Thursday - 2018 مئی 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191557
Published : 15/1/2018 19:13

رہبر انقلاب کی نظر میں اسلامی جمہوریہ کی محبوبیت کا راز

۲۰۰۹ءکے فتنہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا انہوں نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ جمہوری اسلامی کا کام اب تمام ہوچکا ہے۔ بہت سارے اختلافات پیدا ہوچکے ہیں وغیرہ۔ لیکن اس کے بعد جب انہوں نے غور کیا تو پتہ چلا کہ ملت ایران کامیاب ہے۔ گذشتہ ۹ دی (۳۰ دسمبر) اور ۲۲ بہمن (۱۱ فروری) اپنے حقیقی معنی میں ایام اللہ قرار پائے ۔دلوں پر اللہ کا قبضہ ہے اس نے دلوں کو موڑ دیا اور ملت ایران نے میدان میں اتر کر اپنی عظمت کا ثبوت پیش کیا،دشمن جو کام بھی کررہے ہیں اس میں انہیں کو نقصان ہورہا ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا،یہ حقیقتیں آج دنیا کے سامنے ہیں لوگ کیا چاہتے تھے اور کیا ہوگیا!
ولایت پورٹل: آج ایک اتفاق رونما ہوا ہے، یہ آج ہی نہیں بلکہ تیس سال سے قوموں کے ذہنوں میں ایک چیز رفتہ رفتہ سماتی جارہی ہے اور آج وہی چیز شمالی افریقہ اور دوسرے علاقوں میں ظاہر ہوتی نظر آرہی ہے۔
البتہ اس سلسلہ میں مغرب سے سیاسی غلطی سرزد ہوئی ہے اور اس غلطی نے جمہوری اسلامی کی مدد کی،جوہری توانائی کے مسئلہ پر غور فرمائیں گے تو آپ کو سیاسی غلطی کا پتہ چل جائے گا،جوہری توانائی سے مقابلہ کے بجائے انہوں نے اسے بہت بڑھاوا دیدیا، بہت شور و غل مچایا اور اس سے پیچھے ہٹنے کے لئے جمہوری اسلامی پر دباؤ ڈالتے رہے۔ اس سات سال کے عرصہ میں ان کی کوششوں سے دنیا کے اوپر دو باتیں واضح ہوگئیں ایک تو یہ کہ جوہری توانائی کے سلسلہ میں ایران نے توقع کے خلاف پیشرفت کی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اتنے ہنگامہ اور دباؤ کے باوجود ایران پیچھے نہیں ہٹا۔ یہ دونوں باتیں ملت ایران کو فائدہ پہنچانے والی تھیں۔ آج ساری دنیا نے سمجھ لیا کہ اپنے ہمنواؤں اور پیروی کرنے والوں کے مسلسل دباؤ کے باوجود امریکہ اور یورپ، ایران پر نہ تو غالب آسکے اور نہ اسے روکنے میں کامیاب ہوئے۔ یعنی ملت ایران کو دنیا کے سامنے پہچنوانے میں اس طرح خود ایران کے دشمنوں کی مدد شامل حال رہی۔
دوسرے مسائل میں بھی یہی ہوا کہ دشمنوں نے پٹرول کے سلسلہ میں بھی بڑا شوروغل مچایا کہ پٹرول کا بائیکاٹ کرکے ایران کو سپلائی روک دیں گے، ظاہر ہے کہ ایران پٹرول منگواتا رہا ہے لیکن ہم نے تیل فروخت کیا انہوں نے کہا کہ ہم اس کا راستہ بند کردیں گے لیکن خود ان کے تجربہ کار افراد کا یہ فیصلہ تھا کہ اس طرح ملک میں بڑا ہنگامہ ہوجائے گا آخر لوگ کیا کریں گے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کے ذمہ داروں کو پٹرول بنانے اور اس کی پیداوار کو بڑھانے کی فکر لاحق ہوئی، آج جو رپورٹ میرے پاس ہے اس کے مطابق خداکے فضل سے ۲۲ بہمن( ۱۱ فروری)تک ملک مکمل طور پر پٹرول درآمد کرنے سے بے نیاز ہوجائے گا اور جو رپورٹ مجھے دی گئی ہے اس کے مطابق ہم پٹرول برآمد کرسکتے ہیں کہ جس کا آڈر بھی جاری ہوچکا ہے،یہ ساری باتیں ملت ایران کو نفع پہنچانے والی ہیں جسے بین الاقوامی ناظرین بھی دیکھ چکے ہیں۔جب جنگ کے زمانہ میں ہمیں اسلحہ سے محروم کر دیا گیا اس وقت بھی ایسا ہی ہوا،ہمیں نقصان پہنچانے کے لئے ہمارے پڑوس میں ایک انتہا پسندانہ اسلامی معاملہ کھڑا کردیا گیا جو اب خود انہیں کے لئے آفت بن گیا ہے وہ اسے روکنے میں ناکام ہیں،انہیں یہ بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اس کو کیسے روکا جائے؟اس کا کیا علاج ہو؟مذہبی اختلافات پیدا کرنے کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے۔ ۲۰۰۹ءکے فتنہ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا انہوں نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ جمہوری اسلامی کا کام اب تمام ہوچکا ہے۔ بہت سارے اختلافات پیدا ہوچکے ہیں وغیرہ۔ لیکن اس کے بعد جب انہوں نے غور کیا تو پتہ چلا کہ ملت ایران کامیاب ہے۔ گذشتہ ۹ دی (۳۰ دسمبر) اور ۲۲ بہمن (۱۱ فروری) اپنے حقیقی معنی میں ایام اللہ قرار پائے ۔دلوں پر اللہ کا قبضہ ہے اس نے دلوں کو موڑ دیا اور ملت ایران نے میدان میں اتر کر اپنی عظمت کا ثبوت پیش کیا،دشمن جو کام بھی کررہے ہیں اس میں انہیں کو نقصان ہورہا ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا،یہ حقیقتیں آج دنیا کے سامنے ہیں لوگ کیا چاہتے تھے اور کیا ہوگیا!

رہبر انقلاب کے ایک خطاب سے اقتباس


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 مئی 24