Sunday - 2018 مئی 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191605
Published : 18/1/2018 17:33

بی بی شطیطہ بیدار و با بصیرت لوگوں کے لئے اسوہ

اللہ کے ان صالح بندوں میں سے۔ جنہوں نے اپنے وقت کے امام کے دل کو شاد کیا اور امام معصوم کی دعا جن کے شامل حال ہوئی۔ ایک خاتون بی بی شطیطہ بھی ہیں ،یہ نام بیدار دل، بابصیرت لوگوں کے لئے جانا پہچانا نام ہے،آپ ایک پارسا،نیک سیرت اور پاکیزہ فطرت خاتون تھیں،جن کے پاس قابل توجہ ظاہری مال و اسباب تو نہ تھا لیکن ان کا ایمان و یقین نہایت درجہ مستحکم تھا کہ جو ان کے حسن انجام کا سبب بنا۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو دل و جان سے اپنے امام کے قریب ہوتے ہیں اور اپنی دل و جان سے امام کی نصرت و مدد کرتے ہیں۔وہ اپنے جسم و روح کو  اپنےامام کی منشأ کے مطابق ڈھال لیتے ہیں اور ہمیشہ اپنے امام کے مطیع و فرمانبردار ہوتے ہیں۔
اپنی رفتار و گفتار کو اپنے وقت کے امام کی رضا کے پیمانہ پر پرکھتے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلنا ہی اپنا نصب العین بنا لیتے ہیں۔
ویسے تو اپنے وقت کے امام کی اطاعت ہر اس مسلمان پر فرض ہے کہ جو دنیا و آخرت میں سعادت کا طالب ہے،چونکہ اپنے وقت کے امام کی معرفت کا اطاعت کے ساتھ گہرا رابطہ ہے۔
یعنی جس مقدار میں انسان کی اپنے امام کے تئیں معرفت وسیع ہوگی اسی مقدار میں امام کے فرمان کی اطاعت اور پیروی نیز امام کے سامنے تسلیم کا دائرہ وسیع ہوگا۔
ظاہر ہے یہ عقیدت دینی تعلیمات میں بہت گرانقدر ہے اور اس کی اہمیت اس وقت معلوم ہوتی ہے کہ جب ہمیں رسول خدا(ص) کی یہ نورانی حدیث پڑھنے کو ملتی ہے:«مَن مات ولم یعرف امام زمانِه، ماتَ میته جاهلیّه»۔جو شخص مر جائے اس حال میں کہ وہ اپنے وقت کے امام کو نہ پہچانتا ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔
یہ نورانی حدیث اپنے وقت کے امام کی معرفت نہ ہونے اور پیروی نہ کرنے کو ایک خطرے کے طور پر بیان کرتی ہے تاکہ مسلمان خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں اور اپنی عاقبت و انجام کے بخیر ہونے کے لئے اپنے وقت کے امام کی معرفت حاصل کرکے ہر حال میں ان کی پیروی کرے۔
جناب شطیطہ ایک بیدار دل خاتون
چنانچہ اللہ کے ان صالح بندوں میں سے۔ جنہوں نے اپنے وقت کے امام کے دل کو شاد کیا اور امام معصوم کی دعا جن کے شامل حال ہوئی۔ ایک خاتون بی بی شطیطہ بھی ہیں ،یہ نام بیدار دل، بابصیرت لوگوں کے لئے جانا پہچانا نام ہے،آپ ایک پارسا،نیک سیرت اور پاکیزہ فطرت خاتون تھیں،جن کے پاس قابل توجہ ظاہری مال و اسباب تو نہ تھا لیکن ان کا ایمان و یقین نہایت درجہ مستحکم تھا کہ جو ان کے حسن انجام کا سبب بنا۔
یہ خاتون امام موسیٰ ابن جعفر علیہام السلام کے دور میں زندگی گذارتی تھیں اور امام علیہ السلام کے خاص لطف و عنایت سے بہرہ مند تھیں،لہذا ہم اس معظم خاتون کی شخصیت کو سمجھنے کے لئے ان کی زندگی کی صرف ایک عبرت آموز داستان کا مطالعہ کرتے ہیں:
حق کے مقابل تسلیم ہونے کی ضرورت
نیشاپور کے کچھ لوگ مدینہ منورہ جانے اور امام کاظم علیہ السلام کی زیارت کا قصد رکھتے تھے، چنانچہ ان میں سے ایک شخص علی بن راشد بھی تھا جس نے تمام نیشاپور کے شیعوں سے خمس کی رقم لی تاکہ وہ ان کی نمائیندگی میں خود امام کے دست حق پرست تک پہونچا دیں۔لہذا اہل نیشاپور میں سے جس پر بھی خمس کی رقم تھی اس نے علی بن راشد کو سونپ دی۔
انھیں خمس دینے والوں میں جناب شطیطہ بھی تھیں کہ جن کا کل خمس ایک کپڑا اور ایک درہم تھا چنانچہ انھوں نے علی بی راشد کو دیدیا ۔اور جیسا کہ ظاہر ہے یہ خمس دوسرے خمس دینے والوں کی نسبت نہ ہونے کی برابر تھا لیکن ان کے اس مختصر اور ناچیز مال نے ان کے اخلاص اور امام وقت کی نسبت ان کے فرض شناسی کو ظاہر کردیا۔(1)
چنانچہ علی بن راشد نے شطیطہ کے اس مختصر سے خمس کو دیکھ کر کچھ خجالت محسوس کی ۔(ظاہراً بے دلی سے اسے اپنے ہاتھ میں لیا) چونکہ بی بی شطیطہ نے علی بن راشد کی وجہ خجالت کو محسوس کرلیا تو کہا: حق کا بیان کردینا اور اس کے ظاہر کرنے میں شرم و خجالت کی کوئی بات نہیں ہے۔(2)
خجالت اور شرم آور بات یہ ہے کہ میں مر جاؤں اور امام کا قرض(سہم) میری ذمہ باقی رہے،میرا سہم صرف اتنا ہی ہے اور اس سے زیادہ ادا کرنا مجھ پر واجب ہی نہیں ہے۔
چنانچہ کچھ دن گذرے اور علی بن راشد سفر طئے کرکے مدینہ پہونچ گئے اور نیشاپور کے مؤمنین کی امانتوں کو امام کاظم علیہ السلام کی خدمت میں پیش کردیا لیکن شطیطہ کی امانت انھیں یاد ہی نہ رہی۔
اسی دوران امام کاظم علیہ السلام نے علی بن راشد کو بہت زدہ کرتے ہوئے بی بی شطیطہ کی دی ہوئی وہ امانت طلب کرلی جو وہ اپنے ساتھ نیشاپور سے لائے تھے چنانچہ علی بن راشد نے وہ امانت امام کے سپرد کی امام علیہ السلام نے علی بن راشد سے فرمایا: میرا  سلام اس مؤمنہ تک پہونچا دینا اور اس سے کہنا کہ اس کی عمر ختم ہونے والی ہے اب وہ کچھ دن ہی زندہ رہے گی اور پھر آپ نے ایک کپڑے کا ٹکڑا اور 40 درہم علی بن راشد کو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہ میرے کفن میں سے ایک ٹکڑا ہے یہ اسے دیدینا اور کہنا کہ موسٰی بن جعفر(ع) تمہارے جنازہ پر نماز پڑھنے بھی آئیں گے۔
چنانچہ علی بن راشد جب مناسک حج کی ادائیگی کے بعد نیشاپور لوٹے تو امام علیہ السلام کا پیغام اور تحفہ بی بی شطیطہ کو دیا،بی بی شطیطہ نے اپنے امام کا یہ پیغام سنا تو بہت خوش ہوئیں اور نیشاپور کے لوگوں کو بھی ان کے حال پر بہت رشک ہونے لگا۔
غرض! امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے اس پیغام کے بعد بی بی شطیطہ بہت خوش تھیں اور خود کو اپنے رب حقیقی سے ملاقات کے لئے آمادہ کرنے لگیں۔
چنانچہ علی بن راشد کے حجاز واپسی کے 19 دن کے بعد شطیطہ اس دنیا سے چل بسیں اور بارگاہ الہی میں مہمان ہوئیں۔
لہذا بی بی شطیطہ نے اپنے عمل اور اپنے حسن عقیدہ کی بنیاد پر اپنے وقت کے امام کی رضا حاصل کرلی اور اپنی دنیا اور آخرت کو سعادت مند بنالیا،اور انھوں نے اپنے ایمان و عمل کو اس درجہ پر پہونچایا کہ خود امام معصوم نے انھیں سلام کہلایا اور ان کے جنازے پر نماز پڑھی۔(3)۔وہ خدا سے راضی تھیں اور خدا ان سے راضی تھا چونکہ خدا کی  رضا اپنے وقت کے امام کو راضی رکھنے پر موقوف ہے۔
قارئین کرام! یہ مختصر سا واقعہ اور تاریخ اسلام میں مرقوم دیگر واقعات اور داستانیں اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ امام زمانہ کی معرفت کے سلسلہ میں مرد و عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے بلکہ ہر انسان(چاہے وہ عورت ہو یا مرد)اس عظیم فضیلت(معرفت امام) کو حاصل کرنے میں کوشش کرے لہذا ہم لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ ہم بی بی شطیطہ اور ان جیسے دیگر افراد کی داستان زندگی پڑھیں اور ان کے نجات بخش عمل کو اپنی زندگی کے لئے سرمشق قرار دیں،اور عملی طور پر اپنے کو ان سے قریب کریں چونکہ یہی افراد حقیقت میں سعادتمند اور قرب و رحمت الہی کے منازل پر فائز ہیں۔
یاد رہے کہ بی بی شطیطہ کا مزار شہر نیشاپور میں ہر خاص و عام کے لئے زیارتگاہ ہے کہ جہاں جاکر لوگ ان پارسا و نیک بی بی کی برکتوں سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ منتهی الآمال، ج 2، ص 360 و 361.
2۔ یہ مطلب قرآن مجید کے سورہ احزاب کی آیت:53 کی طرف اشارہ ہے۔
3۔ حدیث نیکان، ص154.



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 مئی 20