Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191651
Published : 21/1/2018 17:29

کوفہ میں خطبہ حضرت زینب(س) اور احیائے تہذیب اہل بیت(ع)

اہل کوفہ نے توابین و مختار کے قیام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا نیز علمی میدان میں بھی قابل قدر کارکردگی کا مظاہرہ کیا چنانچہ امام سجاد و امام باقر و صادق علہیم السلام کے اکثر صحابی اور شاگردوں میں کوفیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

ولایت پورٹل: حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے باوفا اصحاب کی بر وقت مدد نہ کرکے اگرچہ کوفیوں نے ایسا گھناؤنا کام اور عظیم گناہ انجام دیا تھا کہ جو رہتی دنیا تک بھلایا نہیں جاسکتا اور جس کو شاید تاریخ میں جرم کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا لیکن حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبات کے ذریعہ ایسا انقلاب برپا کیا کہ کوفہ کی آنے والی نسلوں میں ایسی تبدیلی رونما ہوئی کہ جنہوں نے علی کی شیر دل بیٹی کے کلام سے الہام لیتے ہوئے کمال کی جانب قدم بڑھائے چونکہ شہزادی زینب(س) نے کوفیوں کی زمین دل پر ایسے علم کے پودے لگائے کہ جو آگے چل کر اسلام کے ثمر آور درختوں میں تبدیل ہوگئے۔
جی ہاں ! کوفہ کے شیعوں نے اہل بیت(ع) ۔(امام علی امام حسن اور امام حسین(ع)) کی نسبت جس سرد مہری کا اظہار کیا تھا وہ اس پر حد درجہ پشیمان ہوئے لہذا انہوں نے کوفہ کے  بہت سے سیاسی انقلابات میں فعال کاکردگی کرکے اہل بیت(ع) کی نظر میں اپنے وقار رفتہ کو بحال کرنے کے لئے تدابیر کی۔ چنانچہ انھوں نے توابین و مختار کے قیام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا نیز علمی میدان میں بھی قابل قدر کارکردگی کا مظاہرہ کیا چنانچہ امام سجاد و امام باقر و صادق علہیم السلام کے اکثر صحابی اور شاگردوں میں کوفیوں کی بڑی تعداد موجود تھی لہذا ابو العباس سفاح کے دور میں جو فرصت امام صادق علیہ السلام کو نصیب ہوئی آپ کوفہ تشریف لائے چنانچہ آپ نے بہت سے کوفی شاگردوں کی تربیت فرمائی۔(کوفه و نقش آن در قرون نخستین اسلامی، ص 56)۔
ہاں! سن ۶۱ ہجری میں جناب زینب سلام اللہ علیہا کے شعلہ بیان خطبوں نے کوفیوں میں روح ایمان کو حیات جدید عطا کی اور آپ کی ان زحمتوں نے تقریباً50  برس کے بعد پھل دیا لہذا ہم ذیل میں کوفہ کی ان کچھ بزرگ شخصیات کا تذکرہ کررہے ہیں جنہوں نے تہذیب اہل بیت(ع) کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ  اسے نشر بھی کیا۔
1ـ ابراهیم بن حیّان اسدی کوفی.
2ـ بشربن غالب اسدی کوفی.
3ـ ثابت بن دینار معروف به ابوحمزه ثمالی.
4ـ سعید بن جبیر کہ جو بعد میں مکہ آکر رہنے لگے (امام سجاد علیہ السلام کے شاگردوں میں تھے)۔
5 ـ منهال بن عمرو اسدی.
6ـ مفضل بن عمر کوفی .
7ـ عبداللّه بن ابی یعفور عبدی کوفی.
8 ـ زرارة بن اعین.
9ـ ام اسود بنت اعین شیبانی۔(یہ زراۃ بن اعین کی بہن تھیں)۔
10 ـ ام خالد عبدی ۔(رجال شیخ طوسی، یاران امام سجاد،باقر،صادق علیہم السلام، زنان دانشمند و راوی،ص 298)۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22