Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191577
Published : 16/1/2018 20:14

جناب موسٰی مبرقع(ع) کے حالات

جناب موسٰی مبرقع اگرچہ عصمت کبریٰ کے حامل تو نہ تھے لیکن آپ نے اپنی زندگی اپنے آباء و اجداد کی سیرت پر ایسے گذاری کہ آپ کی زندگی میں کسی لغزش کا بھی سراغ نہیں ملتا اور یہ ہم اہل بیت(ع) کے پیرو اور چاہنے والوں کے لئے عظیم سبق بھی ہے کہ انسان معصوم من اللہ نہ بھی ہو تو وہ نہایت محفوظ زندگی گذار سکتا ہے اور یہی اقتداء اہل بیت(ع) کا مطلب ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آج ہم آپ کے سامنے خاندان اہل بیت(ع) کی ایک اہم شخصیت کا تعارف پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں جن کا نام شاید آپ نے کبھی پہلے سنا ہو،اگرچہ آپ عصمت کبریٰ کے حامل تو نہ تھے لیکن آپ نے اپنی زندگی اپنے آباء و اجداد کی سیرت پر ایسے گذاری کہ آپ کی زندگی میں کسی لغزش کا بھی سراغ نہیں ملتا اور یہ ہم اہل بیت(ع) کے پیرو اور چاہنے والوں کے لئے عظیم سبق بھی ہے کہ انسان معصوم من اللہ نہ بھی ہو تو وہ نہایت محفوظ زندگی گذار سکتا ہے اور یہی اقتداء اہل بیت(ع) کا مطلب ہے۔
اس عظیم ہستی کا نام نامی ابو احمد حضرت موسٰی بن امام محمد تقی علیہ السلام ہے کہ جنھیں موسیٰ مبرقع کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
آپ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور آپ کی والدہ گرامی جناب سمانہ مغربیہ تھیں،جناب موسیٰ مبرقع امام علی نقی علیہ السلام کے سگے بھائی تھے اور آپ دونوں کی والدہ ایک ہی ہیں۔
اگرچہ آپ کی تاریخ ولادت کے سلسلہ میں علماء رجال و محدثین کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے لیکن قرائن اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آپ اپنے برادر بزرگوار امام علی نقی علیہ السلام سے 2 برس چھوٹے تھے تو اس حساب سے آپ کی ولادت سن 204 ہجری  میں ہی مناسب معلوم ہوتی ہے۔
آپ اپنے بھائی امام علی نقی علیہ السلام  کی شہادت کے بعد سن 254 ہجری میں مدینہ سے آکر سامرا کچھ مدت رہے اور سن 256 ہجری میں عباسی ظالم خلیفہ مہتدی  کے دور حکومت میں قم کی طرف ہجرت فرمائی۔ چنانچہ آپ پہلے رضوی سید ہیں کہ جو قم میں تشریف لائے اور چونکہ آپ ہمیشہ اپنے چہرے پر نقاب رکھتے تھے اسی وجہ سے آپ کو مبرقع یعنی برقعہ پوش کہتے ہیں۔
چنانچہ جیسے ہی حضرت موسیٰ مبرقع قم میں وارد ہوئے تو قم میں آباد عربوں نے آپ کو کوئی اہمیت نہیں دی اور آپ کو شہر سے باہر نکال دیا تو آپ قم ہی سے قریب ایک دوسرے شہر،کاشان تشریف لے گئے کہ جہاں کا حاکم احمد بن عبدالعزیز بن دُلَف عجلى  تھا۔ اس نے آپ کا بہت احترام و اکرام کیا اور آپ کو نفیس تحائف اور سواری بھی تحفہ میں دیئے۔
نیز کاشان کے حاکم نے یہ بھی طئے کیا کہ وہ 1000 مثقال خالص سونا اور زین و رکاب سے آراستہ ایک گھوڑا ہر سال آپ کو تحفہ کے طور پر دیا کرے گا۔چنانچہ اس واقعہ کے بعد قم میں آباد عرب بھی آپ کے اجتماعی مقام سے آگاہ ہوچکے تھے لہذا وہ اپنی غلطی پر نادم ہوئے اور آپ سے معذرت کرنے کی خاطر کاشان پہونچ گئے اور آپ کو دوبارہ قم لانے پر اصرار کیا لہذا آپ نے ان عربوں کی غلطی کو معاف کر قم کو اپنے مسکن کے طور پر اختیار کرلیا۔
حضرت مبرقع شہر قم کو بہت چاہتے تھے چونکہ اس مقدس شہر میں آپ کے والد گرامی کی پھوپی حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا مزار اقدس تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے عربوں کی اس گستاخی کو بھلا کر قم میں رہنا پسند فرمایا۔چنانچہ آپ اب قم کی سب سے محبوب شخصیت بن گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر کے بڑے بڑے لوگ آپ کی خدمت میں حاضری کو اپنا شرف جاننے لگے۔
اس اتفاق کے بعد آپ کی تین بہنیں اور آپ کی بیٹی جناب بریھہ بھی قم تشریف لے آئیں اور اسی شہر میں رہنے لگیں اور انھوں نے یہیں وفات پائی اور اپنی پھوپی جناب معصومہ سلام اللہ علیہا کے جوار میں دفن ہوئیں۔
 حضرت موسٰی مبرقع نے 40 برس قم میں زندگی بسر کی اور آخر کار 28 ربیع الثانی بروز بدھ سن 296 ہجری کو اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے معبود حقیقی سے جاملے،چنانچہ آپ کی وفات سے اہل قم کو بڑا صدمہ ہوا،جنازہ میں قم کے ہر امیر و غریب نے شرکت کی اور خود حاکم قم؛عباس بن عمرو غنوی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو قم کے موسویان محلہ میں سپرد لحد کردیا گیا۔
موسویان محلہ چہل اختران علاقہ کے نزدیک آذر روڑ پر واقع ہے ،آپ کی قبر مطہر پر ایک ضریح نصب ہے نیز ضریح پر بنا گنبد بھی آپ کی جلالت و عظمت پر دلیل ہے چنانچہ محبان خاندان رسول(ص) آپ کے مزار پر حاضری کو اپنا شرف جانتے ہیں۔
حضرت موسى مبرقع کے پانچ بیٹے تھے کہ جن کے اسمائے گرامی اس طرح ہیں:حسين، على، احمد، محمد و جعفربن موسى مبرقع۔ اور آخر والے فرزند جناب جعفر ہی سلسلہ رضوی سادات کے مورث اعلٰی ہیں۔

حوالہ: کتاب منتهى الآمال،شیخ عباس قمی۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17