Sunday - 2018 july 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191590
Published : 17/1/2018 18:55

خوارج اور وہابیوں کے درمیان مماثلت و مشابہت(2)

خوارج اس وجہ سے غضب الہی کی زد میں آئے چونکہ وہ مسلمانوں کی جان و مال کو مباح جانتے تھے،اور اپنے علاوہ سارے مسلمانوں کو کافر گردانتے تھے،اور اس بات میں بھی کسی طرح کا شک نہیں کرنا چاہیئے کہ جو ان جیسی صفات کا حامل ہوگا اس کا انجام بھی ایک دن ویسا ہی ہوگا۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے گذشہ مضمون میں یہ عرض کیا تھا کہ وہابیوں اور خوارج کے افکار و اعمال میں حد درجہ مشابہت پائی جاتی ہے چنانچہ ہم نے کچھ شباہتوں کا تذکرہ کیا تھا اور ہم آج کے اس حصہ میں باقی دیگر مشابہتوں کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ ایک اہل سنت برادر کا ایک وہابی سے مناظرہ پیش کررہے ہیں شاید آپ بھی اسے پڑھ کر ہمارے دعویٰ کی تصدیق کریں۔ آئیے اس مضمون سے پہلے گذشتہ کڑی پر ایک نظر ڈال لیں تاکہ موضوع ہمارے لئے واضح ہوجائے:
خوارج اور وہابیوں کے درمیان مماثلت و مشابہت(1)
گذشتہ سے پیوستہ:
7۔ایک حدیث میں پیغمبر اکرم(ص) نے خوارج کے اوصاف بیان کرتے ہوئے یہ جملہ ارشاد فرمایا:”یقتلون اهل الاسلام و یدعون اهل الأوثان“۔یہ لوگ مسلمانوں کا قتل عام کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔چنانچہ خود ابن تیمیہ نے اپنی کتاب مجموعة الفتاوى، ج ۱۳، ص ۳۲ پر اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ لیکن شاید اسے بھی یہ معلوم نہ رہا ہو کہ وہ جس تشدد آمیز فکر کا سنگ بنیاد ڈال رہا ہے ایک دن اس کی فکری اولاد خوارج کو بھی پیچھے چھوڑ دے گے چونکہ آپ پوری وہابیت کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے کہ کبھی کسی وہابی، تکفیری گروہ نے کسی غیر مسلم پر حملہ نہیں کیا بلکہ جب بھی انھیں موقع ملا انھوں نے اہل قبلہ اور خود مسلمانوں کا ہی قلع قمع کیا،جب بھی تجاوز کیا مسلمانوں کو ہی اپنی ہوس کا شکار بنایا،جب بھی بم برسائے کسی مسلمان ملک پر ہی برسائے چنانچہ آپ آج بھی یمن کے حالات ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
8۔اہل سنت کے مشہور محدث بخاری نے نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر نے خوارج کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ: خوارج قرآن مجید کی ان آیات کو کہ جو کفار کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ان کا مصداق مؤمنین کو مانتے ہوئے ان پر احکام کفر جاری کرتے ہیں۔ (صحیح بخارى، کتاب استتابه المرتدین، باب ۵)
نیز ابن عباس سے بھی نقل ہوا ہے کہ: تم ہر گز خوارج کے مانند نہ بن جانا کہ جو کفار و مشرکین کے متعلق نازل شدہ آیات کی تاویل مسلمانوں کے لئے کرتے ہیں اور آیات الہی کے اصل مصداق سے بے خبر تھے لہذا انھوں نے نہ جانے مسلمانوں کا کتنا خون بہایا اور کتنی ثروتوں کو پامال کیا۔  
لہذا اس پہلو سے بھی وہابی خوارج کے شانہ بشانہ نظر آتے ہیں انھوں نے بھی کفار و بت پرستوں کے لئے نازل ہونے والی آیات کو مؤمنین اور مسلمین پر منطبق کیا اور ان کی کتابیں اس تفکر اور نظریہ سے بھری پڑی ہیں اور ان کے عقیدہ کی بنیادہ بھی یہی سب چیزیں ہیں۔
9۔ہمارے مدعٰی کی دلیل کے طور پر ایک اہل سنت اور ایک وہابی کے درمیان گفتگو ملاحظہ فرمائیں:
وہابی: حنبلیوں کی کتابیں ہی وہابیوں کے منابع و مأخذ ہیں پس آپ ان میں سے کن کتابوں کا انکار کرتے ہیں؟ آپ ہم  سے صرف انھیں چیزوں کے متعلق سوال کرسکتے ہیں جو ہماری کتابوں میں موجود ہے اور جو کچھ مخالفین ہمارے متعلق کہتے ہیں اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
سنی: قرامطہ کے متعلق آپ لوگ کیا کہتے ہیں؟
وہابی نے فوراً کہا: وہ تو کافر و ملحد ہیں۔
سنی: قرامطہ کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کا مذہب اہل بیت کا مذہب ہے اور ان کی کتابیں بھی اس بات کو بیان کرتیں ہیں کیا آپ کو اہل بیت کی کتابوں میں حق اور نور کے علاوہ کوئی دوسری چیز نظر آتی ہے؟
وہابی نے کہا: قرامطہ جھوٹ کہتے ہیں، اہل تاریخ قرامطہ کے کفر کو ثابت کرتے ہیں۔
سنی نے کہا: کیا آپ کے پاس مؤرخین کے اقوال کی حجیت کے سلسلہ میں کوئی دلیل موجود ہے؟
وہابی: ہاں! کیوں نہیں؟ خود امام شافعی کی یہ وضاحت موجود ہے کہ مؤرخین کا ایک گروہ کہ جو کسی دوسرے تاریخ داں گروہ سے نقل کلام کرتا ہے وہ محدثین  سے زیادہ بہتر و افضل ہے چونکہ محدث تو اپنی بات صرف ایک ہی شخص سے نقل کردیتا ہے۔
سنی: پس اگر میں وہابیوں کے کفر کے متعلق اہل تاریخ کی بات تسلیم کرلوں تو کوئی مضائقہ نہیں ہوگا اور اسے آپ کو بھی ماننا چاہیئے چونکہ مؤرخین کی نقل کردہ چیزیں تو زیادہ معتبر ہیں۔
یاد رکھئے! انسان کا عمل خود اس کے اوپر دلیل اور حجت ہوتا ہے اگرچہ اس کی زبان اس کی تکذیب ہی کیوں نہ کرے۔
اور قرامطہ چونکہ مسلمانوں کے خون اور مال کو اپنے لئے مباح جانتے ہیں اس وجہ سے ان کے کفر میں کسی کو کوئی شبہہ بھی نہیں ہے۔ اور ہاں! آپ کے بزرگ بھی ایسے ہی ہیں۔
اب یہ سننا تھا تو وہابی آگ بگولہ ہوگیا اور اب اسے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے …
سنی: آپ ان احادیث کے متعلق کیا کہیں گے کہ جو خوارج کے دین سے خارج ہونے اور یہ کہ وہ جہنم کے کتے اور اس آسمان پیر کے سائے میں قتل ہونے والی سب سے بدتر مخلوق ہیں،وغیرہ وغیرہ ؟
وہابی: ان تمام روایات سے تو یہ یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ خوارج دین سے خارج ہوگئے اور غضب الہی کے مستحق قرار پائے۔ لیکن یہ لوگ(خوارج) تو جنگ نہروان میں علی کے مقابل آئے اور سب قتل کردیئے گئے ان میں سے تو کوئی بھی باقی نہیں بچا تھا پس وہابی ان میں سے تو نہیں ہوسکتے۔
سنی: خوارج کیوں غضب خداوندی کے شکار ہوئے، کیا صحابہ نے اپنی نماز و روزوں کو خوارج کی نماز و روزوں کے مقابلے حقیر پایا تھا اور حسد کی بنیاد پر انھیں قتل کردیا ہو؟
وہابی: نہیں !
سنی: کیا وہ اپنے زہد اور پارسائی،یا دنیا سے بے رغبتی نیز زیادہ قرآن مجید پڑھنے کی وجہ سے قتل کئے گئے؟
وہابی: نہیں
سنی: تو ان کو کیوں قتل کیا گیا؟
یہ سوال سن کر اس وہابی کی زبان لکنت کرنے لگی اور وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔
جب اس سنی برادر نے یہ دیکھا کہ اب اس وہابی کے پاس اس کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے تو اس نے یہ کہتے ہوئے فیصلہ کردیا کہ: خوارج اس وجہ سے غضب الہی کی زد میں آئے چونکہ وہ مسلمانوں کے جان و مال کو مباح جانتے تھے،اور اپنے علاوہ سارے مسلمانوں کو کافر گردانتے تھے،اور اس بات میں بھی کسی طرح کا شک نہیں کہ جو ان جیسی صفات کے حامل ہوگا اس کا بھی انجام ایک دن ایسا ہی ہوگا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 july 22