Sunday - 2018 April 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191047
Published : 21/12/2017 14:10

قدس کے سلسلہ میں امریکہ دوسروں کو کیوں دھمکاتاہے(ایک تبصرہ)

اگر جنرل اسمبلی میں اکثریت نے قدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے کی مخالفت کی تو امریکی صدر کو اور اس کی علاقائی پالیسیوں نیز مقبوضہ بیت المقدس پر دائمی تسلط جمانے کی صیہونی حکومت کی کوششوں کو سخت دھچکا لگے گا-

ولایت پورٹل:اقوام متحدہ کی تاریخ میں ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے امریکی نمائندے نے دھمکی دی ہے کہ مستقبل میں اقوام متحدہ کے رکن ملکوں کے ساتھ امریکہ کے تعلقات، قدس کے سلسلے میں ہونے والی ووٹنگ کی بنیاد پر انجام پائیں گے۔ نیکی ہیلی نے ایک ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ وہ ممالک کہ جن کے نام سلامتی کونسل میں امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف ہوں گے یعنی جو ممالک قدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے ان کے نام ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کئے جائیں گے اور اسی بنیاد پر ان ملکوں کے ساتھ امریکہ اپنے تعلقات قائم کرے گا۔ آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ٹرمپ کے حالیہ فیصلے کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ووٹنگ ہونا طے پائی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اکثریت، قدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف ووٹ دے گی،واضح  رہے کہ پیر کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ٹرمپ کے بیت المقدس سے متعلق فیصلے کے خلاف مسودہ قرارداد پیش کی گئی تاہم امریکا نے 14 رکن ممالک کی جانب سے قرار داد کی حمایت کے باوجود اسے ویٹو کردیا۔ اجلاس کے دوران مصر کی جانب سے مسودہ قرارداد پیش کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ بیت المقدس کے تشخص، انتظام اور آبادی کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے والا کوئی بھی اقدام، قانونی حیثیت سے عاری ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اسے منسوخ ہونا چاہیے،اس قرارداد میں تمام ملکوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد چارسو اٹھہتر کے تحت بیت المقدس شہر میں اپنے سفارت خانے اور قونصل خانے یا نمائندہ دفاتر کھولنے سے اجتناب کریں اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی پابندی کرتے ہوئے اس کی کسی بھی طرح کی خلاف ورزی کرنے سے گریز کریں۔  سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے 14 نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور امریکہ سے کہا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد کی پابندی کرے،اس وقت سلامتی کونسل میں مسودے کو ویٹو کرنے والے، ایک اور قرارداد منظور کرانے کے درپے ہیں۔ اگر جنرل اسمبلی میں اکثریت نے ، قدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے کی مخالفت کی تو امریکی صدر کو اور اس کی علاقائی پالیسیوں نیز مقبوضہ بیت المقدس پر دائمی تسلط جمانے کی صیہونی حکومت کی کوششوں کو سخت دھچکا لگے گا،اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنتونیو گوترش نے کہا ہے کہ قدس کی حتمی صورتحال، اس ادارے کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی بنیاد پر اور قانونی اور جائز مطالبات کو مدنظر رکھ کرمعین کی جانی چاہئے۔ اس بناء پر امریکی حکومت اس کوشش میں ہے کہ ممبر ملکوں کو ڈرا دھمکاکر قدس کے بارے میں ٹرمپ کے متنازعہ اور بین الاقوامی حقوق کے منافی فیصلے کے تعلق سے سب کو اپنا ہمنوا بنانے پر مجبور کرے،ان میں سے بعض ممالک امریکہ کے سیاسی اور مالی دباؤ کے سبب بہت زیادہ متاثر ہیں اور اسی چیز نے امریکیوں کو اقوام متحدہ کے رکن ملکوں کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اختیارکرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ البتہ اقوام متحدہ کی ستر سالہ حیات کے دوران امریکہ جیسے ملکوں نے، کمزور رکن ملکوں اور اقوام متحدہ سے وابستہ ملکوں کے خلاف دھمکی آمیز پالیسی اختیار کی ہے،اس کے ساتھ ہی اب تک اس کا ریکارڈ نہیں ملتا کہ اقوام متحدہ میں کوئی امریکی نمائندہ اس طرح سے کھلے بندوں اورسفارتی آداب کو مدنظر رکھے بغیر رکن ملکوں کو دھمکی دے - اس مسئلے سے جیسا کہ امریکہ کی مستقل مندوب کی جانب سے دھونس دھمکی کا لب و لہجہ اختیار کیا گیا ہے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف عالمی برادری کی مکمل مفاہمت سے امریکہ کی ٹرمپ حکومت کی ساکھ بری طرح سے متاثر ہوئی ہے اور یہ حکومت اب زور زبردستی کا رویہ اختیار کرنے اور دھمکی دینے پر اتر آئی ہے۔
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 April 22