Sunday - 2018 مئی 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 191654
Published : 21/1/2018 19:20

دو مؤمن بھائیوں کے درمیان ناراضگی کے برے نتائج

امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے: خدا رحمت کرے اس شخص پر کہ جو ہمارے چاہنے والوں میں سے دو بچھڑے ہوؤں کے درمیان صلح کروائے،اے مؤمنوں! ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے کی کوشش کرو۔
ولایت پورٹل: اسلامی تعلیمات کی رو سے ایک مؤمن کے اپنے دوسرے مؤمن بھائی کے ذمہ کچھ حقوق ہیں اگر ان حقوق کی رعایت نہ کی جائے،یا دو مؤمن بھائیوں کے درمیان کچھ گفت و شنید کے بعد جدائی ہوجائے تو اس کے بہت سے براے نتائج مرتب ہوسکتے ہیں چنانچہ ہم محمد و آل محمد علیہم السلام کی احادیث کے تناظر میں اس موضوع کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:
پیغمبر اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا: اگر دو مؤمن ایک دوسرے سے ناراض ہوں اور ایک دوسرے سے دور رہیں اور 3 دن اسی حالت میں گذر جائے اور وہ آپس میں صلح و دوستی کو بحال نہ کریں تو وہ اسلام کے دائرے سے باہر نکل جاتے ہیں۔ لیکن ان میں سے جو بھی پہلے صلح کے لئے ہاتھ بڑھائے  گا وہ جنت میں پہلے داخل ہوگا۔(۱)
نیز آنحضرت(ص) سے ایک دوسری حدیث میں مروی ہے کہ: کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے  مسلمان بھائی سے 3 دن سے زیادہ دور اور ناراض رہے۔(۲)
اور اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ : کوئی بھی دو لوگ(مسلمان) ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے مگر یہ کہ وہ لعنت کے مستحق بن جاتے ہیں،اسی وقت ایک شخص نے عرض کیا: فرزند رسول! ان کے درمیان جو مظلوم ہوگا وہ کیونکر مستحق لعنت قرار پائے گا؟ آپ نے فرمایا: اس لئے کہ وہ کیوں اپنے مؤمن بھائی کو صلح کے لئے نہیں بلاتا اور اس سے گفتگو کرنے کی شروعات نہیں کرتا چونکہ میں نے اپنے والد محترم امام باقر علیہ السلام سے سنا ہے کہ جب دو افراد آپس میں جھگڑا کرتے ہیں اور ان میں سے کوئی ایک ناراض ہوجائے تو مظلوم  فرد کو دوسرے کے پاس جاکر یہ کہنا چاہیئے: اے بھائی! میری غلطی ہے اور میں نے ہی ظلم کیا ہے۔ تاکہ ان دونوں کے درمیان نزاع ختم ہوجائے اور بے شک خدا حاکم عادل ہے اور وہ ظالم سے مظلوم کا حق ضرور لے گا۔(۳)
اور امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: خدا رحمت کرے اس شخص پر کہ جو ہمارے چاہنے والوں میں سے دو بچھڑے ہوؤں کے درمیان صلح  کروائے،اے مؤمنوں! ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے کی کوشش کرو۔(۴)
مؤمن سے ناراضگی کے برے نتائج:
۱۔خسارہ:
خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: «الَّذِینَ ینْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِهِ وَیقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ یوصَلَ وَیفْسِدُونَ فِی الْأَرْضِ أُولَئِک هُمُ الْخَاسِرُونَ»۔(بقره:۲۷)۔
ترجمہ: فاسق وہ لوگ ہیں جو خدا کے ساتھ مضبوط عہد کرنے کے بعد بھی اسے توڑ دیتے ہیں اور جسے خدا نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹ دیتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقتاً خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
لہذا اس آئیہ کریمہ میں قطع رابطہ و عہد کا ایک مصداق اپنے بھائیوں سے تعلقات قطع کرلینا بھی ہے لہذا اس عمل کو فسق اور فساد کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
۲۔مستحق دوزخ:
پیغمبر اکرم(ص) ارشاد فرماتے ہیں:« یا أَبَاذَرٍّ أَنْهَاک عَنِ الْهِجْرَانِ وَ إِنْ کنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلَا تَهْجُرْهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَیامٍ کمَلًا فَمَنْ مَاتَ فِیهَا مُهَاجِراً لِأَخِیهِ کانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ‏»۔(۵)۔
ترجمہ: اے ابوذر! میں تمہیں اپنے بھائی سے ناراضگی اور دوری سے منع کرتا ہوں اگرچہ تم اس سے دور ہوجانے پر مجبور ہی کیوں نہ ہو تب بھی اس سے 3 دن سے زیادہ ناراض نہ رہنا،پس جو بھی اپنے بھائی سے ناراضگی کی حالت میں مرجائے جہنم کی آگ اس کے لئے زیادہ مناسب ہے۔
۳۔ قاتل ہونا:
پیغمبر اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا:«من هجر أخاه سنة فهو کسفک دمه»۔(۶)۔جو شخص ایک برس تک اپنے بھائی سے ناراض رہے گویا اس نے اسے قتل کیا ہے۔
نتیجہ:مؤمنین کو ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تعلقات بحال رکھنے چاہیئے اور اگر آپسے کوئی مؤمن ناراض ہوگیا ہے اس سے صلح کریں،اگر اس کا کہیں پتہ نہ ہو اس کے لئے دعا کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ کافی، ج ۲، ص ۳۴۵، ح ۵۔
۲۔ محجة البیضاء، ج ۳، ص ۳۶۲۔
۳۔کافی، ج ۲، ص ۳۴۴۔
۴۔کافی، ج ۲، ص ۳۴۵، ح ۶۔
۵۔ بحار الانوار ، ج‏۷۲ ص ۱۸۴ و   ج‏۷۴  ص ۷۲  ۔
۶۔سابق حوالہ۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 مئی 20