Sunday - 2018 April 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191079
Published : 23/12/2017 11:48

فکر قرآنی:

امام صادق(ع) کی نظر میں قبولیت دعا کا طریقہ

صاحبان عقل جہنم کی آگ سے بھی زیادہ قیامت کے دن خداوند عالم اور اس کی مخلوقات کے سامنے ہونے والی رسوائی سے ڈرتے ہیں چونکہ ان کے لئے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شرمندگی اور رسوائی جہنم کے عذاب سے بھی بدتر ہے۔

ولایت پورٹل: آیت الله ناصر مکارم شیرازی اپنی مشہور تفسیر نمونہ میں سورہ آل عمران کی آیات 190 سے 194 تک کے ذیل میں خدا شناسی کے طریقوں اور روز قیامت میں دردناک عذاب کے متعلق بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ قرآن مجید کی یہ آیات خدا شناسی اور اس کی معرفت کا ایک بحر بیکراں ہے،چنانچہ ہم ذیل میں صرف ترجمہ پر اکتفاء کرتے ہیں:
ترجمہ:بے شک زمین و آسمان کی خلقت لیل و نہار کی آمد و رفت میں صاحبانِ عقل کے لئے قدرت کی نشانیاں ہیں۔جو لوگ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں ... کہ خدایا تو نے یہ سب بے کار نہیں پیدا کیا ہے۔ تو پاک و بے نیاز ہے ہمیں عذاب جہّنم سے محفوظ فرما۔پروردگار تو جسے جہّنم میں ڈال دے گا گویا اسے ذلیل و رسوا کردیا اور ظالمین کا کوئی مددگار نہیں ہے۔پروردگار ہم نے اس منادی کو سنا جو ایمان کی آواز لگا رہا تھا کہ اپنے پروردگار پر ایمان لے آؤ تو ہم ایمان لے آئے۔ پروردگار اب ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہماری برائیوں کی پردہ پوشی فرما اور ہمیں نیک بندوں کے ساتھ محشور فرما۔پروردگار جو تو نے اپنے رسولوں سے وعدہ کیا ہے اسے عطا فرما اور روزِ قیامت ہمیں رسوا نہ کرنا کہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔(ترجمہ سورہ نساء:190 تا 194)۔
معرفت خدا کا واضح راستہ
قرآن مجید کی آیات صرف پڑھنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ لوگوں کے سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے لئے نازل ہوئی ہیں۔تلاوت تو سمجھنے اور غور و فکر کرنے کا مقدمہ ہے لہذا گذشتہ آیات میں سب سے پہلے تو زمین و آسمان کی تخلیق اور دن اور رات کے آنے جانے میں،صاحبان عقل و شعور کے لئے اللہ کی عظمت کی نشانیوں کا تذکرہ ہے۔( لآَیات لاِ ُولِی الأَلْبابِ)۔
تاکہ لوگ اللہ کی ان مخلوقات میں غور و فکر کریں اور اپنے ظرف کی وسعت کے مطابق اس بحر بیکراں میں سے اپنا حصہ حاصل کریں اور اسرار تخلیق کے صاف و شفاف سرچشمہ سے سیراب ہوسکیں۔
یقیناً یہ عالم اور اس کے جاذب نظر نقش و نگار اور اس کا حیران کن نظم و نسق ایک عظیم کتاب ہے کہ جس کا ہر حرف اور ہر لفظ خداوند عالم کے وجود اور اس کی توحید پر روشن دلیل ہے۔
اس دنیا کے جذاب و دلکش مناظر قلوب صاحبان عقل کو اپنے میں محو کردیتے ہیں کہ وہ اسے ہر حال میں۔ چاہے بیٹھے ہوں، یا کھڑے،چاہے بستر پر آرام کررہے ہوں اس عالم کے خلق کرنے والے کی یاد میں غرق کردیتے ہیں چنانچہ اس آیت میں اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔( الَّذینَ یَذْکُرُونَ اللّهَ قِیاماً وَ قُعُوداً وَ عَلى جُنُوبِهِمْ وَ یَتَفَکَّرُونَ فی خَلْقِ السَّماواتِ وَ الأَرْضِ) ۔
چنانچہ اس آیت کریمہ میں سب سے پہلے ذکر اور اس کے بعد فکر کی طرف اشارہ ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف ذکر کرنا اور خدا کو یاد کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اس وقت یہ ذکر ثمر آور ہوگا کہ جب فکر بھی اس کے ہمراہ ہو،جس طرح زمین و آسمان کی خلقت کے عجائبات میں اگر صرف فکر و غور و خوض ہو اور ذکر نہ ہو تب بھی انسان معرفت کے کسی مقام تک نہیں پہونچ سکتا۔
صاحبان عقل و خرد دیگر مخلوقات کے وجود کا مقصد جاننے کے بعد بلا فاصلہ اپنی تخلیق کے مقصد کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور اسے سمجھ میں آجاتا ہے کہ اس عالم کا اصل ماحصل و ثمرہ وہی(انسان) ہے اور اسے فضول میں اس دنیا میں نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ اسے تربیت اور حصول کمال کی خاطر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے اور اس کا اصل گھر تو اس دنیا میں ہے کہ جہاں اسے اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا یہی وہ مرحلہ ہے کہ جب انسان اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ ہوکر خدا سے اپنے فرائض کو ادا کرنے کی توفیق طلب کرتا ہے تاکہ آخرت کے دردناک عذاب سے امان میں رہ سکے۔(سُبْحانَکَ فَقِنا عَذابَ النّارِ)۔
قیامت کا ہولناک عذاب
مندرجہ بالا جملہ سے یہ بھی استفادہ ہوتا ہے کہ عقلمند اور سمجھدار لوگ جہنم سے زیادہ قیامت میں ملنے والی رسوائی سے ڈرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عزت و کرامت کے حامل افراد اپنی آبرو اور عزت کو محفوظ رکھنے کے لئے ہر طرح کی مشقت اور رنج کو باخوشی برداشت کرلیتے ہیں۔چونکہ ایسے لوگوں کے لئے جہنم تو بعد کا مرحلہ ہے ان کے سامنے خود میدان قیامت میں خداوند عالم اور اس کی مخلوق کے سامنے رسوائی بڑا سخت مرحلہ ہوگا۔
لہذا ان آیات میں موجود اس جملہ: «ما لِلظّالِمینَ مِنْ أَنْصار» ۔ میں پوشیدہ راز یہ ہے کہ عقلمند انسان اپنی تربیت کے مقصد کو جان لینے کے بعد اس حقیقت تک پہونچ جاتا ہے کہ کامیابی اور نجات کا راستہ صرف اس کے اعمال اور اس کا کردار ہے اور یہی وجہ ہے کہ قیامت میں ستمگروں اور ظالموں کا کوئی ناصر و یاور نہیں ہوگا چونکہ ان کے ہاتھوں سے پاک و نیک اعمال کی ڈور چھوٹ چکی ہے۔
نیز صاحبان عقل خرد اپنے مقصد تخلیق سے آشنائی کے بعد اس امر کی طرف بھی متوجہ ہوجاتا ہے کہ اس پر فراز و نشیب وادی کو بغیر الہی رہبروں کے طئے نہیں کیا جاسکتا۔
یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایمان کی طرف بلانے والوں کی آواز پر ہمہ تن گوش رہتا ہے اس طرح کہ جیسے ہی ان کی آواز حق اس کے کانوں سے ٹکراتی ہے وہ ان کی طرف سرعت کے ساتھ پہونچ جاتا ہے اور ان کی آواز پر لبیک کہتا ہے۔
ڈر سے نجات اور اجابت دعا کے لئے امام صادق(ع) کی وصیت
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ:جس شخص کو کوئی مھم امر درپیش  ہو اسے چاہیئے کہ وہ پانچ مرتبہ «رَبَّنا»  کہے،خداوند عالم اسے ہر اس چیز سے نجات دے گا جس سے وہ ہراساں ہے اور اسے جس چیز کی آرزو ہوگی وہ اس تک پہونچ جائے گی۔
حضرت(ع) سے سوال کیا گیا:مولا کس طرح پانچ مرتبہ: «رَبَّنا» کہا جائے؟
آپ نے فرمایا:سورہ آل عمران کی ان آیات کو پڑھ لے(یعنی 190 سے 194 تک) چونکہ ان کے فوراً بعد اللہ نے اجابت کا پیغام دیا ہے:«فَاسْتَجابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ»۔
ظاہر سی بات ہے کہ یہ آیات الہی اسی وقت اپنا اثر دکھلائیں گی کہ جب انسان کی زبان  اس کے دل اور عمل سے مطابقت رکھتی ہو۔چنانچہ صاحبان عقل کا طرز تفکر اور خدوند عالم کی نسبت ان کا شدید عشق اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی نیز نیک اعمال کی انجام دہی ان کے قلب و روح میں اتر جائے۔اور اپنے خدا کے ساتھ راز و نیاز کرتے وقت بایمان لوگوں جیسا خضوع و خشوع اس کے اندر پیدا ہوجائے۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 April 22