Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191194
Published : 28/12/2017 17:56

حضرت معصومہ قم(س) شفیعہ روز جزا

شفاعت یعنی خدا کی بارگاہ میں کسی گنہگار کے لئے اس کے منتخب بندوں کا سفارش مغفرت کرنا چنانچہ خداوند عالم ان کی اس سفارش کو قبول بھی کرلیتا ہے۔شفاعت مذہب اہل بیت(ع) کا مسلم عقیدہ ہے بلکہ بعض روایات میں تو شفاعت کے منکر کو دائرہ شیعیت سے خارج شمار کیا گیا ہے۔


ولایت پورٹل:حضرت فاطمہ معصومہ(س) یکم ذیقعدہ ۱۷۳ ہجری کو مدینہ منورہ میں اپنے بھائی امام رضا(ع) سے تقریباً ۲۵ برس کے  بعد پیدا ہوئیں،آپ کی والدہ گرامی نجمہ خاتون اور آپ کے والد حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہیں۔
والد بزرگوار کی دردناک شہادت کے بعد آپ کی کفالت امام رضا(ع) نے فرمائی لیکن سن ۲۰۰ ہجری میں مامون نے بھائی کو بھی وطن چھوڑنے پر مجبور کیا اور خراسان بلوالیا،چنانچہ ایک سال انتظار اور صبر کے بعد آپ اپنے بھائی کے دیدار کی خاطر خراسان کی طرف رخت سفر باندھ کر نکل پڑیں۔اگرچہ آپ کے دیگر بھائی جیسا کہ،فضل، جعفر،ہادی،قاسم اور زید وغیرہ آپ کے ہمراہ تھے لیکن جیسے ہی قم کے قریب ایک دیہات ساوہ میں پہونچی تو آپ کو زہر دیدیا گیا جبکہ بعض کتابوں میں یہ بھی ملتا ہے کہ آپ مریض ہوگئیں۔( الحیاه السیاسیه للامام الرضا، ص428)۔
آپ کو آپ کی وصیت کے مطابق ۲۳ ربیع الاول ۲۰۱ ہجری میں شہر قم پہونچا دیا گیا،اس شہر میں آپ ۱۷ دن موسیٰ بن خزرج کے گھر میں رہیں اسی علالت میں آپ کی رحلت ہوگئی اور امام رضا و امام محمد تقی علیہما السلام نے آپ کو قم میں سپرد خاک کردیا۔(بحارالانوار، ج48، ص290، تاریخ قم، ص213)۔
اگرچہ حضرت فاطمہ معصومہ(س) کی کل عمر شریف ۲۸ برس تھی لیکن آپ اس سن میں ان بلند مراتب پر فائز تھیں کہ جن کا اندازہ آپ کے القاب سے لگایا جاسکتا ہے چنانچہ آپ کے القاب میں معصومہ،کریمہ،عالمہ،محدثہ وغیرہ بہت مشہور ہیں۔(انوار المشعشعین، ص211 ـ 210، زبده التصانیف، ص499، اعلام النسإ المومنات، ص577)۔
لیکن ایک اور لقب جو آپ کے چاہنے والوں کے لئے شاد کن امر ہے وہ آپ کا مقام و مرتبہ شفاعت پر فائز ہونا ہے کہ جسے اللہ نے آپ کو کثرت عبادت اور تہذیب نفس کے عوض  عطا فرمایا ہے۔(بحارالانوار، ج102، ص266، سفینه البحار، ج2، ص376)۔
چنانچہ بہت سی روایات آپ کے شفیعہ روز جزا ہونے پر دلالت کرتیں ہیں،لہذا ان روایات کی طرف اشارہ کرنے سے پہلے یہ یاد دہانی کرانا ضروری سمجھتے ہیں کہ:
شفاعت یعنی خدا کی بارگاہ میں کسی گنہگار کے لئے اس کے منتخب بندوں کا سفارش مغفرت کرنا چنانچہ خداوند عالم ان کی اس سفارش کو قبول بھی کرلیتا ہے۔
شفاعت مذہب اہل بیت(ع) کا مسلم عقیدہ ہے  بلکہ بعض روایات میں تو شفاعت کے منکر کو دائرہ شیعیت سے خارج شمار کیا گیا ہے چنانچہ امام صادق(ع) کا ارشاد گرامی ہے:«من انکر ثلاثة اشیاء فلیس من شیعتنا؛ المعراج والمسائلة فی القبر والشفاعة»۔( بحارالانوار، ج8، ص37)۔
اگر کوئی تین چیزوں کا انکار کرے وہ ہمارا شیعہ نہیں ہے،معراج،قبر میں سوال،اور شفاعت۔
نیز یہ بھی یاد رہے کہ شفاعت رحمت الہی کا وہ سائبان ہے کہ جو صرف روز قیامت ہی اس مؤمن کو نصیب ہوسکے گا جس نے صاحبان شفاعت سے اپنے روابط کو  قطع نہ کیا ہو۔
شفاعت کرنے والے
جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ صرف وہ افراد ہی مؤمن کی شفاعت کرسکتے ہیں جنھیں اللہ نے حق شفاعت دیا ہو چنانچہ قرآن و روایات سے جن چیزوں کے قیامت میں شفیع ہونے کا پتہ ملتا ہے وہ درج ذیل ہیں:
۱۔پیغمبر اکرم(ص)
۲۔آئمہ معصومین(ع)
۳۔اہل بیت پیغمبر(ص)
۴۔پیغمبران الہی(ع)
۵۔قرآن کریم
۶۔اعمال صالحہ
۷۔فرشتے
۸۔مؤمنین و وووو۔(شفاعت، جعفر سبحانی، ص334 نقل از مسند احمد، ج5، ص257)۔
حضرت فاطمہ معصومہ(س) کی شفاعت
گذشتہ بیان کی روشنی میں جناب معصومہ(س) کے لئے شفاعت کو ۳ طریقوں سے ثابت کیا جاسکتا ہے:
1ـ بہت سی روایات میں پیغمبر اکرم(ص) کے اہل بیت کے لئے مقام شفاعت پر فائز ہونے کی تاکید ہوئی ہے  اور حضرت فاطمہ معصومہ(س) امام علی رضا(ع) کی حقیقی بہن ہیں اور اسی خاندان رسول(ص) سے ہیں تو پس آپ کے لئے بھی مقام شفاعت کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔
2ـ نیز بہت سی روایات میں یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ مؤمنین بھی قیامت میں ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے۔ تو بھلا کریمہ اہل بیت(ع) سے برتر صاحب ایمان کون ہوگا کہ آپ ایمان کے اعلیٰ مراتب پر فائز صاحب کرامت بی بی ہیں۔«لایزال المؤمن یشفع حتی یشفع فی جیرانه و خلطائه و معارفه»۔(بحارالانوار، ج8، ص44)۔
مؤمن دائمی طور پر شفاعت کرے گا یہاں تک کہ اپنے پڑوسیوں،ہمنشینوں اور جاننے والوں کی۔
3ـ حضرت معصومہ(س) کے مقام شفاعت کو ثابت کرنے کا تیسرا اور اہم طریقہ خود وہ روایات ہیں جن میں خود شہزادی کے شفیعہ روز جزا ہونے کی تصریح موجود ہے جیسا کہ خود آپ کی زیارت میں امام رضا علیہ السلام  نے سعد اشعری سے فرمایا:اے سعد جب تم فاطمہ معصومہ(س) کی قبر کے قریب جاؤ تو رو بقبلہ کھڑے ہوکر ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر، ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ ،۳۳ مرتبہ الحمد للہ کہنا اور پھر اس طرح زیارت پڑھنا: «اتقرب الی الله بحبکم والبرائة من إعدائکم والتسلیم الی الله... یا فاطمة اشفعی لی فی الجنة فان لک عندالله شانا من الشان»۔(بحارالانوار، ج102، ص266)۔
اس زیارت نامہ میں امام رضا(ع) سعد اشعری کو یہ تاکید فرماتے ہیں کہ زائر اپنے عمل کے ذریعہ ہم اہل بیت(ع) سے شفاعت کی درخواست کرتا ہے اور ہمارے دوستوں کی دوستی اور دشمنوں کی دشمنی اور خدائی احکام کی پابندی یہ وہ سب وسیلے ہیں جن کے سبب ایک زائر یہ اظہار کرتا ہے کہ میں ان سب چیزوں کو لیکر آپ کی بارگاہ میں آیا ہوں تاکہ خدا سے نزدیک ہوسکوں۔
اگرچہ حضرت معصومہ قم(س) کے مقام شفاعت پر فائز ہونے کے سلسلہ میں روایات کا ایک طویل سلسلہ ہے اور ہم نے صرف نمونہ کے طور پر اس روایت کو پیش کیا۔ آخر میں اسی موضوع پر ایک خواب نقل کرتے ہیں:
منقول ہے کہ ایک دن محدث قمی(رح) قم کے  ایک بازار میں ایام فاطمیہ کے موقع پر تقریر کررہے تھے تو انھوں نے بیان کیا کہ میں نے خواب میں میرزائے قمی(قدس) کو دیکھا تو ان سے دریافت کیا:حضور! کیا اہل قم کی شفاعت کی ذمہ داری حضرت معصومہ قم(س) کے پاس ہوگی؟
تو انہوں نے تعجب خیز نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے فرمایا:اہل قم کی شفاعت تو میں کروں گا،حضرت معصومہ قم(س) تمام عالم کی شفیعہ ہیں۔(کریمه اهل بیت، ص60)۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13