Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191141
Published : 26/12/2017 1:11

حرز امام جواد (ع) کے مؤثر واقع ہونے کے شرائط: استاد عابدی

استاد احمد عابدی نے حرز امام جواد علیہ السلام کی داستان کو بیان کرتے ہوئے اس مشہور حرز کو لکھنے کے شرائط و آداب کو بیان کیا۔


ولایت پورٹل: حوزہ علمیہ قم کے برجستہ استاد احمد عابدی نے بیان کیا کہ: شافعی نے اپنی کتاب الحیوان میں درج کیا ہے کہ بغداد میں امام جواد (ع) اور امام موسی کاظم (ع) کی قبر ہر درد کی دوا ہے۔
انہوں نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ تمام ائمہ کے حرز ہیں جن میں سے بعض نقل ہوکر ہم تک بھی پہنچے ہیں جیسے حرز حضرت زہرا (ع)، حضرت امیر (ع) کی طرف منسوب حرز یمانی، حرز حضرت خدیجہ (ع) وغیرہ لیکن ان سب کے درمیان حرز امام جواد علیہ السلام سب سے زیادہ مشہور ہے۔
استاد عابدی نے وضاحت کی کہ «ورد» کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت یا سورہ کو بار بار دہرایا جائے، لیکن «حرز» کے لغوی معنی یہ ہیں کہ نظر بد، دشمن اور خطروں سے محفوظ رہنے کے لئے کوئی ذکر، دعا یا کوئی چیز ہمیشہ اپنے ساتھ رکھی جائے؛ اگر صرف ذکر یا کوئی چیز ہو تو اسے «حرز» اور فقط دعا ہو تو اسے «تعویض» کہتے ہیں۔
احمد عابدی صاحب حرز امام جواد کی داستان اس طرح بیان کرتے ہیں: امام جواد علیہ السلام کی شادی خلیفہ مامون کی بیٹی امّ عیسیٰ کے ساتھ ہوئی تھی البتہ وہ اچھی عورت نہیں تھی اور امام جواد علیہ السلام کو اپنی باتوں سے اذیت پہنچایا کرتی تھی۔ امّ عیسیٰ کہتی ہے کہ ایک دن ایک عورت میرے پاس آئی اور احوالپرسی کے بعد کہنے لگی کہ میں امام جواد کی زوجہ ہوں۔ یہ سن کر ام عیسیٰ کو بہت غصہ آیا اور اس نے اپنے باپ مامون کے پاس جاکر امام علیہ السلام کی چغلی کی۔ مامون کہ جو شراب کے نشہ میں مست تھا تلوار لے کر امام کے گھر پہنچا اور امام کو قتل کردیا۔ ام عیسی یہ دیکھ کر ندامت سے گریہ کرنے لگی۔ مامون نشہ کے عالم میں اپنے محل واپس آگیا۔ صبح کو جب مامون کا نشہ اترا تو ام عیسیٰ نے کہا کہ تم نے فرزند رسول کو قتل کردیا۔ مامون نے نادم ہوتے ہوئے کہا کہ میں نے قیامت تک کے لئے خود کو اور اپنے خاندان کو ذلیل و رسوا کرلیا۔ مامون نے امام کے گھر کی کیفیت سے باخبر ہونے کے لئے اپنے غلام یاسر کو بھیجا۔ یاسر نے جاکر دیکھا کہ امام صحیح وسالم نماز میں مشغول ہیں۔ یاسر نے امام کے بدن کی حالت کو دیکھنے کے لئے بہانہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لباس آپ کے زیب تن ہے یہ تبرک کے طور پر مجھے عطا کر دیجئے تاکہ اپنے کفن کے لئے محفوظ کرلوں۔ جب امام نے اپنا لباس اتارا تو دیکھا کہ امام کے جسم پر زخم کا کوئی نشان نہیں ہے۔ الغرض جب امام علیہ السلام کی مامون سے ملاقات ہوئی تو امام نے اظہار فرمایا کہ میرے ہمراہ ایک حرز تھا جس نے میری حفاظت کی۔ مامون نے جب اس حرز کی اس تاثیر کو دیکھا تا امام سے اس حرز کی درخواست کردی۔ یہاں سے حرز امام جواد علیہ السلام کا آغاز ہوا۔
انہوں نے حرز لکھنے کے آداب کو بیان کرتے ہوئے کہا: حرز امام جواد علیہ السلام میں جو نقوش نظر آتے ہیں وہ حقیقت میں اللہ کا نام ہے لہذا پاکیزہ قلم سے لکھنا چاہئے۔ اگر بال پین یا فاؤنٹن پین سے لکھا جائے تو یہ حرز اثر نہیں کرتا كیونكہ اس طرح کے پین کی نوک کفار کے ذریعہ آمادہ کی جاتی ہے لہذا ضرور بالضرور مسلمانوں کے ذریعہ بنائی ہوئی پینسل یا لکڑی کے قلم سے لکھا جائے نیز روشنائی اور كاغذ بھی پاک هونے چاهئے۔
حرز امام جواد علیہ السلام کو لکھنے کے آداب کے حوالہ سے احمد عابدی صاحب نے مزید کہا کہ: ان حروف اور اعداد کو باوضو قبلہ رخ ہوکر صحیح طریقہ سے لکھا جائے۔ بعض لوگ ان حرزوں کو انگوٹھی یا کپڑے یا کاغذ پر لکھتے ہیں خاص طور پر بچوں کی پیشانی پر۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ وہابیوں نے بھی «الرقیۃ والطمائم» نامی ایک کتاب لکھی ہے جبکہ یہ لوگ حرز وغیرہ کو شرک سمجھتے ہیں لیکن حرز امام جواد (ع) اور حرز امام علی (ع) کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شرک نہیں ہے بلکہ عین توحید ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شفقنا


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13