Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 190999
Published : 19/12/2017 18:51

معرفت خدا کا آسان سبق

اگر ہم چشم بصیرت سے غور و فکرکے ساتھ دیکھیں تو خداوند عالم کے علم و حکمت کی نشانیاں ہمیں کائنات میں ہر جگہ نظر آتی ہیں، ہم اسے پہچانتے ہیں، دل سے اسے چاہتے ہیں، اور اس کی قدرت و عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اور اپنے دل کی گہرائیوں سے اس کے الطاف اور بے شمار نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اس کی مقدس محبت ہمارے وجود کے ہر حصہ میں پیوست ہے، ہم صرف اسی کو عبادت و دعا کے لائق سمجھتے ہیں اور صرف اور صرف اسی کے حکم کو مانتے ہیں اور اسی کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔


ولایت پورٹل:ہمارے سامنے یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں:کیا آنکھ کو اپنی اہمیت اور باریکی کی خبر تھی؟ جو اس نے آنکھ کے گڑھے کو امن و امان کی جگہ سمجھ کر اپنے لئے منتخب کیا ہے؟ یا وہ اتفاقیہ طور پراس پرامنجگہ پر آگئی ہے؟ یا کسی دوسرے نے اس کے لئے ایسی پر امن جگہ بنائی ہے؟
کیا خود آنکھ، پسینہ کو اپنے اندر آنے سے روکتی ہے؟ اپنے اوپر ابرو (Eye brow) ناتی ہے؟ یا یہ کہ ابرؤوں کو اس کی ضرورت کی خبر تھی اس لئے وہ خود اس کی مددکے لئے آگئی ہیں؟ یا کسی دوسرے شخص نے ابرؤوں کو آنکھ کے اوپر بنادیا ہے؟
کیا پلکیں اتفاقیہ طور سے آنکھوں کی حفاظت اور انہیں نرم رکھنے اور دھونے کے لئے یونہی بن گئی ہیں؟ کیا پلکوں کو آنکھوں کی صحت کی ضرورت تھی کہ جو وہ آنکھ کے ڈھیلے پر چربی ملتی رہتی ہیں اور اپنی تیز حرکت سے آنکھ کو دھوتی رہتی ہیں، یا یہ کہ کسی خالق علیم و قدیر نے انہیں اس انداز سے ڈھالا ہے؟
کیا آنسؤوں کا غدہ (Lacrimalglands)آنکھ کے کونے میں اچانک پیدا ہوگیا؟ اس جراثیم کش (بیکٹیریا کے قاتل) سیال کامرکب کس نے تیار کیا ہے؟ کیا آنسؤوں کے غدود کو یہ معلوم تھا کہ آنکھ کے بیکٹیریا کو مارنے کے لئے انہیں نمکین پانی کی ضرورت ہے؟ کیا آنکھ کے گوشہ کا سوراخ (DACRIOSIST) (جس سے اضافی آنسو باہر نکل جاتے ہیں) اتفاقاً بن گیا ہے یا خود آنکھ نے اس سوراخ کو بنایا ہے؟ کیا آنکھ کو ناک اور سانس کے سسٹم میں رطوبت کی ضرورت کی خبر تھی کہ جس کی وجہ سے وہ اپنی ضرورت سے زیادہ آنسووں کو ناک کی طرف منتقل کردیتی ہے؟ یا یہ کہ خدائے علیم و قدیر نے ان سب کو بنایا ہے؟
کیا پلکوں میں چربی نکلنے کے سوراخ خود بخود اور اچانک پیدا ہوگئے ہیں؟ یا یہ کہ آنکھ کو چونکہ ان کی ضرورت تھی اس لئے اس نے خود انہیں بنایا ہے؟ کیا پلکوں کو یہ خبر تھی کہ اس طرح چربی چھوڑنے سے وہ آنکھ کی صحت مندی میں کتنا اہم کردار ادا کررہی ہیں؟یا آنکھ اور پلکوں کے ماہیچے اس عجیب و غریب انداز میں خود بخود اور اتفاقی طور پر پیدا ہوگئے؟ یا ان کو آنکھ نے بنایا ہے، یا کسی دوسرے نے ان کو اس انداز سے بنایا ہے؟
کیا بینائی کے اعصاب اپنی تمام ظرافتوں اور باریکیوں کے ساتھ خود بخود آنکھ کو دماغ میں موجود بصارت کے مرکز سے جوڑ دیتے ہیں؟ یا یہ کہ کسی صاحب علم ہستی نے انہیں جوڑا ہے۔
ایک جملہ میں یہ کہ یہ منظم و مرتب مجموعہ جس کے تمام اعضا آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں سب کا ایک مقصد (دیکھنا) ہے کیا یہ اتفاقاً اور اچانک پیدا ہوسکتے ہیں؟
جی ہاں! ہر صاحب عقل انسان یہ جواب دے گا کہ ایسے منظم و مرتب مجموعہ(جس میں سینکڑوں قانون اور ہزاروں باریکیاں اور عجائبات پائے جاتے ہیں) کے بارے میں یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا ہے کہ یہ اتفاقی طور پر اور اچانک خود بخود پیدا ہوگیا ہے، بے شک اس کو کسی جاننے والے اور صاحب قدرت نے بنایا ہے۔
صحیح جواب بھی یہی ہے، جب ہم آنکھ کی پیچیدہ عمارت کو دیکھتے ہیں اور جب آنکھ سے اس کے فرعی اعضاء کے رابطہ اور ان سب کا دماغ سے رابطہ اور ان اجزاء کا پورے بدن سے رابطہ اور پورے بدن کا اس کائنات سے رابطہ کا انداز دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ پوری دنیا ایک منظم اکائی(Unit) کی طرح مربوط اور جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے جس میں نظم ہی نظم ہے اور ہمیں اچھی طرح یہ دکھائی دیتا ہے کہ اس دنیا کو ایک عظیم خالق نے بنایا ہے جو علیم و قدیر ہے اور وہی اس کے نظام کو چلا رہا ہے۔
اگر ہم چشم بصیرت سے غور و فکرکے ساتھ دیکھیں تو خداوند عالم کے علم و حکمت کی نشانیاں ہمیں کائنات میں ہر جگہ نظر آتی ہیں، ہم اسے پہچانتے ہیں، دل سے اسے چاہتے ہیں، اور اس کی قدرت و عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں اور اپنے دل کی گہرائیوں سے اس کے الطاف اور بے شمار نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اس کی مقدس محبت ہمارے وجود کے ہر حصہ میں پیوست ہے، ہم صرف اسی کو عبادت و دعا کے لائق سمجھتے ہیں اور صرف اور صرف اسی کے حکم کو مانتے ہیں اور اسی کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23