Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191146
Published : 26/12/2017 16:30

بن سلمان مکمل ڈکٹیٹر :واشنگٹن پوسٹ

سعودی ولی عہد بن سلمان کو نہ ہی سماجی آزادی کی کوئی فکر ہے اور نہ ہی اس کو بدعنوانیوں سے کچھ لینا دینا ہے بلکہ وہ صرف اپنی ڈکٹیٹر شپ کے پیچھے ہے۔
ولایت پورٹل: واشنگٹن پوسٹ نے پیر کے روز اپنے ادرایہ میں سعودی ولی عہد جلاد محمد بن سلمان کی رفتار و گفتار کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ وہ بھی صرف ایک ڈکٹیٹر ہے،ادرایہ میں آیا ہے کہ ایک طرف تو محمد بن سلمان اقتصادی ریاضت  کی باتیں کر رہا ہے اور سماجی آزادی کے نام پر  آنے والے سال  جنوری میں اپنے ملک میں  سنیما حال کھولنے کی راگیں الاپ رہا ہے اور دوسری طرف  فرانس میں 300ملین ڈالر کا لگژری محل خرید رہا ہے  یا ایک تفریحی کشتی خریدنے کے لیے 550 ملین ڈالر خرچ کر رہا ہے  صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس نے  450 ملین ڈالر میں صرف ایک پینٹنگ خریدی ہے ، یہ سب کیا ہے اور اتناپیسہ کہا ں سے آیا ہے  واشنگٹن پوسٹ نے اس کا  بہترین انداز میں تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  بن سلمان نے بدعنوانی کا مقابلہ کرنے کا ڈھونگ رچا کر  159 امیر ترین تاجروں اور شہزادوں کو گرفتار کر لیا اگر چہ مالی بدعنوانی سعودی عرب میں واقعاً ایک بہت بڑی مشکل ہے او ر عوام  اس سے تنگ آچکی ہے لیکن بن سلمان سے کوئی یہ امید نہ رکھے کہ وہ  گرفتار ہونے والے ان افراد پر کرپشن کا کیس  عدالت میں دائر کرے گا اور  انھیں قانون کے حوالہ کرے گا بلکہ   یہ انھیں اربوں ڈالر کی پیشکش دے گا اور کہے گا کہ اگرآزادی چاہتے ہو تو اتنے عرب کا چیک کاٹ کردو(جیسا کہ بن طلال کے معاملہ میں منظر عام پر آچکا ہے) یہ ایسی تجارت ہے جس میں نہ تو کوئی محنت ہے اور نہ ہی ریسک اور اس کو ایک ڈکیٹر ہی کر سکتا ہے  کوئی اور نہیں ،اخبار نے مزید لکھا ہے کہ بن سلمان کا ایک  وہ چہرہ ہے جو لوگوں کے سامنے ہے اوردوسرا  وہ چہرہ ہے جو اس کے اندر چھپا ہوا ہے  ، اس کے بعد اس ادرایہ میں اس کو تجویز دی گئی ہے کہ اگر ایک ماڈرن اور روشن فکر سماج بنانا چاہتے ہو تو  پہلے بے گناہ قیدیوں کو آزاد کرو جس کا اثر محل  اور تفریحی کشتی خرینے سے کہیں  زیادہ ہوگا۔
فارس



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15