Friday - 2018 Oct. 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191559
Published : 15/1/2018 19:33

عبادتوں کے درجات اور حضرت علی(ع) کی نظر میں عبادت کرنے کی کیفیت

حضرت امیر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:خدایا! میں نے تیری عبادت نہ تو جہنم کے خوف سے کی ہے نہ ہی جنت کی لالچ میں بلکہ تجھ کو لائق عبادت پایا تو تیری عبادت کی۔

ولایت پورٹل:عبادت کے بارے میں لوگوں کا انداز فکر یکساں نہیں ہے بلکہ متفاوت ہے،یعنی لوگوں کی نظر میں عبادت ایک قسم کا لین دین، معاوضہ،محنتانہ اور اجرت ہے،وہ اسی انداز سے سوچتے ہیں کہ کام کرو اور اجرت لو ،جس طرح مزدور روزانہ اپنی صلاحیت کو کسی مالک کے لئے بروئے کار لاتا ہے اور اس سے اجرت لیتا ہے۔عابد بھی خدا کے لئے قیا م و قعود کی زحمت اٹھاتا ہے اور اس سے اجرت طلب کرتا ہے البتہ اس کی اجرت دوسری دنیا (آخرت) میں اسے دی جائے گی جس طرح ایک مزدور کی ریاضتوں کا ثمرہ مالک سے ملنے والی اجرت کی صورت میں دیا جاتا ہے،اگر اس کام کی اجرت حاصل نہ ہوتو گویا اس کی محنت ضائع ہوجائے،اسی طرح عابد کی عبادت کا فائدہ بھی اس گروہ کے نقطۂ نظر سے وہی اجرت اور بیگاری ہے جو اس کو دوسری دنیا میں مادی اشیاء کے ایک سلسلہ کی صورت میں دی جائے گی۔
ہر مالک اس فائدہ کی وجہ سے اجرت دیتا ہے جو اسے مزدور کے کام سے حاصل ہوتا ہے لیکن مُلک و ملکوت کے مالک کو اپنے ایک ناتواں بندہ سے کس قسم کا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ اور پھر اگر بالفرض مالک حقیقی کی طرف سے اجرت ومزدوری فضل وکرم کی صورت میں ہے تو یہی فضل وبخشش اس کو کام کی اس معمولی سی انرجی صرف کئے بغیر کیوں نہیں دے دی جاتی ؟! یہ وہ مسئلہ ہے جو ہرگز ایسے عابدوں کے پیش نظر نہیں ہے ۔
ایسے افراد کی نظر میں عبادت کے تار و پود یہی جسمانی اعمال اور ظاہری حرکات بدن ہیں جو زبان اور دیگر اعضائے بدن کے ذریعہ انجام پاتے ہیں۔
عبادت کے بارے میں یہ ایک طرز فکر ہے جو محض عامیانہ اور جاہلانہ قسم کا ہے اور اشارات کی نویں فصل میں بو علی سینا کی تعبیر کے مطابق، خدا کی معرفت سے عاری عبادت ہے جس کو صرف جاہل وقاصر عوام قبول کرسکتے ہیں۔
عبادت کے بارے میں دوسرا نقطۂ نظرعارفانہ ہے:
اس طرز فکر میں مالک ومزدور یا اس طرح کی اجرت ومزدوری کا کوئی ایسا تصور جو ایک مزدور اور مالک کے درمیان رائج ہے ،نہیں ہونا چاہیئے،اس مکتب میں عبادت، تقرب کا ذریعہ انسان کی معراج، نفس کی بلندی اور ایک غیر مرئی ذات کی طرف روح کی پرواز ہے، یہ روحانی صلاحیتوں کی تربیت اور انسان کی ملکوتی طاقت کی مشق ہے، یہ روح کی جسم پر فتح ہے،کائنات کے خالق کے سامنے انسان کی سپاس گزاری کا بہترین رد عمل ہے، کامل مطلق اور جمیل علی الاطلاق سے انسان کے عشق وشیفتگی کا اظہار ہے،مختصر یہ کہ خدا کی طرف سیروسلوک ہے۔
اس طرز فکر میں عبادت پیکر بھی رکھتی ہے اور روح بھی، ظاہر بھی رکھتی ہے اور باطن بھی وہ باتیں جو زبان اور دیگر اعضائے بدن سے انجام پاتی ہیں وہ عبادت کا پیکر اور اس کی ظاہری صورت ہے،عبادت کی روح اور حقیقی مفہوم کچھ اور ہی ہے۔روح عبادت اس مفہوم سے کامل وابستگی رکھتی ہے جو ایک عابد اپنی عبادت سے رکھتا ہے،وہ عبادت کو کس نظر سے دیکھتا ہے ؟وہ کونسا جذبہ ہے جس نے اس کو عبادت کی طرف متوجہ کیا ہے؟ وہ کہاں تک عملاً اس سے لطف اندوز ہوا ہے ؟اور یہ کہ عبادت کس حد تک سلوک الی اللہ کا ذریعہ بنی ہے اور وہ اس سے کتنا قریب ہوا ہے؟
لیکن نہج البلاغہ کی نظر میں عبادت عارفانہ طرزفکر کی حامل ہے بلکہ عالم اسلام میں عارفانہ نظریات کی حامل عبادتوں کا منبع وسرچشمہ قرآن مجید اور سنت پیغمبر اسلام(ص) کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے کلمات اور حضرت علی علیہ السلام کی عارفانہ عبادتیں ہی ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات میں سے ہے کہ آپ نے فرمایا:اِلٰھِیْ مَاعَبَدْتُکَ خَوْفاً مِنْ نَارِکَ وَلَاطَمَعاً فِی جَنَّتِکَ بَلْ وَجَدْتُکَ اَھْلاً لِلْعِبَادَۃِ فَعَبَدْتُکَ۔
خدایا! میں نے تیری عبادت نہ تو جہنم کے خوف سے کی ہے نہ ہی جنت کی لالچ میں بلکہ تجھ کو لائق عبادت پایا تو تیری عبادت کی۔


 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Oct. 19