Monday - 2018 Dec 10
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190995
Published : 20/12/2017 17:5

قاتل مائیں؟؟؟

آج کل تو کل عجیب عجیب جوڑے دیکھنے کو ملتے ہیں جو یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں: ہم دو ہی باقی رہنا چاہتے ہیں کیونکہ بچہ تو مخل ہے! ایسے افراد جنہیں مالی مشکل بھی نہیں ہے لیکن بس ایک ہی بچہ کے خواہاں ہیں اور ان سب سے بدتر تو وہ مائیں ہیں جو اپنے بچوں کو خود قتل کردیتی ہیں!

ولایت پورٹل: عورت ہونے کے کچھ تقاضے ہیں۔ عورت ہونے کے اپنے خاص معنی ہیں جن کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ایک عورت ہمیشہ ایک ماں ہے چاہے اس کے بچے بھی نہ ہوں۔ مہربانی، بچوں کی محبت، عفو و صبر وہ دیگر صفات ہیں جو ایک عورت کو عورت بناتے ہیں۔ اگر چہ ماڈرن اور اپ ٹو ڈیٹ رہنے کے بہانے میری صنف کے درمیان عورت ہونے نے اپنے معنی کھو دیئے ہیں۔ لیکن اب بھی عورت کی جو تصویر ہمارے ذہن میں ہے وہ وہی مہربان ماں کی تصویر ہے۔
ماں ہونا اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے جو اس نے ہمارے حصہ میں قرار دی ہے؛ ہمارا لطیف ہونا اور ہمارے وجود کو محبت و عطوفت سے سرشار خلق کیا جانا ہماری کمزوری کی علامت نہیں ہے بلکہ اس کائنات میں ہمارے مؤثرترین کردار یعنی ماں ہونے کی علامت ہے۔
بچپن میں ہمارے گڑے گڑیوں کے کھیل سے ہی ہماری بچوں کی نسبت محبت کا پتہ چلتا ہے اور بڑے ہوکر ہماری زندگی کا شیرین ترین لمحہ اس وقت آتا ہے جب ہم اپنے بچے کو آغوش میں لیتے ہیں۔
نہیں معلوم کیوں اور کیسے لیکن کبھی کبھی دنیا میں کام الٹے ہونے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یونیورسٹی میں ہم نے زیادہ سیٹیں حاصل کرلی ہیں؟ یا یوں کہ جاب اور کام کے فیلڈ میں ہم نے مردوں سے بازی مار لی ہے؟ یا اس کا سبب غلط پروپیگنڈہ ہے؟ کچھ بھی ہو اس سے فرق نہیں پڑتا اہم یہ ہے کہ بعض اوقات ہم اپنی طبیعت و فطرت کے برخلاف چلتے ہیں۔
آج کل تو  عجیب ہی جوڑے دیکھنے کو ملتے ہیں، ایسے جوڑے جو یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں: ہم دو ہی باقی رہنا چاہتے ہیں کیونکہ بچہ تو مخل ہے! ایسے افراد جنہیں مالی مشکل بھی نہیں ہے لیکن بس ایک ہی بچہ کے خواہاں ہیں اور ان سب سے بدتر تو وہ مائیں ہیں جو اپنے بچوں کو خود قتل کردیتی ہیں!
ایک عورت جو محبت و عطوفت کا مرقع ہے، جس کے احساس و عشق کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ انسان جیسی امانت کو اس کے وجود میں قرار دیتا ہے، کیا ایسی عورت بھی اپنے بچے کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل کر سکتی ہے؟ اگر چہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے لیکن افسوس کہ ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہاں یہ پیش آتا رہتا ہے۔
قتل صرف یہ نہیں ہیکہ بچے کو چاقو سے مارا جائے یا اس کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ وہ بچہ کہ جس نے ماں کے پیٹ میں آکر حق حیات حاصل کر لیا ہے اگر دنیا میں آنے سے پہلے ہی اس سے یہ حق چھین لیا جائے تو وہ بچہ بھی مقتول کہلائے گا۔ لیکن تمام اسقاط حمل (abortion) قتل نہیں ہیں۔
اسقاط حمل دو طریقے کے ہوتے ہیں:
۱۔خود بخود ہوجانے والا اسقاط (spontaneous abortion) یا miscarriage
۲۔ انسان کی مرضی سے ہونے اسقاط (مائلی اسقاط) (induced abortion)
خود بخود ہوجانے والے اسقاط کا معاملہ واضح ہے؛ وہ مائیں جن کے بچے کسی بیماری یا حادثہ کی وجہ سے ساقط ہو جاتے ہیں۔ لیکن مائلی اسقاط کہ جو انسان کی مرضی سے انجام پاتے ہیں خود دو طرح کے ہیں:
ایک تو جب حمل کو باقی رکھنا ماں کے لئے قابل توجہ ضرر کا باعث بن رہا ہو تو ڈاکٹر کی تجویز سے اسقاط انجام پاتا ہے لیکن ہماری گفتگو مائلی اسقاط کی دوسری قسم کے بارے میں ہے کہ جہاں بغیر کسی قابل قبول عذر کے ماں یا ماں باپ ملکر بچے کو ساقط کروا دیتے ہیں۔
یہ جملہ بہت دردناک ہےکہ، ماں یا ماں باپ ملکر اپنے بچے کو ختم کردیتے ہیں۔
اگر ہم خبروں میں سن لیتے ہیں کہ ایک ماں نے اپنے بچے کو قتل کردیا ہے تو فوراً ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کتنی بے رحم ماں تھی۔ لیکن ہم اس سے غافل ہوجاتے ہیں کہ مائلی اسقاط حمل بھی قتل نفس ہے۔
یہاں میں اسقاط حمل کی شرعی اور قانونی بحث کو نہیں بیان کرنا چاہتی۔ میں تو صرف ان ماؤوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ جو حاملہ ہوتی ہیں اور اپنے حمل کو نامطلوب حمل کا نام دیتی ہیں۔ کہ اگر ان کے یہاں کوئی بچہ ہے تو اس کے معصوم چہرے پر ایک نظر ڈالیں، اس کی آنکھوں، ابرؤوں، ہاتھوں، پیروں ۔۔۔۔ اور بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیریں اور ایک لمحہ کے لئے تصور کریں کہ اگر ان کے بچے کے لئے کوئی حادثہ پیش آجائے تو انہیں کیسا محسوس ہوگا۔
ٹھیک ہے کہ جب آپ کو بچے کی خواہش نہیں ہوتی اس وقت فیملی میں ایک ممبر کا اضافہ ہوجانا مشکل کا باعث ہوسکتا ہے اور ممکن ہے کہ آپکا پورا شیڈیول ہی بدل کر رکھدے لیکن ہر مشکل کا ایک حل بھی ہوتا ہے۔ لیکن مستقبل کی مشکلات اور رزق و روزی کے حوالہ  سے خوفزدہ ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمیں خدا اور اس کے وعدہ پر ایمان ہی نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی کو مزید اولاد کی خواہش نہیں ہے تو اس کے لئے پہلے ہی سے توجہ کرے۔ اسقاط حمل تو یعنی اپنے پارہ وجود کو قتل کر دینا ۔۔۔۔۔
ہاں! کچھ ایسے بچے بھی ہیں جو غیر شرعی روابط کی قربانی بن جاتے ہیں البتہ ان کے قاتل کو ماں باپ نہیں کہا جاسکتا یہ تو اس لذت اور مستی کی قربانیاں ہیں جسے حاصل کرنے کے لئے لوگ غیر شرعی راستہ اپناتے ہیں۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 10