Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191573
Published : 16/1/2018 18:56

خوارج اور وہابیوں کے درمیان مماثلت و مشابہت(1)

تعجب خیز بات یہ ہے کہ وہابیوں اور خوارج کے درمیان اتنی شدید مشابہت پائی جاتی ہے کہ بعض محققین تو یہاں تک مانتے ہیں کہ وہابی ہی خوارج ہیں،ان دونوں گروہوں کے درمیان صرف زمانہ کا فرق ہے، خوارج اول الزمان (صدر اسلام) میں تھے جبکہ یہ (وہابی )آخر الزمان میں ہیں۔
ولایت پورٹل: تعجب خیز بات یہ ہے کہ وہابیوں اور خوارج کے درمیان اتنی شدید مشابہت پائی جاتی ہے کہ بعض محققین تو یہاں تک مانتے ہیں کہ وہابی ہی خوارج ہیں،ان دونوں گروہوں کے درمیان صرف زمانہ کا فرق ہے، خوارج اول الزمان (صدر اسلام) میں تھے جبکہ یہ (وہابی )آخر الزمان میں ہیں چنانچہ ہم ذیل میں ان دونوں گروہوں کے درمیان کچھ مشترکہ پہلوؤں کو قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں:
1۔خوارج نے تمام مسلمانوں کے برخلاف یہ کہا تھا کہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والا کافر ہے۔ وہابی بھی مسلمانوں کو بعض اعمال کے سبب کافر شمار کرتے ہیں۔(رجوع کیجئے:کتاب کشف الشبهات محمد بن عبدالوهاب و تطهیر الاعتقاد صنعانی)۔
2۔خوارج کے نزدیک وہ اسلامی سرزمین و حدود کہ جہاں کثرت کے ساتھ گناہ  انجام دیئے جاتے ہوں اسے سرزمین کفر اور دار حرب سے تعبیر کیا جاتا تھا اوررسول اکرم(ص) جو برتاؤ حقیقی کفار کے ساتھ کرتے تھے یہ ان مسلمانوں کے لئے ویسا ہی کرتے  تھے،یعنی ان کی جان و مال کو مباح جانتے تھے۔
چنانچہ انھیں کی طرح وہابی مسلک کے لوگ بھی اگر مسلمان زیارتی سفر پر نکلیں اور روضہ رسول(ص) کی زیارت کریں اور آپ سے شفاعت طلب کریں تو یہ بھی ان لوگوں کے کفر کا فتوی دیتے ہیں اگرچہ یہ بے چارے مسلمان اپنے زمانے کے سب سے بڑے عابد و زاہد ہی کیوں نہ ہو۔
ان دو موارد کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہابیوں کا عقیدہ خوارج سے بھی زیادہ برا ہے چونکہ خوارج تو صرف انھیں گناہوں پر توجہ کرتے تھے کہ جنھیں تمام مسلمان کبیرہ گناہ مانتے تھے لیکن وہابی تو ان چیزوں کو  بھی گناہ کبیرہ اور باعث کفر گردانتے ہیں جو گناہ ہی نہیں ہیں بلکہ شریعت میں مستحب اور ممدوح اعمال ہیں اور متفقہ طور پر سلف صالح( کہ جن کی اتباع کا وہ دم بھرتے ہیں) یعنی صحابہ اور تابعین بھی ان پر سختی سے عمل پیرا تھے۔
3۔خوارج اور وہابیوں کے درمیان سب سے راسخ شباہت دین میں جاہلانہ اور اندھا تعصب و فکری جمود تھا۔چنانچہ جب خوارج قرآن مجید کی اس آئیہ کریمہ کو پڑھتے: «ان الحکم الا لله»۔(انعام / ۵۷)۔
تو وہ یہ نعرہ بلند کرتے تھے: کہ جو بھی فیصلہ اور حکم کرنے کا کسی کو حق دے وہ شرک کا مرتکب ہوا ہے لہذا یہی آیت ان کی علامت بن گئی اگرچہ یہ آئیہ کریمہ اللہ کی طرف سے نازل ہونے والا کلام حق ہے لیکن وہ لوگ اس کے معنی میں غلط فہمی کا شکار تھے اور ان کا یہ کام تعصب اور نادانی کی وجہ سے تھا چونکہ اختلافات اور نزاع کے دوران کسی کو حکم اور فیصلہ کرنے والا بنایا جانا قرآن مجید ،سنت قطعیہ اور عقل کی طرف سے تائید شدہ امر ہے اور ہمیشہ سے عقلائے عالم نیز صدر اسلام سے اب تک تمام مسلمان ایسا کرتے آئے ہیں۔
چنانچہ جب وہابیوں کی نظر ان آیات پر پڑی:«ایاک نعبد و ایاک نستعین»۔(الفاتحہ:۴) اور«من ذاالذی یشفع عنده الا باذنه»۔(بقره: ۲۵۵) اور «لایشفعون الا لمن ارتضى»۔(انبیاء / ۲۸)  تو انھوں نے یہ گمان کیا۔ اور اپنے اسی گمان پر اپنے عقیدہ کی عمارت کھڑی کرڈالی۔ کہ جو بھی کسی نبی یا اللہ کے صالح بندوں کو اپنا شفیع بنائے گویا اس نے مشرکانہ عمل انجام دیا ہے اور جو کوئی بھی رسول اللہ (ص) کی قبر اقدس کا قصد کرے اور آپ سے طلب شفاعت کرے گویا اس نے خدا کی جگہ آپ کی عبادت کی ہے۔
پس جس طرح خوارج کا نعرہ:«ان الحکم الا لله» تھا وہابیوں کا نعرہ یہ آیات قرار پائیں۔«لامعبود الا الله»و «لا شفاعه الا الله»۔اگرچہ یہ اللہ کی طرف سے نازل ہونے والا کلام حق ہے لیکن یہ ناسمجھ لوگ ان آیات سے باطل کا ارادہ کرتے ہیں لہذا یہ بھی خوارج کی طرح متعصب اور نادان ہیں چونکہ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ان چیزوں کا جواز سیرہ صحابہ و تابعین سے ثابت ہے۔
4۔خود وہابیت کا فکری باپ ابن تیمہ خوارج کے متعلق اس طرح تحریر کرتا ہے:خوارج کا عقیدہ اسلام میں سب سے پہلی بدعت کی داغ بیل تھی اس عقیدہ کے حامل لوگوں نے مسلمانوں کو کافر کہا اور ان کے خون کو مباح جانا۔(مجموعۀ فتاوى، ج ۱۳، ص ۲۰)۔
لیکن ہم ابن تیمیہ کو یہ کہنا چاہیں گے کہ خوارج اسلام میں سب سے پہلی بدعت تھے جبکہ وہابی انھیں کی طرح اسلام میں ظاہر ہونے والی آخری بدعت ہیں۔
5۔وہ صحیح اور معتبر احادیث کہ جن میں خوارج کے دین سے خارج ہونے کے متعلق تذکرہ موجود ہے ان میں سے بہت سی احادیث وہابیوں پر بھی صادق آتی ہیں چنانچہ ان میں سے رسول خدا(ص) کی ایک حدیث ہے کہ جس میں آپ نے فرمایا:کچھ لوگ مشرق کی جانب سے خروج کریں گے،جو قرآن مجید پڑھ رہے ہونگے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے کہ جن کی علامت سروں کو منڈوانا ہے۔(صحیح بخارى، کتاب توحید، باب ۵۷، ح ۷۱۲۳)۔
6 – احادیث شریف و صحیحی که دربارۀ خوارج و خروج آنها از دین سخن مى‏ گوید، بعضی از آنها بر وهابیت نیز تطبیق مى‏شود… از جمله در حدیث صحیح از پیامبر صلی الله علیه و اله نقل شده است که فرمود: (انسانهایی از ناحیۀ مشرق خروج مى‏
لہذا قسطلانی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:اس حدیث میں مشرق سے مراد،مدینہ،نجد اور حجاز کے دوسرے علاقے ہیں۔(ارشاد السارى، ج ۱۵، ص ۶۷۶، طبع دارالفکر، سال ۱۴۱۰ ه)۔
قارئین کرام! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے،نجد وہابیت کی جائے پیدائش اور اس کا سب سے پہلا مرکز  ہے کہ جہاں سے اس ضالہ فرقہ نے پھیلنا شروع کیا نیز سروں کا منڈانا بھی وہابیوں کی علامت تھا اور اپنے ماننے والوں کو اس عمل کے کرنے کا حکم بھی دیتے تھے بلکہ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ عورتوں کو بھی اس چیز کا حکم دیتے تھے۔ اور یاد رہے طول تاریخ میں جتنے بھی بدعت گذار فرقے گذرے ہیں ان میں سے کسی کا یہ عمل(سر منڈوانا) شعار اور علامت نہیں بنا لہذا بعض دانشوروں کی نظر میں وہابی افکار کو رد کرنے کے لئے کسی مستقل کتاب لکھنے کی  کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ حضرت ختمی مرتبت(ص) کہ یہ جملہ کہ: ان کی علامت سروں کو منڈوانا ہوگی۔ہی کافی ہے چونکہ ان کے علاوہ کسی بدعت گذار فرقہ نے بھی اس عمل(سر منڈوانے) کو اپنی علامت قرار نہیں دیا۔(فتنة الوهابیة، تالیف زینی دحلان، ص ۱۹)۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21