Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191620
Published : 20/1/2018 6:21

آل سعود تاوان ادا کرے: گیارہ ستمبر واقعہ کے متأثرہ افراد کے لواحقین کا مطالبہ

امریکا میں گیارہ ستمبر کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف دوبارہ شکایت کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔


ولایت پورٹل:الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل نے خبردی ہے کہ سعودی عرب کے وکلا امریکا کی منہٹن فیڈرل عدالت میں گیارہ ستمبر کے واقعے میں ہلاک ہونے والے امریکی شہریوں کے لواحقین کے ایک گروپ کی ریاض حکومت کے خلاف شکایت کا جواب دینے کے لئے تیسری بار حاضر ہوئے،بتایا جاتا ہے کہ گیارہ ستمبر دوہزار ایک کو نیوریاک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پنٹاگن پر دہشت گردانہ حملوں میں ملوث انیس دہشت گردوں میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے تھا،ان حملوں میں مارے گئےامریکی شہریوں کے لواحقین اور بیمہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت کے کچھ افراد القاعدہ کے ان دہشت گردوں کی حمایت کررہے تھے جنھوں نے گیارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملے انجام دئے تھے،ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور امریکا کی بیمہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت القاعدہ سے وابستہ ایک نام نہاد خیراتی ادارے کی مالی مدد کرتی رہی ہے،گیارہ ستمبر کے حملوں میں مارے گئے لوگوں کے لواحقین کے وکلا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے اسی خیراتی ادارے کے ذریعے دہشت گردوں کی مالی مدد کی تھی،امریکا میں سعودی عرب سے قانونی طور پر یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ گیارہ ستمبرکے حملوں میں ہلاک و زخمی ہونے والوں اور تجارتی مراکز کو پہنچنے والے نقصانات کے عوض اربوں ڈالر کا تاوان ادا کرے،دوسری جانب سعودی عرب نے امریکی عدالت سے اپیل کی ہے کہ گیارہ ستمبر کے واقعے میں سعودی عرب کے کردار کے بارے میں دائر درخواست کو خارج کردیا جائے۔ سعودی عرب کے وکلا نے دعوی کیا ہے کہ ایف بی آئی اور سی آئی اے اب تک ایسے ثبوت اور شواہد پیش نہیں کرسکی ہے جن سے ثابت کیا جاسکے کہ سعودی عرب گیارہ ستمبر کے واقعے میں ملوث افراد کی حمایت کر رہا تھا،اس سے پہلے امریکی جریدے نیویارک پوسٹ نے گیارہ ستمبر کے واقعے کی گیارہویں برسی کے موقع پر شائع ہونے والے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اس واقعے میں سعودی سفارت خانے کے کردار کے بارے میں نئے شواہد اور دستاویزات سامنے آئے ہیں،بہت سے سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اندرون ملک اور بیرون ملک سعودی عرب کی سرگرمیوں سے واضح ہوتا ہے کہ خطے اور دنیا میں سرگرم زیادہ تر دہشت گرد یا تو سعودی شہری ہیں اور یا پھر سعودی عرب کے وہابی نظریات سے متاثر ہیں اور انہیں آل سعود حکومت کی مالی اور فوجی حمایت حاصل رہی ہے،گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد امریکی کانگریس نے اس واقعے کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی اور اس کمیٹی کے ذریعے اس سلسلے میں رپورٹ بھی دس سال قبل جاری کردی گئی تھی لیکن سعودی عرب سے مربوط حصے کو ابھی تک خفیہ رکھا گیا ہے۔
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22