Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191124
Published : 25/12/2017 6:17

آل سعود اور آل خلیفہ کی ایران دشمنی کی وجوہات(ایک تبصرہ)

ملک سلمان اور ڈونالڈٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے لہذا سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل ہونا چاہئے۔


ولایت پورٹل:ایران اور اسلامی استقامتی محاذ کے خلاف ریاض کی ریشہ دوانیوں کی ناکامی اس بات کا باعث بنی ہے کہ اپنی سیاسی بدقسمتی سے نالاں سعودی بادشاہ، علاقے کے بازیگروں کا دامن تھامنے پر مجبور ہوگئے ہیں تاکہ شاید ان کی مدد سے اپنی ناکامیوں کی تلافی کر سکیں،اسی سلسلے میں ملک سلمان اور ڈونالڈٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے لہذا سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل ہونا چاہئے اور بقول ان کے ایران کو حوثیوں کی میزائلی حمایت اورعلاقے و سعودی عرب کے لئے خطرہ بننے سمیت اپنی مخاصمانہ سرگرمیوں کی بنا پر سزا ملنی چاہئے۔ یہ دعوے شاہ سلمان اور ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونی گفتگو میں سامنے آئے اور اس کے تھوڑی ہی دیر بعد سعودی بادشاہ نے برطانوی وزیراعظم تھریسا مئے سے ٹیلی فون پر بات کی اور یہی بے بنیاد دعوے دہرائے۔ سعودی بادشاہ کا ایران مخالف ڈراما ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ ریاض سے رشوت لینے والوں نے بھی سعودی حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے تہران کے خلاف پروپیگنڈے تیز کردیئے ہیں،درایں اثنا بحرین کے وزیرخارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایران مخالف دعوے دہراتے ہوئے لکھا کہ ایسے عالم میں جب ہم فاشیزم اسلامی جمہوریہ کے خلاف آشکارا اور موجودہ خطرے کے خلاف برسرپیکار ہیں، امریکہ کے ساتھ ذیلی مسائل کے لئے بحث نہیں کرنا چاہئے- البتہ ان بیانات کا منھ توڑ جواب دیا گیا اور ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تم اس سے کہیں چھوٹے اور پست ہو کہ عظیم و قدیم تمدن اور تاریخ کے مظہر اور سرفراز و سربلند ایران کے بارے میں اظہارخیال کرو،ایران کے خلاف آل سعود اور اس کے اتحادیوں نے جو لفظی بحث شروع کر رکھی ہے وہ درحقیقت ایک طرح سے علاقے سے باہر کے بازیگروں کی چاپلوسی ہے تاکہ ان کے پاس علاقے میں مزید مداخلت اور نفوذ کی زمین ہموار کرنے کا بہانہ رہے- سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ واشنگٹن اور لندن کی اربوں ڈالر کی تجارت اس بات کا باعث بنی ہے کہ یہ ممالک ہمیشہ مغربی ایشیا میں کشیدگی اور جھڑپوں کا استقبال کریں اور علاقے کے ممالک کے درمیان کسی بھی اختلاف کو اپنے لئے ایک موقع کی نگاھ سے دیکھیں تاکہ اس کے سہارے پیٹرو ڈالر میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے سکیں-ان تمام دعؤوں اور الزامات کے مقابلے میں تہران کی روش، دشمنی ختم کرنے اور باہمی تعاون پر استوار رہی ہے اور ایرانی حکام نے بارہا دشمن حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ عالم اسلام میں اختلاف ڈالنے کا نتیجہ صیہونی محاذ کے مقابلے میں اسلامی محاذ کو کمزور کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے- اس کے باوجود بحرین میں آل خلیفہ جیسی حکومتیں کہ جو جانتی ہیں کہ انھیں ملک میں قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے اس بات کی کوشش کررہی ہیں کہ مغربی ممالک سے وابستہ ہوکر اپنے ہی عوام کی سرکوبی کریں تاکہ عرب انقلاب اور اسلامی بیداری تحریک کے نتیجے میں اپنی حکومت کا تختہ الٹنے سے بچا سکیں- آج یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جس پر ریاض مشتعل ہے وہ اغیار کے مقابلے میں عوامی استقامت ہے کہ جو سعودی عرب کے ایک مہلک دلدل میں پھنس جانے کا باعث بنی ہے- آل سعود کہ جو جانتی ہے کہ یمن میں ایک عوامی گروہ سے شکست  اس کے لئے بھاری ناکامی شمار ہوتی ہے، یہ کوشش کررہی ہے کہ علاقے کے استقامتی گروہوں کی نسبت  ایران سے دیں اور تہران کو اپنا دشمن بتائیں- جبکہ آل سعود، آل خلیفہ اور علاقے کی تمام ڈکٹیٹرحکومتوں کے اصلی دشمن علاقے کے ممالک کے عوام ہیں کہ جو اب اپنے داخلی امور میں ان رجعت پسند حکومتوں کی مداخلت کو برداشت نہیں کرپا رہے ہیں،یہ وہی نکتہ ہے کہ جس سے علاقے کی صحیح شناخت نہ ہونے کے باعث ٹرمپ اور تھریسا مے کا واقف ہونا بعید نظرآتا ہے اور اگر وہ اس نکتے کو سمجھ بھی لیں پھربھی ان کے مفادات انھیں اس نکتے پرتوجہ نہیں دینے دیں گے۔
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15