Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191128
Published : 25/12/2017 15:55

آیۃ اللہ جوادی آملی:

بیماری اور صحت دونوں حالت میں ہم امتحان کی منزل میں ہیں

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم مریض ہوتے ہیں تو امتحان کی منزل میں ہونے ہیں جبکہ وہ نہیں جانتے کہ صحت و سلامتی کے عالم میں بھی ہم الہی آزمائش و امتحان میں مبتلا ہوتے ہیں۔

ولایت پورٹل: آیۃ اللہ جوادی آملی نے اپنے درس اخلاق میں نہج البلاغہ کے ۷۲ویں مکتوب کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ: انسان ہمیشہ آزمائش  و امتحان میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ: ۷۲واں مکتوب تین سطروں پر مشتمل ہے جس میں حضرت امیر (ع) نے بیان فرمایا ہے کہ دنیا کی حالت کیسی ہے اور ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ خداوند عالم جو کائنات کا مدبر وہی امور دنیا کی تدبیر فرماتا ہے لہذا اس دنیا میں سب کچھ ہمیشہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں ہوتا اور ہماری زندگی میں نشیب وفراز وجود میں آتے رہتے ہیں۔ انسان کی ستّر اسّی سالہ زندگی ایک امتحانی جلسہ کی طرح ہے لہذا انسان کو زندگی کے ہر لمحہ میں امتحانات سے گزرنا ہے۔
مفسّر قرآن آیۃ اللہ جوادی آملی نے مزید بیان کیا کہ: خداوند عالم اگر انسان کو عزت و کرامت سے نوازتا ہے تو یہ الہی امتحان کا نتیجہ ہوتا ہے، خداوند عالم سورہ مبارکہ فجر میں فرماتا ہے: بعض کا امتحان صحت و سلامتی کے ذریعہ کیا جاتا ہے اور بعض کا بیماری اور سختی میں مبتلا کرکے؛ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم مریض ہوتے ہیں تو امتحان کی منزل میں ہونے ہیں جبکہ وہ نہیں جانتے کہ صحت و سلامتی کے عالم میں بھی ہم الہی آزمائش و امتحان میں مبتلا ہوتے ہیں۔ سورہ فجر میں ہم پڑھتے ہیں: فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلاَهُ رَبُّهُ فَأَکْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَیقُولُ رَبِّی أَکْرَمَنِ ٭ وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلاَهُ فَقَدَرَ عَلَیهِ رِزْقَهُ فَیقُولُ رَبِّی أَهَانَنِ ٭  کَلَّا (سوره فجر، 15،16)
ترجمه: لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب خدا نے اس کو اس طرح آزمایا کہ عزّت اور نعمت دے دی تو کہنے لگا کہ میرے رب نے مجھے باعزّت بنایا ہے. اور جب آزمائش کے لئے روزی کو تنگ کردیا تو کہنے لگا کہ میرے پروردگار نے میری توہین کی ہے، ایسا هرگز نہیں ہے۔
آپ نے بیان کیا کہ : کچھ لوگ دولت و ثروت میں مبتلا ہیں، کچھ فقر و تنگدستی میں، کچھ جوانی میں مبتلا ہیں تو کچھ ضعیفی میں؛ مبتلا ہونا یعنی امتحان کی منزل میں قرار پانا۔ خداوند عالم کسی کو کوئی چیز ایسے ہی نہیں دیتا، جو بھی دیتا ہے امتحان کے بعد ہی دیتا اور ساتھ میں ذمہ داریاں بھی دیتا ہے۔ ہماری زندگی مین جو بھی ہوتا ہے اچھا ہو یا برا سب امتحان ہے۔ اس قرآنی مفہوم کو حضرت امیر (ع) نے نہج البلاغہ کے متعدد خطبات، مکتوبات اور مختصر کلمات میں بیان فرمایا ہے۔
آیۃ اللہ جوادی آملی نے کہا: کہ مکتوب نمبر ۷۲ میں ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ کچھ امور ایسے ہیں جو صرف خداوند عالم کے دست قدرت میں ہیں اور خاص نظم کے ساتھ انجام پاتے ہیں لہذا جو چیزیں تمہارے لئے نہیں ہیں تم ہرگز ان تک نہیں پہنچ سکتے؛ اگر حلال کام انجام دوگے اور صحیح راہ کا انتخاب کروگے تو تمہیں ایک مخصوص رزق ملے گا، لیکن اگر غلط راہ کو اختیار کیا تو تمہارے لئے الگ طرح کا رزق ہے۔ اگر صلہ رحم اور اصول صحت کی رعایت کرتے ہوئے زندگی گزاری تو تمہاری عمر کی مقدار الگ ہوگی لیکن اگر ان امور کی رعایت کے بغیر عمر گزاری تو تمہاری عمر کی مقدار کچھ اور ہوگی۔ یہ تمام چیزیں معین ہیں؛ ہماری موت ہمارا رزق کچھ بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سب کا امتحان لے رہا ہے۔
حضرت امیر کے اس خط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آیۃ اللہ جوادی آملی نے تاکید کی کہ: حضرت اس خطبہ میں فرماتے ہیں کہ اگر زندگی میں کوئی تلخی یا سختی اجائے تو صبر سے کام لینا؛ کیونکہ جس وقت آپ قدرت و اختیار کے حامل ہوتے ہو تو قدرت کے ذریعہ آپ کو آزمایا جاتا ہے، اور جب کمزور ہوتے ہو تو کمزوری ہی کے ذریعہ آپ کا امتحان ہوتا ہے، اس کے بعد فرمایا: کوئی چیز اللہ کی قضا و قدر کو نہیں روک سکتی، اس دنیا میں کچھ  بھی برا نہیں ہے جو بھی اللہ کی جانب سے ہی وہ خیر ہے رحمت و برکت ہے۔ اللہ کی جانب سے کوئی برائی انسان تک نہیں پہنچتی، جو برائی بھی ہے اس کا تعلق یہیں سے ہے۔ (ہماری ہی جانب سے ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شفقنا



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11