Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191151
Published : 26/12/2017 17:27

امیر المؤمنین(ع) کے کلام میں منافق کی آٹھ خصوصیتیں

حضرت علی علیہ السلام نے اپنے ایک مختصر ارشاد میں منافق کی آٹھ علامات اور نشانیوں کو بیان فرمایا ہے۔

ولایت پورٹل: نفاق ایک ایسی نفسانی برائی کا نام ہے جسے کفر سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے اور اپنے آپ کو اس سے محفوظ رکھنا بھی آسان کام نہیں ہے۔ اگر ہم نفاق و منافق کی علامات اور نشانیوں سے باخبر ہونگے تو اس برائی سے محفوظ رہنا ہمارے لئے قدرے آسان ہو سکتا ہے، لہذا ہم یہاں منافق کی علامات سے متعلق حضرت امیر علیہ السلام کے ایک ارشاد گرامی کا مفہوم پیش کر رہے ہیں۔
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
منافق جب دیکھتا ہے تو لہو و لعب کے لئے، جب خاموش رہتا ہے تو اس کی خاموشی غفلت کے ہمراہ ہوتی ہے، جب بولتا ہے تو بیہودہ باتیں کرتا ہے، جب بے نیاز ہوجاتا ہے سرکشی اختیار کر لیتا ہے، جب کسی مشکل کا شکار ہوتا ہے شور مچاکر سب کو متوجہ کرلیتا ہے، جلدی ناراض ہوجاتا ہے اور دیر سے راضی ہوتا ہے، اگر اسے کم ملتا ہے تو اللہ سے ناراض ہو جاتا ہے اور زیادہ بھی مل جائے تب بھی وہ راضی نہیں ہوتا، اس کے دماغ میں اکثر شر اور فساد ہی کی باتیں چلتی رہتی ہیں ان میں سے کچھ کو عملی جامہ بھی پہنا دیتا ہے اور اگر کوئی برا کام اس سے ترک ہوجائے تا افسوس کرتا ہے کہ کیوں اس کام کو انجام نہیں دیا!
متن حدیث:
امیر المؤمنین علیٌّ علیه ‏السلام :
المُنافِقُ إذا نَظَرَ لَها ، وإذا سَکَتَ سَها ، وإذا تَکَلَّمَ لَغا ، وإذا استَغنی طَغا ، وإذا أصابَتهُ شِدَّةٌ ضَغا ، فهُو قَریبُ السُّخطِ بَعیدُ الرِّضا ، یُسخِطُهُ علَی اللّه الیَسیرُ ، ولا یُرضیهِ الکثیرُ ، یَنوی کثیرا مِن الشَّرِّ ویَعمَلُ بطائفَةٍ مِنهُ ، ویَتَلَهَّفُ علی ما فاتَهُ مِن الشَّرِّ کیفَ لَم یَعمَلْ بهِ !

"تحف العقول، صفحه ۲۱۲"



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16