Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191158
Published : 27/12/2017 18:0

پیغمبر اکرم(ص) کا زینب بنت جحش سے عقد؛جاہلی رسم کا قلع قمع

چونکہ زینب کے عقد کی بشارت خود خداوند عالم نے قرآن مجید میں دی ہے اسی سبب وہ دیگر ازواج نبی(ص) کے سامنے فخر و مباہات کرتے ہوئے کہتی تھیں:تمہیں تمہارے گھر والوں نے رسول خدا(ص) کی زوجیت میں دیا ہے اور مجھے خداوند عالم نے ساتوں آسمانوں سے بھی بالا رسول خدا(ص) کے حبالہ عقد میں دیا ہے۔


ولایت پورٹل:انبیاء(ع) الہی اور خاص طور پر جناب سرور کائنات(ص) کی  اہم ذمہ داری لوگوں کی ہدایت اور زمانہ جاہلیت کی رسم و رواج کا قلع قمع تھا۔
چنانچہ زمانہ جاہلیت کی ایک رسم یہ تھی کہ اشراف زادے اور اعلٰی نسب لوگ غلاموں کے ساتھ شادی کرنے کو قبیح  اور معیوب سمجھتے تھے۔ اس کی مثال خود رسول خدا(ص) کے منھ بولے بیٹے جناب زید بن حارثہ کہ جو ایک غلام تھے جنھیں رسول خدا(ص) اپنا بیٹا کہتے تھے ان سے کوئی شادی کرنے کے لئے تیار نہں تھا چنانچہ آپ نے اپنی پھوپی زاد جناب زینب کا عقد زید سے کروا دیا اس طرح آپ(ص) کے ہاتھوں جاہلیت کی  اس دیرینہ رسم کا خاتمہ ہوگیا۔
لیکن زید اور زینب کی مشترکہ زندگی زیادہ دن نہ چل سکی اور آخرکار جدائی اور طلاق تک بات آپہونچی اور یہ طلاق خود زینب کے لئے بڑی شاق تھی چنانچہ آپ نے نے زید بن حارثہ کو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم کہہ سنایا:«امسك علیك زوجك و اتق الله؛تم اپنی زوجہ کو اپنے پاس ہی روک لو اور خدا سے ڈرو۔(سورہ احزاب:۳۷)۔غرض ! ان دونوں کی مشترکہ زندگی آگے نہ بڑھ سکی۔
اور اسی طرح زمانہ جاہلیت کی ایک دوسری اور بری رسم یہ بھی تھی  کہ کوئی شخص اپنے منھ بولے بیٹے کی طلاق شدہ بیوی سے شادی نہیں کرتا تھا ،عرب میں منھ بولے بیٹے کی بیوی کو حقیقی بیٹے کی بیوی تصور کیا جاتا تھا لہذا اس معاشرہ میں کسی کی یہ جرات نہیں تھی کہ جو اس رسم کو توڑے یا اس کے خلاف آواز اٹھائے چونکہ وہاں تو منھ بولے بیٹے کو سگا بیٹے جتنا مرتبہ دیا جاتا تھا چنانچہ خداوند عالم نے اس رواج کے حصار کو توڑتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا جَعَلَ أَدْعِیاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ یقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ یهْدِی السَّبِیلَ؛۔(سورہ احزاب:۴)۔
ترجمہ: اور اللہ نے تمہارے منھ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹے قرار نہیں دیا ہے، یہ سب تمہاری زبانی باتیں ہیں اور اللہ تو صرف حق کی بات کہتا ہے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے۔
اور پھر فرمایا: ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ۔(سورہ احزاب:۵)
ترجمہ: ان بچوں کو ان کے باپ کے نام سے پکارو کہ یہی خدا کی نظر میں انصاف سے قریب تر ہے۔
پس زید کے طلاق دینے کے بعد خداوند عالم نے اپنے نبی کو مامور فرمایا کہ اس جاہلی رسم کو اپنے عمل کے ذریعہ توڑ  ڈالیں۔ لہذا حکم خدا کے باعث رسول اللہ(ص) نے زینب سے ازدواج فرمایا: فلما قضی زید منها وطراً زوجناکها لکی لا یکون علی المؤمنین حرج فی ازواج ادعیائهم اذا قضوا منهن وطراً و کان امر الله مفعولاً۔(سورہ احزاب:۳۷)
ترجمہ: جب زید نے اپنی حاجت پوری کرلی(اسے طلاق دیدی) تو ہم نے اس عورت کا عقد تم سے کردیا تاکہ مؤمنین کے لئے منھ بولے بیٹوں کی بیویوں سے عقد کرنے میں کوئی حرج نہ رہے جب وہ لوگ اپنی ضرورت پوری کرچکیں اور اللہ کا حکم بہرحال نافذ ہوکر رہتا ہے۔
پس پیغمبر اسلام(ص) نے زینب سے شادی کرکے انہیں بہت سی مشکلات سے نجات دی چونکہ زینب مہاجر عورتوں میں سے تھیں کہ جو مدینہ میں اپنے گھروالوں سے دور تھی چنانچہ زید سے طلاق کے بعد انہیں اندوہ و غموں نے گھیر لیا تھا پس زینب نے اپنی عدت پوری کی اور پھر انھیں یہ مژدہ سنادیا گیا کہ خداوند عالم ان کا عقد اپنے رسول سے کردیا ہے۔(زوجناکها)
علامہ مجلسی کے بقول یہ عقد یکم ذیقعدہ سن ۵ ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوا اور اس وقت جناب زینب کی عمر ۳۵ سال تھی۔(بحارالأنوار علامه مجلسی، ج ۱۱، ص ۱۷۸، و ج ۹۸، ص ۱۸۹ و ج ۹۹، ۳۵)۔
چنانچہ زینب اس عقد سے بہت خوش ہوئیں اور رسول خدا(ص) کے گھر تشریف لے آئیں۔ چونکہ زینب کے عقد کی بشارت خود خداوند عالم نے قرآن مجید میں دی ہے اسی سبب وہ دیگر ازواج نبی(ص) کے سامنے  فخر و مباہات کرتے ہوئے کہتی تھیں: زوّجكن أهلیكن و زوّجنی الله من فوق سبع سماوات۔ تمہیں تمہارے گھر والوں نے رسول خدا(ص) کی زوجیت میں دیا ہے اور مجھے خداوند عالم نے ساتوں آسمانوں سے بھی بالا رسول خدا(ص) کے حبالہ عقد میں دیا ہے۔(بحارالأنوار علامه مجلسی، ج ۱۱، ص ۱۷۸، و ج ۹۸، ص ۱۸۹ و ج ۹۹، ۳۵، و تاریخ الطبری، ج ۲، ص ۲۳۱؛ المنتخب من ذیل المذیل طبری، ص ۵)۔
پس زینب بنت جحش وہ زوجہ ہیں کہ رسول خدا(ص) سے جن کا عقد ایک جاہلی رسم کے خاتمہ کا اعلان تھا اور خداوند عالم نے خود قرآن میں اس عقد کی خبر دی ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔(زوجناکها) لہذا زینب بنت جحش اسی بشارت قرآنی  کے تناظر میں دوسری ازواج پر مباہات کرتی تھیں۔  



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11