Sunday - 2018 April 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191005
Published : 19/12/2017 20:18

یروشلم کو اسرائیل کی دارالحکومت بنانے کے امریکی اعلان کے خلاف لکھنؤ میں علماء کا احتجاجی جلسہ

اس جلسہ میں مولانا سید منظر صادق نے مفصل گفتگو کرتے ہوئے امریکی حیلہ سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی،ساتھ ہی بیان کیا کہ سعودی حکمران ایران کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں جب کہ آج ایران ہر لحاظ سے خالص اسلام کے لئے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔اب دنیا کو معلوم ہو گیا کہ اصل اسلام کس کے پاس ہے۔اگر آج مسلمانوں نے اپنی بیداری کا ثبوت نہ دیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

ولایت پورٹل:امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعہ یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت اعلان کئے جانے کے خلاف دانش آموختگان جامعۃ المصطفیٰ العالمیۃ نے لکھنؤ کے تحسین گنج علاقہ میں واقع امام باڑہ ملکہ جہاں میں احتجاجی جلسہ کیا،جس کا آغاز مولانا سید قمر الحسن رضوی نے کلام اللہ کی تلاوت کے ذریعہ کیا۔
ابتدائی تقریرمیں مولانا سید حیدر عباس رضوی نے اسرائیلی مظالم کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان کیا کہ جس طرح گذشتہ میں اسرائیل کو جوہری توانائی کے حصول میں کسی بھی عالمی تنظیم کی جانب سے کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ منمانے طریقے سے بے گناہ فلسطینی عوام کو اپنے ظلم و تشدد کا نشانہ بناتے رہے اسی طرح آج بھی اس غیر قانونی فیصلے پر بعض مسلم ممالک کے علاوہ دیگر جگہوں سے صدائے احتجاج بلند نہیں ہو رہی۔اگر چہ آج مسلمانوں نے اپنی فکری بیداری کا ثبوت دیا اور جا بجا احتجاجی مظاہرے اب تک جاری ہیں۔
مولانا سید منظر صادق نے مفصل گفتگو کرتے ہوئے امریکی حیلہ سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی ۔ساتھ ہی بیان کیا کہ سعودی حکمران ایران کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں جب کہ آج ایران ہر لحاظ سے خالص اسلام کے لئے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔اب دنیا کو معلوم ہو گیا کہ اصل اسلام کس کے پاس ہے۔اگر آج مسلمانوں نے اپنی بیداری کا ثبوت نہ دیا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
اس احتجاجی جلسہ کے آخر میں جلسہ کے کنوینر مولانا سید تنویر عباس نے علماء بالخصوص خواہران کا شکریہ ادا کیا،قابل ذکر ہے کہ اس احتجاجی جلسہ میں لکھنؤ اور بیرون شہر سے کثیر تعداد میں علماء و افاضل اور دانش آموختگان المصطفیٰ نے شرکت کی جن میں سید منظر صادق،سید حمید الحسن،سید منور حسین،سید ممتاز جعفر،سید تنویر عباس،سید شباہت حسین،سید قمر الحسن،مرزا جعفر عباس،مرزا رضا عباس،سید حیدر عباس،سید تفضل حسین،اعجاز حیدر،سید افتخار مہدی ،قنبر عباس وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

majlis ulema e hind


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 April 22