
اصطلاحی تعریف
بعض علماء کے بقول رشوت وہ  شئی ہے جو حق کو باطل اور باطل کو حق یعنی سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے دیا جائے،جبکہ بعض محققین کا کہنا ہے کہ:رشوت وہ چیز ہے جو آدمی کسی حاکم یا غیر حاکم کو اس مقصد کے تحت دیتا ہے کہ فیصلہ اس کے حق میں ہو یا اس کے من پسند منصب پر اسے فائز کردیا جائے وغیرہ۔
چنانچہ ہر اس چیز کے لئے رقم خرچ کرنا جو مخالف شریعت ہو، ایک بدترین فعل ہے۔ کیونکہ یہ روپیہ ایسی راہ میں صرف کیا جارہا ہے جس کی طرف رخ کرنے سے بھی اﷲ اور اس کے رسول(ص)نے منع فرمایا ہے اور اس کے سبب ﷲ کے وضع کردہ قانون کی پامالی ہوتی ہے،حق کی فضا زہر آلود ہوکر باطل کو فروغ ملتا ہے اور اس کے مرتکب کا ایمان متزلزل ہوجاتا ہے،اس پر شیطان لعین اپنا تسلط جمالیتا ہے،اسے ہمیشہ  برے کاموں پر برانگیختہ کرتا ہے اور گناہوں کا ارتکاب کرواتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دھیرے دھیرے دین الٰہی سے بیزار اور جھوٹی زندگی کی رعنائیوں اور رنگ ریلیوں میں غرق ہوکر کفر سے قریب ہوجاتا ہے۔
بے شک رشوت حرام ہے۔ جج ہو یا قاضی، وزیر ہو یا گورنر، حاکم ہو یا ملازم، پولیس ہو یا ڈی ایم، سیکریٹری ہو یا کوئی رئیس،غرض کہ اعلیٰ سے ادنیٰ تک تمام محکموں کے ہر صاحب منصب پر اپنے فرض منصبی کی ادائیگی بغیر کسی دنیاوی غرض و غایت اور مقاصد و منفعت کے (خواہ وہ جانی ہو یا مالی) واجب ہے اور رشوت کی حرمت کے سلسلے میں علمائے کرام کی دو رائے نہیں ہیں۔ جس طرح ﷲ نے رشوت قبول کرنے کو حرام قرار دیا ہے اسی طرح رشوت دینے اور واسطہ بننے کو بھی حرام قرار دیا ہے۔
رشوت لینا اور رشوت دینا یہ کسی بھی سماج میں ایک زہریلا ناسور ہے کہ ہمیں اس سے اپنے سماج کو بچانے کی ضرورت ہے لیکن کسی بھی سماج کی تخریب سے پہلے اسے کے اثرات خود افراد پر ظاہر ہوتے ہیں لہذا ہم رشوت کے حقوقی و اجتماعی آثار سے صرف نظر کرتے ہوئے اس کے انفرادی اثار بیان کررہے ہیں۔
۱۔قساوت قلبی اور سنگدلی
رشوت مال باطل کو کھانے کے مصادیق میں سے ہے کہ جو حرام درآمد و آمدنی میں محسوب ہوتی ہے، چونکہ انسان کا کھانا پینا ایک بیج کی طرح ہے کہ جو کسی زمین میں بویا جاتا ہے پس اگر وہ غذا اور خوراک حلال و پاک ہو اس کا اثر دل پر کہ جو بدن کا سلطان و سرپرست ہے ظاہر ہوتا ہے اور اس کے اعضا و جوارح سے خیر و بھلائی کے علاوہ کوئی اور چیز جاری نہیں ہوتی،لیکن اگر کسی کی غذا اور اس کی خوراک حرام لقمہ ہو تو انسان کے دل پر اس کے غیر مناسب آثار مرتب ہوتے ہیں حرام مال کھانا نہایت مہلک و خطرناک ہیں جو قلب کی معنوی حیات کو ختم کردیتا ہے،اور اس کو سیاہ کرکے سخت پتھر کے مانند بنا دیتا ہے جس کے سبب یہ کسی طرح کی حق بات اور وعظ و نصیحت کو قبول کرنے کے قابل نہیں رہتا چنانچہ امام حسین علیہ السلام روز عاشورا اپنے ایک خطبہ میں عمر سعد کے لشکر کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:«وَیْلَکُمْ مَا عَلَیْکُمْ ان تُنْصِتُوا اِلَیَّ فَتَسْمَعُوا قَوْلِی وَاِنَّمَا اَدْعُوکُمْ اِلَی سَبِیلِ الرَّشَادِ فَمَنْ اَطَاعَنِی کَانَ مِنَ الْمُرْشَدِینَ وَمَنْ عَصَانِی کَانَ مِنَ الْمُهْلَکِینَ وَکُلُّکُمْ عَاصٍ لِاَمْرِی غَیْرُ مُسْتَمِعٍ قَوْلِی فَقَدْ مُلِئَتْ بُطُونُکُمْ مِنَ الْحَرَامِ وَ طُبِعَ عَلَی قُلُوبِکُمْ»۔
ترجمہ:واے ہو تم پر!تم کیوں خاموش ہوکر میری بات نہیں سنے! بتحقیق میں تمیں ہدایت و کامیابی کی طرف بلا رہا ہوں،پس جو بھی میری پیروی کرے گا وہ سعادتمند ہے اور جو میری نافرمانی کرے گا وہ ہلاک ہونے والوں میں ہوگا،تم سب میری نافرمانی کررہے ہو اور میری بات پر کان نہیں دھر رہے ہو!ہاں ایسا ہی ہے،کیونکہ تم سب کے پیٹ حرام  مال سے بھرے ہوئے ہیں اور تمہارے دلوں پر مہر لگادی گئی ہے۔
اگرچہ ہمارے معاشرہ میں بھی کوئی برائی اتفاقی طور پر نہیں پھیلتی،بلکہ آج بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نظریاتی طور پر اپنے معاملات اور کاروبار میں رشوت کو ایک گناہ تصور کرتے ہیں لیکن جب میدان عمل میں آتے ہیں اور کبھی  کوئی چھوٹی موٹی رشوت لے بھی لیتے ہیں تو شروع میں ان کی طبیعت ملول ہوجاتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ ان کی عادت بن جاتی ہے اور وہ اس حد تک اس میدان میں ماہر ہوجاتے ہیں کہ رشوت لینے کو اپنا حق اور فرض سمجھتے ہیں۔
۲۔دعا اور عبادت کا قبول نہ ہونا
رشوت دعا و عبادت کے قبول نہ ہونے کے اسباب میں سے ایک ہے چنانچہ پیغمبر اکرم(ص) ارشاد فرماتے ہیں:«اِنَّ الْعَبْدَ لَیَرْفَعُ یَدَهُ اِلَی اللّهِ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ فَکَیْفَ یُسْتَجَابُ لَهُ وَهَذَا حَالُهُ»۔
ترجمہ:بے شک بندہ اپنے ہاتھوں کو اللہ کی بارگاہ میں بلند کرتا ہے جبکہ اس کی خوراک حرام ہے،اس حال میں اس کی دعا کیسے مستجاب ہوگی؟
اسی طرح آپ نے ارشاد فرمایا:«مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُسْتَجَابَ دُعَاؤُهُ فَلْیُطَیِّبْ مَطْعَمَهُ وَمَکْسَبَهُ»۔
ترجمہ:جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو تو اسے اپنی غذا اور در آمد کو پاک بنانا چاہیئے۔
۳۔حساب میں سختی اور اخروی عذاب
جو شخص مال اکھٹا کرنے کے سلسلہ میں کسی طرح کے حلال و حرام کا پابند نہیں ہوتا اور رشوت و ربا وغیرہ کے ذریعہ مال کا انبار لگا لیتا ہے  وہ اس دنیا میں بھی عذاب میں مبتلاء رہتا ہے،چنانچہ وہ  اس دنیا میں بے کسوں و یتیموں کی آہ  و فریاد کے جہنم میں اور آخرت میں ابدی جہنم میں رہ کر سخت عذاب کا سامنا کرتا ہے چنانچہ رسول خدا(ص) کا ارشاد گرامی ہے:«لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنَ السُّحْتِ النَّارُ اَوْلی بِهِ»۔
ترجمہ:جس شخص کا گوشت اور اس کی نشو نما حرام غذا سے ہوگی  وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا بلکہ ایسا شخص جہنم میں جانے کا زیادہ حقدار ہے۔
یا ایک دوسری روایت میں حدیث قدسی کی یہ عبارت نقل ہوئی ہے:«مَنْ لَمْ یُبَالِ مِنْ اَیِّ بَابٍ اکْتَسَبَ الدِّینَارَ وَالدِّرْهَمَ لَمْ اَبَالِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ مِنْ اَیِّ اَبْوَابِ النَّارِ اَدْخَلْتُهُ»۔
ترجمہ:جو شخص درہم و دینار کے حصول میں(کمائی میں) اس بات کی پرواہ نہ کرتا ہو کہ یہ مال اسے کیسے حاصل ہوا ہے،مجھے بھی قیامت کے روز اس کے متعلق یہ پرواہ نہیں ہوگی کہ میں اسے کون سے دروازے سے جہنم میں داخل کروں۔
نیز ایک اور روایت میں آیا ہے کہ:قیامت کے دن ایسے شخص کے اہل و عیال اس کا گریبان پکڑ کر اللہ کی بارگاہ شکایت کریں گے:پروردگارا! ہمارا حق اس شخص سے لے ،ہم تو شریعت کے حکم سے نا آشنا تھے  اس نے ہمیں تعلیم دلوانے کا اہتمام بھی نہیں کیا اور ہمیں حرام غذا کھلائی۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 19