Wed - 2018 Dec 12
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191093
Published : 23/12/2017 19:34

مرد کی طرح عورت بھی بن سکتی ہے باکمال

عورت و مرد ایک دوسرے کو گناہوں اور لغزشوں سے بچاتے ہیں،ایک دوسرے کی کمیوں کو چھپاتے ہیں اور ایک دوسری کی خوشی کا ذریعہ ہیں،اسی وجہ سے تو قرآن نے عورت و مرد کو ایک دوسرے کی زینت سے تعبیر کیا ہے،اور قرآن مجید کی یہ حسین تعبیر ان کے معنوی رابطہ اور مساوات کو روشن کرتی ہے،پس قرآن مجید میں جو تعبیر مردوں کے لئے استعمال ہوئی ہے وہی عورتوں کے لئے بھی استعمال ہوئی ہے۔


ولایت پورٹل: تحریف شدہ ادیان کے اندر اور جاہلیت کے زمانہ میں عورت کی نسبت ایک تحقیر آمیز رویہ یہ تھا کہ عورت  کو معنوی اور روحانی کمالات کے حصول میں ضعیف و ناتوان تصور کیا جاتا تھا اور اس کے وجود کو معنویت کے اعلٰی مراتب تک پہنچنے اور مقام قرب الہی پر فائز ہونے کو اس کی خام خیالی تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن قرآن مجید کی نظر میں عورت و مرد کے درمیان معنوی اور روحانی کمالات کے حصول میں کوئی فرق نہیں ہے اور اس راہ میں جنسیت کا کوئی دخل نہیں ہے پس چاہے عورت ہو یا مرد ہر ایک اس دنیاوی زندگی میں حاصل شدہ فرصت سے استفادہ کرے تو وہ دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی عظیم انعامات اور عالی رتبہ پر فائز ہوسکتے ہیں چنانچہ شہید مطہری اس حوالہ سے تحریر کرتے ہیں:
قرآن مجید نے اپنی بہت سی آیات میں یہ وضاحت کی ہے کہ اخروی انعام اور قرب الہی جنسیت سے مربوط نہیں ہے بلکہ ایمان اور عمل سے وابستہ ہے،چاہے عورت کی طرف سے ہو یا مرد کی طرف سے، چنانچہ قرآن مجید  ہمیشہ ایک بزرگ و مقدس مرد کے ساتھ ایک مقدس اور بزرگ خاتون کا تذکرہ بھی کرتا ہے اور آدم و ابراہیم (ع) کی بیویوں ،حضرت موسیٰ و عیسیٰ (ع) کی ماؤں کا نہایت تکریم و جلالت کے ساتھ تذکرہ کرتا ہے اور اگر جناب نوح و لوط(ع) کی بیویوں کا تذکرہ  ہے کہ جو اپنے شوہروں کے لئے مناسب نہیں تھیں تو وہیں فرعون کی بیوی کا تذکرہ بھی نہایت عزت سے کرتا ہے کہ جو فرعون جیسے پلید انسان کے چنگل میں تھیں لہذا قرآن مجید نے اپنی داستانوں میں بھی توازن کا لحاظ رکھا ہے اور ان داستانوں کے سورما صرف مرد ہی نہیں ہیں۔
چنانچہ تاریخ قرآن مجید اور آیات الہی  کے بیان کی روشنی میں مادر حضرت موسیٰ اور عیسی(ع) تقدس کے اس عظیم مرتبہ پر فائز تھیں کہ ان پر وحی نازل ہوتی تھی اور ملائکہ ان سے باتیں کرتے تھے،اور حضرت مریم(س) اس مقام پر پہونچی کہ غیب سے ان کا رزق آتا اور الہی کمالات و فیض کے دسترخوان سے سیر ہوتی تھیں۔
عورت و مرد ایک دوسرے کے کمال کا ذریعہ
زمانہ قدیم میں عورت کے متعلق ایک منفی نظریہ یہ بھی تھا کہ عورت مرد کے طفیل میں پیدا ہوئی ہے،اور عورت کو صرف اس وجہ سے پیدا کیا گیا ہے تاکہ وہ مرد کی ضرورت کو پورا کرے  لہذا عورت کی اجتماعی حیثیت اور اہمیت مرد کے مقابل فرعی اور تھی۔
لیکن قرآن مجید نے عورت و مرد میں سے کسی کو بھی دوسرے کا طفیلی قرار نہیں دیا بلکہ ہر ایک کو ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
قرآن مجید یہ نہیں کہتا کہ عورت مرد کے لئے پیدا کی گئی ہے بلکہ یہ کہتا ہے کہ مرد و عورت کو ایک دوسرے کے لئے خلق کیا گیا ہے۔«هنّ لباس لكم وأنتم لباس لهنّ»۔(بقره: 187)۔
ترجمہ: وہ تمہارے لئے پردہ پوش ہیں اور تم انکے لئے۔
یعنی عورت و مرد ایک دوسرے کو گناہوں اور لغزشوں سے بچاتے ہیں،ایک دوسرے کی کمیوں کو چھپاتے ہیں اور ایک دوسری کی خوشی کا ذریعہ ہیں،اسی وجہ سے تو قرآن نے عورت و مرد کو ایک دوسرے کی زینت سے تعبیر کیا ہے،اور قرآن مجید کی یہ حسین تعبیر ان کے معنوی رابطہ اور مساوات کو روشن کرتی ہے،پس قرآن مجید میں جو تعبیر مردوں کے لئے استعمال ہوئی ہے وہی عورتوں کے لئے بھی استعمال ہوئی ہے۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 12