Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191172
Published : 27/12/2017 18:33

ماں کی ممتا سے خالی آنگن اور سماج کا حال

آج زندگی کے بڑھتے ہوئے اقتصادی بوجھ نے بہت سی ماؤں کو گھر سے قدم نکالنے پر مجبور کردیا ہے تاکہ وہ کسی دفتر،یا کسی اور پیشہ سے منسلک رہ کر اپنے شوہر کی ذمہ داریوں کا کچھ بوجھ کم کرسکیں جس کے سبب ماں کی ممتا سے بہت سے گھروں کا آنگن خالی سا نظر آتا ہے،اگرچہ ظاہری طور پر ان خواتین کو دولت تو مل رہی ہے لیکن حقیقی دولت(اولاد) ان کے ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے۔

ولایت پورٹل: جیسے ہی میں عام شاہراہ سے اپنی گلی کی طرف مڑا  تو میری نظر ایک ایسی لڑکی پر پڑی کہ جو ایک کنارے کھڑی سگریٹ پی رہی تھی چونکہ اس نے مجھے آشنا نہیں پایا تو اپنے کش جاری رکھے اگرچہ اس کی عمر کوئی زیادہ نہیں تھی،اور اس کا پہناوا بھی لڑکیوں سے نہیں ملتا تھا چونکہ اس نے سر پر گرم ٹوپا اوڑھ رکھا تھا اور ساتھ ہی پینٹ اور شرٹ بھی،پہلے تو مجھے لگا کہ وہ کوئی نوجوان لڑکا ہے لیکن جب تھوڑا آگے بڑھا تو اس کے لمبے بالوں سے مجھ پر انکشاف ہوا کہ یہ تو ایک لڑکی ہے اور اس وقت میرے افسوس کا ٹھکانہ نہیں رہا۔
خیر!میں یہ اس لڑکی کی غیبت نہیں کررہا ہوں بلکہ میں اس غم انگیز ماجرے کی حکایت کررہا ہوں بلکہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کن چیزوں کی وجہ سے آج ہمارا سماج یہاں تک پہونچ چکا ہے؟
شاید اکثر موقع پر ہم موجودہ نسل کی آورگی و بے راہ روی کا گھڑا  ٹکنیکی،مشینی اور سٹلائٹ سسٹم پر پھوڑیں لیکن ہم بچوں پر والدین کی صحیح تربیت اور ان کے امور پر صحیح نظارت نہ  کرنے کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے۔ آج زندگی کے بڑھتے ہوئے اقتصادی بوجھ نے بہت سی ماؤں کو گھر سے قدم نکالنے پر مجبور کردیا ہے تاکہ وہ کسی دفتر،اسکول ،ہسپتال یا کسی اور پیشہ سے منسلک رہ کر اپنے شوہر کی ذمہ داریوں کا کچھ بوجھ کم کرسکیں جس کے سبب ماں کی ممتا سے بہت سے گھروں کا آنگن خالی سا نظر آتا ہے اور اس میں سب سے بڑا نقصان ان بچوں اور نوجوانوں کا ہوتا ہے کہ جنھیں ضرورت کے وقت ایک حقیقی مہربان یعنی ماں کی ضرورت پڑتی ہے کہ جو ان کے پاس نہیں ہے۔
اور جب بچہ اپنے والدین سے دور ہوتا ہے تو اسے یا تو گھر پر اکیلا رہنا پڑتا ہے یا اس کے پاس کوئی اور رہتا ہے ،اور یہ امر ناقابل تلافی نقصان میں تبدیل ہوجاتا ہے چونکہ بچپن ۔کہ جو ایک بچے کی شخصیت کے خد و خال درست ہونے کا وقت ہوتا ہے۔ میں والدین ہی بچے کی اخلاقی معیار پر صحیح تربیت کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں اور قطعی طور پر دوسرے لوگ بچوں کے اس پہلو پر توجہ ہی نہیں کرپاتے اگرچہ والدین اپنے بچوں کے پاس چھوڑنے والے لوگوں کو واضح اور شفاف طور پر تمام لائحہ عمل ذہن نشین بھی کرادیتے ہیں لیکن چونکہ بچے کو چاہے جتنی سہولیات میسر ہوں اگر اس کے پاس اس کے والدین میں سے کوئی ایک نہیں ہے وہ اپنی زندگی میں ایک خلاء کا احساس کرتا ہے اور یہ زمانہ کے گذرنے کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور نفسیاتی مشکلات میں تبدیل ہوجاتا ہے۔(1)
ماہرین نفسیات کے مطابق بچوں کو ابتدائی سالوں میں خاص عطوفت کی ضرورت پڑتی ہے کہ جو صرف ماں ہی کے ذریعہ پوری ہوسکتی ہے اور عورت  کا گھر سے باہر کام کے لئے جانا  بچے کے نفسیات پر ایسا حملہ ہوتا ہے کہ جسے مندمل نہیں کیا جاسکتا۔
بہر کیف! بچے سے ماں کا دور ہونا چاہے جس سبب سے ہو،اس کا اثر بچے کے نفسیات، اخلاق اور زندگی پر ضرور پڑتا ہے  اور اگر والدین کی نظارت بچوں سے ختم ہوجائے تو وہ علمی میدان میں بھی پسپا ہوجاتے ہیں چونکہ کسی بھی میدان میں غلطی کرنے پر اگر بچوں کو صحیح راہ نہ دکھائی جائے اور مثبت رد عمل کا اظہار نہ کیا جائے تو اسے جوانی میں مہار کرنا ممکن نہیں ہوتا۔نیز اس مرحلہ میں گھر کے مرد(باپ) پر بھی منفی اثر ہوسکتا ہے چونکہ جب بچے اپنی مالی ضرورت کو اپنی ماں کے ذریعہ پوری کرلیتے ہوں تو ان کی نظر میں گھر کے اندر والد کے کردار کا رنگ بھی  پھیکا پڑ سکتا ہے۔
نیز یہ بھی خیال رہے کہ لڑکیوں کے لئے ان کی ماں ہی سب سے بڑا نمونہ اور آئیڈیل ہوتی ہے چونکہ لڑکیاں ماؤں ہی سے گھریلوں امور کی انجام دہی، شوہر کی خدمت، بچوں کی دیکھ بھال سیکھتی ہے اور گھر کے بہت سے کام انجام دیکر  آہستہ آہستہ اپنے مستقبل کی زندگی کے لئے تیار ہوتی ہے اور اگر خود ماں ہی اپنے گھر میں کم رہتی ہوں تو یہ آئیڈیلی اور مثالی شبیہ کم رنگ ہوجاتی ہے۔اور اگر والدین اپنے بچوں کو گھر پر اکیلے نہ چھوڑ کر کسی دوسرے انسان کا بندوبست کردیں،مثل خالہ ،پھوپی،یا نوکروغیرہ یا انھیں کنڈرگارٹن بھی بھیج دیا جائے تو بہر حال ہر ایک کی تربیت کا انداز الگ ہوتا ہے تو یہ بچہ دو الگ الگ طریقوں پر تربیت پاکر پروان چڑھے گا۔(2)
امور تربیت اور نفسیات کے ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جیسے جیسے بچہ نوجوانی اور جوانی سے قریب ہوتا ہے تو اسے والدین اور خاص طور پر ماں کی خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے ،اور خاص طور پر اس زمانہ میں کہ جب چاروں طرف سے انحراف و ظلمتوں کے اژدھے منھ پھیلائے بیٹھے ہوں ،مزید یہ بھی کہ بہت سی باہر کام کرنے والی خواتین اپنے کام کی بہت سی مشکلات اور تھکن کو اپنے ساتھ اپنے گھر بھی لاتی ہیں کہ جو خود انھیں بچوں  سے دور کردیتے ہیں اور ان کی صحیح تربیت نہیں کرپاتیں۔(3)
آخری بات
قارئین کرام! گذشتہ بیان کی روشنی میں ہم یہ کہیں گےکہ: شاید والدین اپنی اقتصادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی عاطفی ضرورت کا بھی لحاظ رکھنے پر توجہ دیں! کہیں ماحول کی رنگینیوں میں تمہارے جیالے مدھم نہ پڑ جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1 ۔آسيب هاي پنهان اشتغال مادر بر فرزندان، مشرق نیوز، اردیبهشت 1393 ۔
2 ۔همه دردسرهای زنان شاغل در ایران ، خبرگزاری مهر، آذر 1396 ۔
3۔کودکان و مصائب داشتن یک مادر شاغل، ایرنا، بهمن 1392 ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11