Thursday - 2018 April 26
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191045
Published : 21/12/2017 13:29

توابین کے قیام پر ایک نظر

توابین کا قیام اگرچہ کچھ ثمرات و نتائج کا حامل ہے لیکن یہ تحریک ایک جذباتی اور عاطفی تحریک سے زیادہ مشابہ تھی اور خود توابین کی بزرگ شخصیات کے بقول ان کا یہ قیام روحی اور وجدانی پشیمانی کے ازالہ کی خاطر وجود میں آیا تھا اگرچہ اپنے ماضی کے گناہ پر پشیمانی ایک مقدس امر ہے لیکن یہ تحریک بصیرت اور باتدبیر قیادت و رہبری کے فقدان کی خاطر وہ مطلوب نتائج حاصل نہیں کرسکی کہ جو کسی اصلاحی تحریک سے متوقع ہیں۔

ولایت پورٹل:قافلہ عشق حسینی سے پیچھے رہ جانے والوں کو جب ان کے ضمیر و وجدان نے جھنجوڑا  تو انھوں نے قاتلان امام حسین(ع) سے انتقام لینے کے لئے کئی تاریخ ساز معرکہ لڑے کہ جن میں توابین کا قیام سر فہرست ہے یہ وہ لوگ تھے کہ جنھوں بر وقت تو اقدام نہ کیا لیکن بعد میں اس جزبہ کے ساتھ میدان قتال میں کود پڑے کہ یا تو قاتلان حسین(ع) کا اس صفحہ ہستی سے نام و نشان مٹا دیں گے یا خود اس راہ میں فنا ہوجائیں گے۔
امام  حسین(ع) کے خونچکا قیام کے بعد اہل بیت(ع) کی تبلیغی مہم کہ جس کی سربراہی امام سجاد(ع) اور حضرت زینب علیا مقام کے کاندھوں پر تھی،ان حضرات نے پناہ جذبہ مقاومت و فداکاری کے ساتھ عالم اسلام میں بیداری،اور بنی امیہ کے ظلم کے خلاف نبرد آزمائی کی روح پھونکی اور شدید غفلت سے امت اسلامی کو اپنے پیہم خطبوں کے نقاروں سے بیدار کیا۔
اہل عراق کے صحیح وقت پر امام حسین(ع) کی حمایت نہ کرنے اور بعد میں اپنے ضمیر کی ملامت کے باعث میدان میں اترنے نے،تاریخ شیعیت میں تو  کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا لیکن بعض تحریکوں نے اہل بیت(ع) کے دکھی دلوں کو شاد ضرور کیا۔
اگر ہم امام حسین(ع) کی طرف کوفہ سے آنے والے خطوط کا وہ طویل سلسلہ ملاحظہ کریں تو ہمیں یہ اندازہ ہوجائے گا کہ حضرت نے کوفہ کا انتخاب کیوں کیا تھا؟
اگرچہ یہ سب خطوط عقیدہ ولایت و امامت سے سرشار لوگوں کے نہیں تھے بلکہ ان خط لکھنے والوں میں طرح طرح کے سیاسی اور منفعتی جذبات سے سرشار لوگ موجود تھے۔
چنانچہ توابین کا قیام اپنے مافات کا جبران کرنے اور ماضی کی شرمندگی کے داغ کو اپنے دامن سے دھونے کے لئے عراق کے بعض شیعوں کی جانب سے وجود میں آیا کہ جن کی منطق میں دشمن کے سامنے قتل ہوجانا اور سر کٹوادینا ہی ماضی کے گناہ کی تلافی تھا۔
سلیمان بن صرد خزاعی کربلا کیوں نہ آئے؟
سلیمان بن صرد خزاعی کا تحریک کربلا میں امام حسین(ع) کے ساتھ شامل نہ ہونے کے متعدد اسباب بیان کئے جاتے ہیں ہم جن کا خلاصہ ذیل میں بیان کررہے ہیں:
1۔پہلا احتمال تو یہ ہے کہ کوفہ کی با اثر و رسوخ شخصیات جیسا کہ خود سلیمان،عبیداللہ بن زیاد کی قید میں ہوں لہذا وہ اس وجہ سے کربلا میں حاضر نہ ہوسکے اگرچہ یہ احتمال معقول ہے لیکن تاریخی شواہد اس کے برخلاف ہمیں بتاتے ہیں کہ جب امام(ع) کے نمائندہ حضرت مسلم بن عقیل کوفہ تشریف لائے تو ان سبھوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی جس کی وجہ سے مسلم نے خط لکھ کر امام کو کوفہ آنے کی دعوت دی تھی۔
2۔کوفہ کی ناکہ بندی،چونکہ ابن زیاد کی طرف سے شہر کوفہ کی ناکہ بندی کردی گئی تھی جس کے سبب سلیمان اور ان کے ساتھی کربلا امام کے ساتھ شریک نہ ہو پائے۔لیکن یہ احتمال اس وقت مزید کمزور پڑجاتا ہے کہ جب مسلم بن عوسجہ اور حبیب ابن مظاہر جیسے لوگوں کو کربلا میں حسین(ع) کے شانہ بشانہ کھڑا پاتے ہیں۔
3۔امام حسین(ع) ساتھ جنگ نہ ہونے کی امید:بعض مورخین نے یہ احتمال بھی بیان کیا ہے کہ سلیمان اور دیگر کوفہ کی سربرآوردہ شخصیات اس لئے کربلا نہیں گئیں کہ انھیں یہ امید تھی کہ اگرچہ ابن زیاد کی طرف سے حسین(ع) پرسختی کی اظہار کیا جارہا ہے لیکن حالات اتنے خراب نہیں ہوسکتے کہ یہ امت اپنے ہی پیغمبر(ص) کے نواسہ کو قتل کر ڈالے۔یہ احتمال خود عذر بدتر از گناہ کا مصداق ہے۔
چونکہ کوفہ میں ابن زیاد کی سختی اور مسلم و ہانی جیسے لوگوں شہادت ہر انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ اگر قتل حسین(ع) کا منصوبہ نہیں تھا تو اتنی تیاریاں کس وجہ سےکی جارہی تھیں۔
غرض! خود قیام توابین کی روح رواں شخصیات کی طرف سے اپنی غلطی کا اظہار اور امام وقت کے حکم سے سرپیچی اور سابق اماموں سے ان کی بدعہدی یہ بتاتی ہے کہ انھوں نے اپنے امام کو تنہا چھوڑا اور آپ کا ساتھ نہیں دیا۔
توابین کا قیام اگرچہ کچھ ثمرات و نتائج کا حامل ہے لیکن یہ تحریک ایک جذباتی اور عاطفی تحریک سے زیادہ مشابہ تھی اور خود توابین کی بزرگ شخصیات کے بقول ان کا یہ قیام روحی اور وجدانی پشیمانی کے ازالہ کی خاطر وجود میں آیا تھا اگرچہ اپنے ماضی کے گناہ پر پشیمانی ایک مقدس امر ہے لیکن یہ تحریک بصیرت اور باتدبیر قیادت و رہبری کے فقدان کی خاطر وہ مطلوب نتائج حاصل نہیں کرسکی کہ جو کسی اصلاحی تحریک سے متوقع ہیں۔
اگرچہ توابین کا قیام درست تھا لیکن اصلاحی ثمرہ کا فقدان تھا،چونکہ صالح کام وہی ہے کہ خود بھی اچھا ہو اور مناسب زمان و مکان میں رونما ہو چونکہ اگر یہ سب لوگ کربلا میں امام حسین(ع) کے ہمراہ ہوتے تو کربلا کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 April 26