Friday - 2018 April 27
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191057
Published : 21/12/2017 17:16

ایسا گناہ جس کے انجام دینے والے سے شیطان بھی بیزار ہے!

دین اسلام نے مؤمن کی حرمت و آبرو کو کعبہ سے بھی بڑھکر قرار دیا ہے۔ ایسی قدر و منزلت سے آگاہ ہونے کے بعد کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسروں کی عزت و آبرو سے کھلواڑ کرے۔

ولایت پورٹل: ان بدترین گناہوں میں سے جن کو انجام دینے والے سے شیطان بھی بیزار ہوتا ہے ایک «تہمت و بہتان» ہے۔
تہمت و بہتان لگانا اتنا قبیح اور خطرناک گناہ ہے کہ شیطان بھی اس کے انجام دینے والے سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔ شیطان برے اعمال کا استقبال کرتا ہے لیکن بعض اعمال اتنے برے ہیں کہ شیطان بھی ان کو قبول نہیں کرتا۔ انہیں اعمال میں سے ایک تہمت و بہتان لگاکر معاشرہ میں لوگوں کی آبروریزی کرنا ہے۔
تہمت لگانے والے اور جس پر تہمت لگائی جائے ان دونوں کی زندگی میں تہمت کے جو اثرات رونما ہوتے ہیں انہیں دو حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے:
۱۔ روحانی اور معنوی اعتبار سے تہمت کے اثرات
امام جعفر صادق (ع) سے ایک روایت میں آیا ہےکہ :
اذا اتھم المومن اخاہ انماث الایمان من قلبہ کما ینماث الملح فی الماء (اصول کافی، ج۲، ص۳۵۱)
ترجمہ: جب ایک مؤمن دوسرے مؤمن بھائی پر تہمت لگائے گا تو اس کے دل میں ایمان ایسے ہی ذوب ہو جائے گا جیسے نمک پانی میں ذوب ہوجاتا ہے۔
جیسا کہ اس روایت سے سمجھ میں آتا ہے کہ تہمت لگانے سے ایمان مؤمن کے دل سے نابود ہو جاتا ہے۔
اس بات کی وضاحت اس طرح کی جاسکتی ہے کہ انسان کے اکثر اعمال اس کے ایمان پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اور اعمال دو طرح کی حالت رکھتے ہیں؛ ترک یا انجام۔ اور یہ دونوں ہی حالتیں انسان کی ایمانی کیفیت میں مؤثر ہیں؛ واجب کا ترک کرنا اور حرام کا انجام دینا دونوں ہی انسان کے ایمان کو کمزور بنا دیتے ہیں۔ ترک واجب اور حرام کی انجام دہی کو کفر عملی کی اقسام میں گنا جاتا ہے۔ حرام کی انجام دہی، تہمت کو بھی شامل ہوتی ہے لہذا تہمت نتیجتاً ایمان کی کمزوری اور نابودی کا سبب بنتی ہے۔
۲۔ انسانی روابط پر تہمت کے اثرات
تہمت معاشرہ میں انسانی روابط و تعلقات اور اخوت و بھائی چارگی کے حریم کو نابود کرکے افراد کے درمیان بے اعتمادی کی فضا قائم کردیتی ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
من اتھم اخاہ فی دینہ فلا حرمۃ بینہما۔ (اصول کافی، ج۲)
ترجمہ: جو اپنے دینی بھائی پر تہمت لگائے ان کے درمیان حرمت باقی نہیں رہتی۔
اس حوالہ سے اگر معاشرہ میں نظر ڈالی جائے پتہ چلتا ہے کہ بعض افراد اپنے شیطانی مقاصد تک پہنچنے کے لئے دوسروں پر تہمت و بہتان لگاتے ہیں؛ لیکن آخرکار خود ان کو ہی ذلت و رسوائی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔
تہمت و بہتان کے بالمقابل ابلیس کا رویہ:
تہمت و بہتان لگانا اتنا قبیح اور خطرناک گناہ ہے کہ شیطان بھی اس کے انجام دینے والے سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔ شیطان برے اعمال کا استقبال کرتا ہے لیکن بعض اعمال اتنے برے ہیں کہ شیطان بھی ان کو قبول نہیں کرتا۔ انہیں اعمال میں سے ایک تہمت و بہتان لگاکر معاشرہ میں لوگوں کی آبروریزی کرنا ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:
من روی علی مؤمن روایۃ یرید بہا شینہ و ھدم مروئتہ لیسقط من اعین الناس اخرجہ اللہ من ولایتہ الی ولایۃ الشیطان، فلا یقبلہ الشیطان۔ (اصول کافی، ج۲، ص358)
ترجمہ: اگر کوئی اپنے مؤمن بھائی کے خلاف ایسی کوئی بات بیان کرے جس سے اس کا مقصد اس مؤمن کی رسوائی اور آبروریزی کرکے اسے لوگوں کی نظروں میں گرانا ہو تو اللہ ایسے شخص کو اپنی ولایت و سرپرستی سے نکال کر شیطان کی سرپرستی میں قرار دے دیگا لیکن شیطان بھی اس کو قبول نہیں کریگا۔
ایک عاقل و متدین انسان جو مبدا و معاد پر اعتقاد رکھتا ہو کبھی دوسرے پر تہمت نہیں لگائے گا حتی اگر کوئی بے دین بھی ہو تو اس کی انسانی فطرت اسے اس قبیح عمل کی اجازت نہیں دے گی مگر یہ کہ اس کی انسانی پاکیزہ فطرت، حیوانی خلق و خو میں تبدیل ہوچکی ہو۔
تہمت سے کیسے محفوظ رہیں؟
مسلسل کوششوں کے ذریعہ ہی تہمت کی آفت سے زبان کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ تہمت کے خطرناک نتائج و اثرات میں غور و فکر کریں اور پھر ان اثرات کی طرف متوجہ بھی رہیں۔ «فان الذکری تنفع المؤمنین» (سورہ ذاریات،۵۵)
تہمت کے نتائج کی طرف متوجہ رہنے سے ہمارے دل میں اس قبیح عمل کے لئے نفرت پیدا ہوگی۔ ظاہر سی بات ہے کہ انسان کے اندرونی اور بیرونی تمام حرکات و اعمال «محبت» اور «نفرت» کی بنیاد پر ہی انجام پاتے ہیں، لہذا ہماری کوشش یہی ہونی چاہئے کہ تہمت اور دیگر برے اعمال کے لئے جتنا ہو سکے اپنے دل میں نفرت پیدا کرلیں تاکہ ان کو ترک کرنا ہمارے لئے آسان ہو سکے۔ نیز دوسروں کی قدر و منزلت اور عزت و آبرو کے بارے میں میں بھی ہمیں سوچنا چاہئے۔
دین اسلام نے مؤمن کی حرمت و آبرو کو کعبہ سے بھی بڑھکر قرار دیا ہے۔ ایسی قدر و منزلت سے آگاہ ہونے کے بعد کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسروں کی عزت و آبرو سے کھلواڑ کرے۔ نیز ہمیں چاہئے کہ اپنے درمیان حسن ظن کو وسعت دیں۔ دوسروں کے کاموں کو اچھائی پر حمل کرنا بھی اس بیماری کا علاج ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 April 27