Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191044
Published : 21/12/2017 10:25

انٹرنیٹ پر دوستی کی حقیقت:

دوست بنانے کے علوی معیار

ہمارے اس زمانہ میں کہ جہاں دوستی کے اسلامی اور عقلانی اصول بھلا کر فیس بک،ٹوئیٹر اور دیگر مواصلاتی ذرائع کے ذریعہ دوست بنانے کی بہتات ہے یہاں امتحان اور تدابیر کا تو کام ہی نہیں بلکہ صرف جھوٹی پروفائیل دیکھ کر یا کوئی اچھی سی تصویر دیکھ کر رکویسٹ بھیج دی جاتی ہے کہ جس کے اثآر آج ہم ہر طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں ہر طرف ندامت ہی ندامت،پشیمانی ہی پشیمانی نظر آتی ہے،ممکن ہے سوشل نیٹورک پر ملنے والے وہ لوگ کہ جنھیں ہم اپنا دوست تصور کررہے ہوں وہ ہماری جہالت اور نادانی کا فائدہ اٹھا رہے ہوں اور ہمیں اپنے برے مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہوں لہذا ہمیں اپنے لئے کسی دوست کا انتخاب کرتے وقت یہ خیال رہے کہ کہیں یہ ہمارے لئے عذاب اخروی کا سبب نہ بن جائے۔

ولایت پورٹل:خداوند عالم نے انسان کو ایک اجتماعی مخلوق کے طور پر خلق فرمایا ہے اور شاید اس کا سبب اس کی وہ مادی اور معنوی ضرورتیں ہوں کہ جو تنہائی میں پوری نہ سکیں۔لہذا یہی امر انسان کو وادار کرتا ہے کہ وہ کسی دوسرے انسان سے رابطہ رکھے۔اگرچہ زندگی میں کسی دوست اور ہمراز کا ہونا نہایت ضروری امر ہے لیکن یہ ضرورت آنکھیں بند کرکے پوری نہیں کرنی چاہیئے بلکہ اس کے لئے کچھ خاص قوانین اور آداب کی رعایت لازمی ہے تاکہ انسان زندگی میں نقصان اور گھاٹے سے محفوظ رہ سکے۔
امام علی(ع) کی نظر میں دوست کا مرتبہ
امیرالمؤمنین(ع) کے نورانی کلام میں دوست کے لئے سب سے خوبصورت اور حسین تعبیر شاید نہج البلاغہ کی یہ معنٰی خیز عبارت ہو:«أَعْجَزُ النَّاسِ مَنْ عَجَزَ عَنِ اكْتِسَابِ الْإِخْوَانِ وَ أَعْجَزُ مِنْهُ مَنْ ضَيَّعَ مَنْ ظَفِرَ بِهِ مِنْهُم»۔(1)
ترجمہ:سب سے عاجز وہ انسان ہے کہ جو اپنے لئے کوئی دوست نہ بنا سکے اور اس سے بھی عاجز وہ ہے کہ جو دوست پاکر اسے کھو دے۔
حضرت امیر علیہ السلام کی یہ حکیمانہ تعبیر اس اجتماعی رابطہ(دوستی) کی اہمیت و افادیت پر روشن دلیل ہےلیکن حضرت کا یہ فرمان بے قاعدہ و قانون دوستی کے لئے جواز نہیں بن سکتا۔
دوست بنانے کے علوی معیار
پہلا معیار:امتحان اور احتیاط
دوست بنانے اور اجتماعی روابط کے سلسلہ میں سب سے پہلا اور اہم قانون کہ جس کی رعایت حد درجہ ضروی ہے یہ ہے کہ بغیر امتحان اور احتیاطی تدابیر کے دوست بنانے میں سبقت نہیں کرنا چاہیئے چونکہ اگر دوست کے انتخاب میں چھان بین،اور جانچ پڑتال انجام نہ دی گئی تو ممکن ہے کہ یہی دوست کہ جسے ہم نے اپنی ہمنشینی کے لئے انتخاب کیا ہے یہ ہماری روح کے بیمار ہونے کا سبب بن جائے چنانچہ امام علی علیہ السلام نے دوست کے انتخاب میں انکھوں کو بند رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:«مَن لَم يُقَدِّم فِى اتِّخاذِ الإِخوانِ الاِعتِبارَ دَفَعَهُ الاِغتِرارُ إِلى صُحبَةِ الفُجّارِ»۔(2)
ترجمہ:جو شخص اپنے لئے دوست کا انتخاب کرنے سے پہلے اس کا امتحان نہ لے تو اسے یہ فریب بدکاروں کی ہمنشینی پر وادار کردیتا ہے۔
چنانچہ ہمارے اس زمانہ میں کہ جہاں دوستی کے اسلامی اور عقلانی اصول بھلا کر فیس بک،ٹوئیٹر اور دیگر مواصلاتی ذرائع کے ذریعہ دوست بنانے کی بہتات ہے یہاں امتحان اور تدابیر کا تو کام ہی نہیں بلکہ صرف جھوٹی پروفائیل دیکھ کر یا کوئی اچھی سی تصویر دیکھ کر رکویسٹ بھیج دی جاتی ہے کہ جس کے اثآر آج ہم ہر طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں ہر طرف ندامت ہی ندامت،پشیمانی ہی پشیمانی نظر آتی ہے،ممکن ہے سوشل نیٹورک پر ملنے والے وہ لوگ کہ جنھیں ہم اپنا دوست تصور کررہے ہوں وہ ہماری جہالت اور نادانی کا فائدہ اٹھا رہے ہوں اور ہمیں اپنے برے مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہوں لہذا ہمیں اپنے لئے کسی دوست کا انتخاب کرتے وقت یہ خیال رہے کہ کہیں یہ ہمارے لئے عذاب اخروی کا سبب نہ بن جائے چنانچہ قرآن مجید ہمیں ان لوگوں کے بارے بتارہا ہے کہ جو قیامت میں اپنے دوستوں کی وجہ سے مبتلائے عذاب ہونگے لہذا ارشاد ہوتا ہے:«يا وَيْلَتى‏ لَيْتَني‏ لَمْ أَتَّخِذْ فُلاناً خَليلاً»۔(3)
ترجمہ:ہائے افسوس!کاش میں نے فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔
دوسرامعیار:حد درجہ اعتماد سے گریز
دوست پر اعتماد و اطمینان کی ایک حد ہونی چاہیئے چونکہ کسی شخص پر حد درجہ اعتماد کرنا بھی دوستی کے ستون میں لرزہ طاری کردیتا ہے لہذا امیرالمؤمنین(ع) نے اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے:«وَ لاتَبذُل لَهُ کُلَّ الطُّمانینَهِ»۔(4)
ترجمہ:تم اپنے دوست کے سامنے اطمینان کے  تمام سرمائے کو نثار نہ کرو۔
یہ دوستی کا ایک منفی پہلو ہے کہ جو اکثر نوجوانی اور جوانی میں پیش آتا ہے اور خصوصاً لڑکیوں میں یہ پہلو بہت قوی ہوتا ہے چنانچہ آج کے مواصلاتی دور میں اس کے تخریبی پہلو پر ضرور توجہ دینا چاہیئے شاید اس دکھاوٹی اور جھوٹے اعتماد کی بنیاد سادہ لوحی ہو، آج سوشل میڈیا پر بنام دوستی اور نمائشی اعتماد بہت سے لوگ اپنے انفرادی امور اور گھریلو معلومات شئیر کردیتے ہیں کہ جو بعد میں ان کے لئے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔
تیسرا معیار:اعتدال و میانہ روی
دوستی اور اجتماعی روابط کے لئے ایک مناسب وسیلہ اور طریقہ  اعتدال اور میانہ روی کی رعایت کرنا ہے۔
کبھی کبھی لوگ دوستانہ عطوفت کے سیلاب میں بہہ کر اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ انھیں حقیقت دکھائی ہی نہیں دیتی۔ اس طرح کے انھیں اپنے سامنے والے کا کوئی عیب و نقص نظر ہی نہیں آتا۔لہذا اس کی نسبت غلط تصور اپنے ذہن میں بٹھا لیتے ہیں، چنانچہ دوستی میں اعتدال کی رعایت کے سلسلہ میں نہج البلاغہ میں حضرت امیر علیہ السلام کا یہ قول ہمارے لئے رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے:«أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْناً مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْماً مَا وَ أَبْغِضْ بَغِيضَكَ هَوْناً مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْماً مَا»۔(5)
ترجمہ:اپنے دوست سے بس ایک حد تک محبت کرو کیونکہ شاید کسی دن وہ تمہارا دشمن ہو جائے اور دشمن کی دشمنی بس ایک حد تک رکھو ہوسکتا ہے کہ کسی دن وہ تمہارا دوست ہو جائے۔
امام علی(ع) کی نظر میں بہترین دوست کے خصوصیات
1۔خدا کے لئے دوستی:اس دوست کی دوستی سب سے اچھی ہےکہ جو انسان کو خدا سے ملا دے او اسے یاد خدا سے ہرگز غافل نہ بنائے چنانچہ حضرت امیر علیہ سے نقل ہوا ہے کہ:تمہارے سب سے بہترین بھائی (دوست) وہ ہیں کہ جو تمہارے ساتھ خدا کی اطاعت کے سلسلہ میں سختی سے پیش آئیں۔(6)
2۔گناہ سے دوری کا سبب ہو،نہ سبب گناہ:امام علی(ع) کی نظر میں بہترین دوست وہ ہوتا ہے کہ جو اپنے دوست کو گناہوں کی دلدل میں گرنے سے روکے نہ یہ کہ اسے گناہ کرنے پر آمادہ کرے:تمہارا بہترین دوست وہ ہے جو تمہیں تقویٰ کی نصیحت اور ہوی و حوس کی پیروی سے منع کرے۔(7)
3۔نیکیوں کی طرف راغب کرے:امام علی(ع) کی نظر میں بہترین دوست وہ ہے کہ جو انسان کو گناہوں سے دور کرنے کے ساتھ ساتھ اسے نیک کاموں کے بجالانے کی بھی ترغیب دلائے:تمہارے سب سے اچھے بھائی(دوست) وہ لوگ ہیں کہ جو خود بھی نیکیوں کے کرنے میں سبقت کرتے ہوں اور تمہیں بھی نیکیاں کرنے کے لئے ترغیب دلائیں۔(8)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔نهج البلاغہ،(صبحی صالح)،ص470۔
2۔تصنیف غررالحکم و دررالکلکم،ص416 ، ح9495۔
3۔سورہ فرقان:28۔
4۔بحارالانوار،ج71 ، ص165۔
5۔نهج البلاغہ،،کلمات قصار 168۔
6۔ تصنيف غرر الحكم و درر الكللم، ص416، ح9509۔
7۔سابق حوالہ،ص415، ح9485۔
8۔سابق حوالہ،ص417، ح9534۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19