Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191639
Published : 20/1/2018 19:32

حقوق والدین کی وسعت

امام جعفر صادق(ع) سے روایت ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک رکھو اور ان کی ضرورت کو پورا کرو،اور اپنی آواز کو ان کی آواز پر بلند نہ کرو ،اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ سے اونچا نہ کرو، اپنا قدم ان کے قدم کے آگے نہ بڑھاؤ۔

ولایت پورٹل: والدین کی اطاعت فرض ہے۔یہاں تک کہ بچوں کا مستحبات شرعیہ کا بجالانا بھی والدین کی اجازت کے بغیر صحیح نہیں ہوسکتا ہے ،البتہ اگر واجبات کے لئے والدین منع کریں تو اولاد پر ان کی اطاعت واجب نہیں ہے بلکہ حرام ہے کیونکہ خدا کا حق والدین کے حق پر مقدم ہے۔
منقول ہے کہ بدبخت ہے وہ اولاد جس کو والدین کی خدمت کرنے کا موقع ملے اور و ہ خدمت نہ کرے۔ امام جعفر صادق(ع) سے روایت ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک رکھو اور ان کی ضرورت کو پورا کرو،اور اپنی آواز کو ان کی آواز پر بلند نہ کرو ،اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ سے اونچا نہ کرو، اپنا قدم ان کے قدم کے آگے نہ بڑھاؤ۔ آنحضرت نے فرمایا: فرزند پر باپ کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے باپ کا نام لے کر نہ بلائے، سامنے نہ چلے ،اس سے پہلے نہ بیٹھے اور اس کو گالی نہ دے۔ روایت میں ملتا ہے کہ ایک شخص دین نصاریٰ چھوڑ کر مسلمان ہوا اور حج پر گیا وہاں امام جعفر صادق(ع) کی زیارت سے مشرف ہوا اور اپنی ماں جو نابینا تھی اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا :تو اپنی ماں کی خدمت کیا کر، وہ کہتا ہے کہ میں حج سے واپس آکر ماں کی خدمت میں مشغول ہوگیا، اسے کھانا اپنے ہاتھوں سے کھلاتا تھا ،اس کے کپڑے صاف کرتا تھا اور اس کی ہر ممکن خدمت کرتا تھا تو ماں نے پوچھا بیٹا جب تک تو میرے مذہب پر تھا تونے میری خدمت کم کی لیکن جب سے تونے دین اسلام قبول کیا ہے میری خدمت اب بہت زیادہ کرنے لگا ہے تو میں نے کہا ماں میرے نبی(ص)کی اولاد میں سے ایک بزرگ نے یہی حکم دیا ہے تو ماں نے پوچھا کیا وہ نبی ہیں تو میں نے کہا نہیں بلکہ وہ نبی کی اولاد میں سے ہیں تو پھر ماں نے کہا بیٹا یقیناً وہ نبی ہی ہوں گے ،کیونکہ یہ چیز انبیاء(ع) کی وصیتوں میں سے ہے تو میں نے کہا ماں ہمارے آخری نبی محمد مصطفی(ص) کے بعد اور کوئی نبی نہیں ہے، یہ ان کے فرزند ہیں ،پس ماں نے کہا بیٹا تیرا دین اچھا ہے، لہٰذا مجھے بھی اپنا دین سکھا ،چنانچہ میں نے اس کو دین سکھایا اور وہ مسلمان ہوگئی۔ اور پھر ظہر و عصر مغرب و عشاء یہ چارنمازیں اس نے پڑھیں اور رات میں کسی عارضہ میں مبتلا ہوئی اور آخری وقت میں پھر اصول دین کا اقرار کیا اور مرگئی۔ تمام مسلمان اس کی تجہیز و تکفین میں شامل ہوئے اور میں نے خود اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
قارئین کرام! اس روایت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر امام(ع) اس شخص کو اپنی ماں کی خدمت کے لئے نہ کہتے تو وہ اپنی ماں کی خدمت نہ کرتا لہٰذا امام نے اس سے کہہ کر اور اس نے اپنی ماں کی خدمت کرکے ماں کو راہ نجات دکھا دی کہ یہ دین اسلام کس قدر بہتر اور اچھا ہے کہ جس میں ماں باپ کی خدمت کا بھی حکم دیا جاتا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20