Friday - 2018 Oct. 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191649
Published : 21/1/2018 16:39

فرمانبردار اولاد

رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا: میں اور علی(ع) اس امت کے باپ ہیں اور ہمارے حقوق ان پر ان کے والدین سے زیادہ ہیں کیونکہ اگر وہ ہماری اطاعت کریں گے تو ہم انہیں جہنم سے نکال کر جنت میں پہنچائیں گے اور غلامی سے نکال کر آزادی دلائیں گے، پس ظاہری اور باطنی اطاعت کے بغیر خدا کی خوشنودی حاصل نہیں ہوسکتی۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے گذشتہ کالم میں والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کی حدود کے متعلق بیان کیا تھا جبکہ آج کے اس مضمون میں ہم یہ کوشش کریں گے کہ والدین کی فرمانبردار اولاد کے متعلق گفتگو کریں چنانچہ ہمارے گذشتہ مضمون کو شروع سے پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
حقوق والدین کی وسعت
گذشتہ سے پیوستہ: حضرت امام محمد باقر(ع) سے مروی ہے کہ بعض اوقات انسان زندگی میں والدین کا فرماں بردار ہوتا ہے اور وہ جب مرجاتے ہیں تو ان کا نافرمان بن جاتا ہے کیونکہ نہ ان کا کوئی قرض ادا کرتا ہے،نہ ان کے لئے کوئی کار خیر انجام دیتا ہے اور نہ ہی ان کے لئے استغفار کرتا ہے،پس وہ شخص دفتر عدل خداوندی میں نافرمان لکھاجاتا ہے اور بعض انسان ایسے ہوتے ہیں جو ماں باپ کی زندگی میں ان کے نافرمان ہوتے ہیں لیکن ان کا انتقال ہونے کے بعد ان کے قرضے ادا کرتے ہیں،ان کے لئے کار خیر انجام دیتے ہیں اور استغفار کرتے ہیں تو وہ دفتر عدل خداوندی میں والدین کے اطاعت گزار لکھے جاتے ہیں۔
چنانچہ حضرت امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہیں کہ: تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اپنے والدین کے ساتھ احسان نہیں کرتے چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ۔ تو تم ان کی طرف سے نماز پڑھو، حج کرو اور صدقہ دو۔ اس لئے کہ اگر ان کے مرنے کے بعد تم یہ اعمال بجالائے تو اس کا فائدہ تمہارے والدین کو تو ملے گا ہی ساتھ ہی خود تمہیں بھی اس کا اجر ملے گا، اور اگر زندہ ہوں تو ان کی اطاعت کرو۔
یہ لفظ  والدین کی ظاہری تفسیر تھی، اب ذرا اس کی باطنی تفسیرو تاویل ملاحظہ فرمائیں۔
امام جعفر صادق(ع) سے مروی ہے کہ:«وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً» کی تفسیر میں آپ(ع) نے فرمایا کہ والدین سے مراد حضرت رسول خدا اور حضرت علی مرتضیٰ علیہما السلام ہیں۔
حضرت امام حسن عسکری(ع) سے مروی ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ تمہارے افضل، اور زیادہ شکر کے مستحق حضرت محمد مصطفیٰ اورحضرت علی مرتضیٰ ہیں،مولائے کائنات(ع) نے فرمایا کہ میں نے رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ وہ فرماتے ہیں:
اَنَا وَعَلِیٌّ اَبَوَا ھٰذِہِ الْاُمَّةِ»۔
ترجمہ:میں اور علی(ع) اس امت کے باپ ہیں اور ہمارے حقوق ان پر ان کے والدین سے زیادہ ہیں کیونکہ اگر وہ ہماری اطاعت کریں گے تو ہم انہیں جہنم سے نکال کر جنت میں پہنچائیں گے اور غلامی سے نکال کر آزادی دلائیں گے، پس ظاہری اور باطنی اطاعت کے بغیر خدا کی خوشنودی حاصل نہیں ہوسکتی۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Oct. 19